• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: مسلم شمیم

صفحات: 121، قیمت: 200روپے

ناشر: نقش پبلی کیشنز، مدینہ پلازا، سعید منزل، کراچی۔

مسلم شمیم کم و بیش 60برس سے مملکتِ شعر و اَدب میں علم و فن کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے اَدبی سفرکا آغاز شاعری سے کیا، غزل بھی لکھی، لیکن نظم ہمیشہ اُن کی ترجیحات میں شامل رہی۔ اِن دونوں حوالوں سے اُن کی متعدّد کتابیں منظرِعام پر آچُکی ہیں۔ ایک ترقّی پسند دانش وَر کی حیثیت سے اُن کی نمایاں شناخت ہے۔ انجمنِ ترقّی پسند مصنّفین پاکستان کے مرکزی صدر بھی رہے۔ اگرچہ وہ جسمانی طور پر کم زور ہوگئے ہیں، لیکن ذہنی اورفکری لحاظ سے آج بھی تن درست و توانا ہیں۔ پیرانہ سالی کے باوجود اُن کا قلمی سفر جاری ہے۔ 

زیرِنظر کتاب میں انہوں نے ہندوستان کی پانچ مسلم شخصیات مرزا غالب، سرسیّد احمد خان، مولانا الطاف حسین حالی، علّامہ اقبال اور قائدِاعظم محمّد علی جناح کی فکر کے روشن پہلوئوں کو اُجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب اس لیے زیادہ اہم ہے کہ اس سے پہلے کسی دانش وَر نے اس زاویے سے سوچا ہی نہیں۔ مذکورہ شخصیات کے حوالے سے موضوع کی تفہیم کے لیے دو مضامین ضمیمے کے طور پر بھی شامل کیے گئے ہیں۔ مصنّف نے سرسیّد احمد خان کو نشاۃِ ثانیہ کا رُوحِ رواں قرار دیا ہے کہ انہوں نے نئے عہد کی روشنی سے اپنی سماجی زندگی روشن کی۔ 

مصنّف کا کہنا ہے کہ ’’مسدّسِ حالی‘‘ سرسیّد تحریک کا منشور کہلانے کا استحقاق رکھتی ہے، جو سرسیّد کی فرمایش پہ لکھی گئی۔ کتاب کا انتساب، بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کی تحریک کے نام کیا گیا ہے۔ مسلم معاشرہ آئے دِن فرقہ واریت اور مذہبی انتہاپسندی کے واقعات سے دوچار رہتا ہے۔ مسلم نشاۃِ ثانیہ مختلف نوعیت کےتضادات کا شکار ہے، اس صُورتِ حال میں یورپ میں نشاۃِ ثانیہ کے سفرِ اِرتقا کو قابلِ رشک قرار دیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا پانچ شخصیات کے نظریات و افکار کا ماحصل مسلم نشاۃِ ثانیہ کی معنویت و اہمیت کا پرچار ہے۔ 

دُنیا کےمسلم مُمالک اگر سنجیدگی سے اِس راہ پر گام زن ہو جائیں، تو مسلم معاشرے میں ایک نئے عہد کا آغاز ہو جائے۔ کتاب کا پیش لفظ ’’اندھیرے میں روشن چراغ‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر توصیف احمدخان نے تحریر کیا ہے، البتہ فلیپ پر خرّم سہیل کی رائے اتنی اہم ہے کہ اُسے دیباچے کے طورپر شایع کیا جانا چاہیے تھا۔ آخر میں کتاب کے مؤلف اکبر خان کیانی نے مصنّف کا تفصیلی تعارف بھی پیش کیا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید