آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ16؍جماد ی الثانی 1440ھ 22؍ فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ آج سے 22 سال قبل 25 دسمبر جمعہ کا واقعہ ہے کہ نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد چودھری ظہور الٰہی ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کو چھوڑنے ماڈل ٹائون ان کی رہائش گاہ جا رہے تھے۔ ان کی مرسڈیز بی بلاک کی طرف موڑی کہ وہاں گھات میں بیٹھے دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں چودھری صاحب اور ان کا ڈرائیور موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ مولوی مشتاق حسین اور جناب رحمن ایڈووکیٹ زخمی ہو گئے ان کی موت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح شہر میں پھیل گی ہزاروں افراد ان کی اقامت گاہ پہنچ گئے میں اس وقت رپورٹنگ کیا کرتا تھا۔ میں نے بہت سے سیاستدانوں سے رابطہ کر کے ان کے تعزیتی پیغامات لئے ۔ نوابزادہ نصراللہ خان لاہور میں تھے۔ ان کو فون کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک واقعہ ہے ہم ایسی دہشتتگردی کی مذمت کرتے ہیں جب ان کے آگے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں نے مذمت اور تعزیت کر دی ہے۔ اتنا ہی کافی ہے۔ مجھے ان جیسی شخصیت کے اس ردعمل پر تعجب بھی ہوا اور افسوس بھی کہ میں نے مولانا فضل الرحمن سے اس کا گلہ کیا جس کا مولانا فضل الرحمن نے نوابزادہ صاحب مرحوم سے ذکر کیا۔ نوابزادہ صاحب سے میرا عقیدت و نیاز مندی کا تعلق تھا۔ کہنے لگے کہ میں کہیں جانے کے لئے کار میں بیٹھ رہا تھا آپ کے فون پر واپس آیا اور تعزیتی پیغام

دیا۔ یہ درست نہیں کہ میں تعزیت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب سہ پہر گلبرگ میں ان کی کوٹھی سے گجرات جانے کے لئے جنازہ اٹھا تو ایک غریب شخص جس کے کپڑوں میں سفیدی کے نشانات نمایاں تھے اور وہ راج مزدور تھا دھاڑیں مار کر رو رہا تھا کہ ’’میرا محسن بچھڑ گیا ہے‘‘ چودھری ظہور الٰہی کا یہ حسن تھا کہ وہ بلا امتیاز سب کے دوست اور ہمدرد تھے۔ مستحق اور ضرورتمند خصوصاً طالب علموں کی بڑی مدد کیا کرتے۔ بہت سی بیوائیں اور یتیم بچے تھے جن کی کفالت کرتے تھے اور بہت سے غریب سیاسی کارکن بھی ایسے تھے جنہیں نہایت رازداری سے اس طرح ’’ماہانہ نذرانہ‘‘ دیا جاتا کہ دوسرے ہاتھ کو بھی علم نہ ہو۔ مجھے ذاتی طور پر علم ہے ان میں سے بعض بعد میں وزیر، مشیر اور وزیر اعلیٰ بھی بنے۔ یہ درست ہے کہ چودھری ظہور الٰہی فیلڈ مارشل ایوب خان کی مسلم لیگ کے(کنونشن( میں نہ صرف شامل رہے بلکہ مسلم لیگ اسمبلی پارٹی کے سیکرٹری جنرل بھی تھے لیکن یہ وہ دور تھا جب تحریک پاکستان کے نامور قائدین بھی جن میں چودھری خلیق الزمان، مولوی تمیز الدین خان، محمد علی بوگرہ، فضل القادر چوہدری شامل تھے۔ ایوب دور میں وزیر، سپیکر قومی اسمبلی بھی بنے۔ بھٹو دور میں جب پیپلز پارٹی مغربی پاکستان میں عوامی تحریک بن کر ابھری تھی اور بڑے بڑے سیاسی رہنما الیکشن ہار گئے چودھری ظہور الٰہی گجرات سے منتخب ہوئے اور بھٹو دور میں ’’انتقام و نفرت‘‘ سے دوچار ہوئے۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ یہ قابل ذکر بات ہے کہ ایوب دور میں مغربی پاکستان کے گورنر نواب امیر محمد خان کالا باغ ان کے خلاف ہو گئے اور ان پر کئی مقدمات قائم کئے گئے۔ اس وقت چودھری صاحب پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے چیئرمین تھے چند خبروں کی بنیاد پر نواب صاحب مرحوم کو یہ باور کرایا گیا کہ چوہدری ظہور الٰہی ان کی جگہ مغربی پاکستان کے گورنر بننے کی سازش کر رہے ہیں۔ بھٹو دور کا سب سے اہم اور افسوسناک واقعہ یہ ہے کہ بلوچستان کے علاقہ کوہلو میں اسلحہ سمگلنگ کا ایک مقدمہ درج ہوا انہیں وہاں لے جا کر ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ کہتے ہیں کہ غلام جیلانی ملک کو ایک بے نامی فون کال موصول ہوئی۔ ان سے کہا گیا کہ ’’آپ کے دوست چودھری ظہور الٰہی کی زندگی خطرے میں ہے اسے بچائو‘‘ غلام جیلانی ملک صاحب نے سردار شیر باز مزاری سے رابطہ کیا (جو اس وقت کے گورنر بلوچستان نواب اکبر بگٹی کے قریبی عزیز تھے، اور ان سے کہا کہ وہ نواب صاحب سے بات کریں اور خود بھی نواب اکبر بگٹی کو فون کیا اور کہا کہ چودھری ظہور الٰہی کو کاہلو لے جانے سے روکا جائے۔
گورنر بلوچستان کے حکم پر چودھری ظہور الٰہی کو بلوچ پولیس نے پنجاب پولیس سے اپنی تحویل میں لے لیا اور اس طرح چودھری ظہور الٰہی اس گہری سازش سے بچ گئے۔ اس وقت سردار عبدالوکیل خان لاہور میں اعلیٰ پولیس افسر تھے ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ درج کرانے میں اس وقت کے صدر مملکت کی آشیر باد بھی شامل تھی۔
قومی اتحاد نے 1977 میں جب حکومت کے خلاف عوامی تحریک چلائی تو چودھری ظہور الٰہی اس کے صف اول کے لیڈروں میں شامل تھے اور قومی اتحاد کے اجلاسوں کی میزبانی بھی کیا کرتے تھے۔ آخر میں ایک اور واقعہ سن لیجئے جنرل ضیاء کے دور میں جب وہ وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت تھے تو انٹیلی جنس اداروں نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو رپورٹ دی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے راولپنڈی میں ایک ہوٹل کے ایک کمرے سے میر مرتضیٰ بھٹو سے ایک گھنٹہ سے زائد فون پر بات کی ہے۔ میر مرتضیٰ بھٹو ان دنوں الذوالفقار تنظیم کے سربراہ اور کابل میں مقیم تھے۔ ایک اطلاع پر صدر ضیاء شدید برہم ہوئے اور حکم دیا کہ جس شخص کے کمرے سے یہ فون کیا گیا ہے اسے سخت ترین سزا دی جائے۔ اتفاق سے یہ شخص ریکروٹنگ کا کاروبار کرتا تھا جو وزارت محنت کے ماتحت تھا چنانچہ متعلقہ ادارہ حرکت میں آگیا لیکن چوہدری ظہور الٰہی نے نہ صرف محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف کارروائی نہیں ہونے دی بلکہ اس شخص جس کا نام سید دائود شاہ تھا کو بھی کڑی سزا سے بچا لیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں