• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیسوی صدی کے معتبر ترین نقاد... ڈاکٹر فرمان فتح پوری

جدید اُردو شاعری ہو یا رومانی شاعری یاترقی پسندانہ سوچ۔ نظم یانثری اسالیب پر یہ تمام بدلتے زاویئے ہر دور میں زیرِ تنقید رہے ہیں۔ اِن تمام تخلیقات پر صرف اورصرف ایک بالغ نظر نقّادہی اپنی مثبت رائے کا اظہارکرسکتا ہے کہ جو اپنے وسیع مطالعے اورباریک بینی سے ادبی نگارشات کاجائزہ لیتااور مثبت یامنفی تنقید کا اظہار کرتا ہے۔ اُردو زبان کے معتبر نقّاد، ڈاکٹر فرمان فتح پوری کاشمار بھی ذی فکر ماہرِ انتقادیات میں ہوتا تھا۔ 

اُن کے یہاں موضوعات کا جتنا حیرت انگیز تنوّع پایا جاتا تھا، اس کا واحد سبب اُن کا وسعتِ مطالعہ تھا۔ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تنقید اور تحقیق میں وہ اردو ادب کے ایک معتبر حوالے کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ شاعری، افسانوں، داستانوں اور تذکروں کے علاوہ ادب کی جملہ اصناف اور متعدد اسالیب سمیت غالب، انیس، اقبال، نیاز، حسرت اور جوہر کے بارے میں بھرپور اعتماد اور انتہائی پختگی کے ساتھ اس طرح لکھتے کہ ان کے مضامین نامانوس اصطلاحات وتراکیب سے بوجھل نہیں ہوتے۔ اُن کی تحریر میں بے انتہا سلاست و روانی تھی۔

اُردو زبان کے نام وَر محقّق اور نقّاد ڈاکٹر فرمان فتح 26 پوری جنوری 1926ء کو فتح پور، اُترپردیش، بھارت میں پیداہوئے۔ اُن کا اصل نام سیّد دلدار علی تھا۔ ابتدائی تعلیم گھرپر والد اور چچا سے حاصل کی۔ علاوہ ازیں، قرآن کریم اور فارسی کی ابتدائی تعلیم کے ساتھ مصدرنامہ، گلستان بوستان بھی گھر ہی پر پڑھیں۔ 1946ء میں مدرسۃ الاسلامیہ فتح پور سے میٹرک 1948ء میں ایف اے اور 1950ء میں آگرہ یونی ورسٹی سے گریجویشن کیا۔ 

بعدازاں، ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے اورکراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ 1958ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے اُردو میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد قانون کی ڈگری حاصل کی اور جامعہ کراچی ہی میں تدریس سے منسلک ہوگئے۔ تعلیمی میدان میں مسلسل کام یابی کے دوران اُردو میں منظوم داستانوں پر تحقیق کرکے 1965ء میں پی ایچ ڈی کے حق دار ٹھہرے، جب کہ وقیع تحقیقی کام ’’اُردو شعراء کے تذکرے اور تذکرہ نگاری‘‘ پر 1974ء میں انھیں اعلیٰ ترین سَند ’’ڈی لٹ‘‘ سے نوازا گیا۔ واضح رہے کہ یہ سَند جامعہ کراچی اور پاکستان بھرمیں پہلی ’’ڈی لٹ‘‘ ڈگری تصور کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، گراں قدر خدمات کے عوض حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا۔

ڈاکٹرفرمان فتح پوری کا شمار وسیع المطالعہ، وسعتِ خیال کے حامل اور بنیادی محقّق کے طور پر ہوتا تھا۔ پاکستان اور مُلک سے باہر بھی اُن کی انتقادی تحریریں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ وہ علاقائی زبانوں کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی، انگریزی اور اُردو زبان پر عبور اور لسانیات پربھی گہری دسترس رکھتے تھے۔ جامعہ کراچی کے شعبۂ اُردو کے سربراہ اور اردو لغت بورڈ کے مدیرِ اعلیٰ بھی رہے۔ 

ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی تنقید کا شمار بے لاگ تنقید میں کیا جاتا تھا۔ انھوں نے جدیدیت، مابعد جدیدیت، کلاسیکی روایات، رومانویت اور ترقی پسندی پر حتی الامکان رہنمائی فرمائی۔ اُن کے تنقیدی مضامین کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ تحریر کا مکمل تجزیہ کرتے وقت غیرضروری تفصیل اوربے جاطوالت سے اجتناب برتتے تھے۔ ڈاکٹرفرمان فتح پوری کے اندازِ تنقید کو کسی گروہ یاعصبیت میں شمارنہیں کیا جاسکتا۔ 

الطاف حسین حالی کی متعّین کردہ راہوں کوجہاں آگے بڑھانے میں نیازفتح پوری اوراحتشام حسین نے احسن خدمات انجام دیں، وہیں ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے بھی گو کہ ماضی کے اکابرین کااعادہ کیا، مگر خود پر کسی کی تقلید کی چھاپ نہیں لگنے دی اوردَم بہ دَم، عہد بہ عہد اپنا اسلوب واضح کرتے چلے گئے۔ انھوں نے پچاس سے زائد کتب تصنیف کیں، جو اُردو ادب کے محققّین اورطلبہ کے لیے مشعل ِراہ ہیں۔ اِن کتب میں انھوں نے متعدد ادبی اکابر کے شعری ونثری محاسن کاجائزہ لیااوراپنی گراں قدرتنقید کے ذریعے ادب کے شعبۂ تنقید میں مستند اضافہ کیا۔ اِن اکابرین میں میرتقی میر، غالب، اقبال اور فیض احمد فیض کا مطالعہ انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔

ڈاکٹرفرمان فتح پوری کے بارے میں معروف شاعر، نقّاد و دانش وَر، سحر انصاری کہتے ہیں، ’’ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا کام دنیا بھر میں جانا مانا گیا، وہ تنقید اور زبان کے میدان میں اپنا ایک علیٰحدہ تشخص قائم کرنے میں کام یاب رہے۔ وہ نہ صرف زبردست حافظے کے مالک تھے، بلکہ یکے بعد دیگرے پچاس دوہے سنانے کے ساتھ یہ بھی بتاتے چلے جاتے تھے کہ اُسے کب اورکس نے لکھا۔ ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کے بعد وہ دوسرے پروفیسر تھے، جنہیں جامعہ کراچی نے پروفیسر ایمریٹس بنایا۔ 

اگرچہ موجودہ دَور میں بھی متعدد نوجوان تنقید کے میدان میں آرہے ہیں، جس سے اردو ادب کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے، تاہم جس پایے کا کام ڈاکٹر فرمان فتح پوری کر رہے تھے، اُس تک پہنچنے میں ابھی ان نقّادوں کو کئی برس درکار ہوں گے۔ وہ جس تَن دہی سے تنقیدی مضامین اور تحقیقی مقالات لکھ رہے تھے، اس محنت سے اس میدان میں کوئی کام کرتا دکھائی نہیں دیتا۔‘‘ معروف ترقی پسند ادیبہ، زاہدہ حنا کے مطابق ’’تنقید اور تحقیق کے میدان میں ڈاکٹرفرمان فتح پوری انتہائی قدآور شخصیت کے حامل تھے، ندرتِ خیال اور باریک بینی کے لحاظ سے اُردو زبان کے پاس اُن کے پائے کے نقّاد نہیں۔‘‘

’’نگار، پاکستان‘‘ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی ادارت میں شایع ہونے والا اردو کا بہترین ادبی جریدہ تھا۔ یہ علامہ نیازفتح پوری کے ’’نگار‘‘ ہی کا تسلسل تھا، جس کا اجراء فروری1922ء میں آگرہ، بھارت سے ہوا۔ ’’نگار، پاکستان‘‘ میں چھپنے والی نگارشات اُردو ادب میں سند کادرجہ رکھتی ہیں۔ انھوں نے پاک وہندکے علمی وادبی اثاثے کاجی بھر کے مطالعہ کیا۔ نیز، تہذیبی، ثقافتی، تاریخی اور قومی اقدار و روایات کو اپنی نگارشات میں بہت سہل زبان میں اس طرح بیان کیا کہ ایک عام قاری بھی مطالعے کے دوران اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ 

فن ِتنقید کی نئی راہیں اور جدید رجحانات اُن کی تحاریر کا خاصّہ تھیں۔ ان کے یہاں مشرقی ومغربی انتقادات میں تقابل سے پتا چلتا ہے کہ وہ موضوع کے مباحث میں تجزیہ اور محاکمہ اِس انداز سے پیش کرتے تھے کہ اُن کانظریہ مزید واضح اورمدلّل ہوجاتا۔ بعض اوقات ضرورت کے تحت انداز طویل بھی ہوجاتا، مگر یہ طوالت بے جا محسوس نہیں ہوتی تھی۔ انھوں نے پوری زندگی بے تکان اورتسلسل سے لکھا،ان کی تحریروں میں کہیں بھی موضوع اور بیان میں یک سانیت محسوس نہیں ہوتی۔ 

نئے منطقی استدلال کے ساتھ اعلیٰ وارفع ادبی نکات کو اس طرح مقدّم رکھا کہ اپنی تحریرکو معیار سے گرنے دیا، نہ ہی تنقید کو خشک سالی کا شکار ہونے دیا۔ یہی اُن کی تنقیدی بصیرت کی کام یابی کی دلیل ہے اور اسی سبب اکابرین کی نظر میں اُن کی تنقید نگاری کا اسلوب، افادیت، مقصدیت اور اثرآفرینی نہایت دل کش اورشائستہ قرار پائی۔ 

انہوں نے پچاس سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں، جن میں تحقیق و تنقید، اردو رباعی کا فنی و تاریخی ارتقاء، ہندی اردو تنازع، غالب، شاعرِ امروزِ و فردا، زبان اور اردو زبان، دریائے عشق اور بحرالمحبت کا تقابلی مطالعہ، اردو املا اور رسم الخط جیسی مستند کتب شامل ہیں۔

ساری عمر ادب کی آب یاری کرنے والا یہ معتبر نقّاد 3 اگست 2013ء کو کراچی میں انتقال کرگیا۔ ایسے یادگارِ زمانہ لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، بلاشبہ وہ نایاب تھے۔

سنڈے میگزین سے مزید