آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میاں محمد شریف بھارتی پنجاب کے ایک گائوں جاتی عمرہ میں پیدا ہوئے۔ اپنے باقی چھ بھائیوں کے لاڈلے بھائی تھے۔ اپنے باقی بھائیوں کی طرح قیام پاکستان سے قبل ہی لاہور میں قسمت آزمائی کے لئے آگئے ۔ ابتدائی تعلیم کے ساتھ محنت مزدوری بھی کرتے رہے تمام بھائیوں کے لاڈلے تھے اس لئے ان کو سب بھائی ــ ’’ بائو‘‘ کہتے تھے، سب چاہتے تھے کہ اُن کا یہ بھائی تعلیم حاصل کرے ، ہماری طرح مزدوری نہ کرے ۔ یہ سب بھائی ایک ہندو کے ہاں بھٹی پر ملازم تھے اور مٹی اور توڑ ی سے بھرے ٹوکرے اٹھاتے تھے ۔ پھر ایک دن ان کے بھائیو ں کا ’’ بائو‘‘ سے ٹوکرا اٹھانے پر ہندو سے جھگڑاہوگیا ۔ بائو جی نے پانچ سو روپے کسی سے ادھار لے کر ایک بھٹی خریدی اور سات بھائیوں کے چودہ ہاتھوں نے مل کر کام شروع کر دیا یہ لوگ دن رات کو بھول گئے ۔
اتفاق اور اتحاد کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان کے کاروبا ر کو جمع کی بجائے ضرب کی شکل میں ترقی دی اور یہ ساٹھ کے عشرے میں اتفاق فائونڈری کی شکل میں پاکستان کے بہت بڑے فولادی کارخانے کے مالک بن گئے ۔ 1972ء میں اس فائونڈری کو اُس وقت کی حکومت نے قومی تحویل میںلے لیا۔خاندان کے سب لوگ پریشان تھے کہ اب کیاکیا جائے، سب کے کاروبار ختم ہو گئے لیکن اس باہمت شخص نے اگلے روز صبح ہی معمول کے مطابق شہباز شریف سے کہا کہ ’’ شہباز تیا ر

ہوجائو‘‘ کام پر جانا ہے ۔ شہباز نے پوچھا کون سا کام ؟ ہمارے پاس تو کچھ نہیں رہا ۔ جواب دیا ، دفتر موجود ہے آئو چلتے ہیں نئے کام کا آغاز کرتے ہیں ۔ اس فولادی شخص نے جاوید پرویز کارپوریشن اور پھر بعدمیں نواز شہباز لمیٹڈ کے نا م سے کاروبار شروع کر دیا اور دو تین سال کے اندر ہی پھر اپنے پائوں پر کھڑے ہو گئے حالانکہ اُس وقت کی حکومت نے ان کے کاروبار کو تباہ کرنے کے میںکوئی کسر نہ ا ٹھا رکھی تھی۔ بینکوں تک کے دروازے بند کر نے کی کوششیں کی گئی مگر انسان کے عظیم حوصلے اور یقین کے آگے تمام رکاوٹیں ڈھیر ہو جاتی ہیں۔ کچھ ہی عرصے میں اتفاق برادر اور اتفاق ٹیکسٹائل، اتفاق شوگر مل لگاڈالی ۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں اتفاق فائونڈری اُن کو واپس مل گئی اس طرح میاں صاحبان کی یہ محنت ایک بڑے صنعتی گروپ میں تبدیل ہو گئی۔ اس دور میں میاں شریف صاب نے اپنے بڑے بیٹے میاں نواز شریف کو میدان سیاست میںاتا را ان ہی کی راہنمائی میںمیاں نواز شریف ترقی کرتے چلے گئے۔ پہلے وزیر پھر د و بار وزیر اعلیٰ اور پھردوبار وزیراعظم منتخب ہوئے۔ میاںشہباز شریف بھی دو بار وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔ میں اُن چند لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے میاں شریف کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔
میاں شریف صاحب نہ صرف خود پابند ِصوم وصلوٰۃ تھے بلکہ تمام خاندان کے لئے بھی یہی حکم تھا۔اپنے سات گھروں کیساتھ ایک مسجد اور ایک مدرسہ بھی بنایا، میاں شریف غریبوں ، بیوائوں اور یتیموں کی امداد اس طرح کرتے کہ دوسرے ہاتھ کو بھی علم نہ ہوتاتھا۔ میاں صاحب باقاعدگی سے اتفاق ہسپتال آتے اور ہر مریض کے پاس جاکر اُس کی عیادت کرتے اور اُس کا مفت علاج اور مالی مدد فرماتے ۔ ایک دفعہ ایک عورت نے اپنے علاج کے لئے میاں صاحب کو درخواست دی انہوں نے موقع پر ہی اس کا فری علاج کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ اس دوران ایک عہدیدار نے میاںصاحب کو بتایا کہ وہ عورت اخلاقی طور پر ٹھیک نہیں اس بات کا میاں صاحب نے برا منایااور کیا جو میرے اختیار میں تھا میں نے وہ کر دیا ہے باقی معاملات خدا جانے ۔فروری 1997ء میں شریف میڈکل سٹی اور انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھی گئی اس پر تقریباًایک ارب روپے کا خرچہ آیا اور 1998ء میں اس نے کام شروع کردیا۔ اس وقت میاں صاحب کی زیادہ توجہ شریف میڈکل سٹی کی طرف ہو گئی ۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ ہسپتال جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے اور اس میں اتنا ہی رش ہو جتنا اتفاق ہسپتال میں ہوتا۔ اس ہسپتال کے سامان کی خریداری کے لئے انہوں نے اپنے پوتے حسین نواز کو دنیا کے کئی ملکوںمیں بھیجا تا کہ جدید ترین سامان خریدا جائے ۔ساری زندگی انہوں نے اپنی جیب میں ایک روپیہ بھی نہ رکھاجیب میں ہمیشہ ایک پین اور چھوٹا سا کاغذ کا ایک ٹکڑا نوٹ کرنے کے لئے ہوتا تھاساری زندگی رات کو سونے سے پہلے اپنے جوتے خود پالش کیا کرتے تھے ۔
12اکتوبر 1999کے فوجی انقلاب کے وقت میاں شریف صاحب کے بیٹوں اور پوتوں کو قیدو بند کی صعوبتوں سے گزارا گیا۔میاں شریف کو ان کے گھر پر ہی قید کر دیا گیا۔ میں واحد شخص ہوں جو اس واقعے کے بعد 19اکتوبر کو اُن سے ملا ان کے چہرے پر کسی قسم کی کوئی پریشانی اور تشویش نہ تھی۔میںنے خیریت دریافت کی تو جواب میں مسکراہٹ تھی ۔ یہ وہ وقت تھا جب میاں نواز شریف، میاںشہباز شریف اور حسین نواز سے ان کے خاندان کا کوئی رابطہ نہیں تھا ۔ وہاں میری ملاقات حسین نوازکی بیوی اور ساس سے بھی ہوئی جو کہ حسین نواز کے بارے میں فکر مند تھی کہ وہ کہا ںہیں۔ اس ملاقات میں بھی وہ دونوں ہسپتالوں کے بارے میں پوچھتے رہے ۔ میاں صاحب ایک زبردست بلند حوصلہ ، اور آہنی عزم کے مالک تھے 20اکتوبر 1999ء کو آرمی نے ان کی رہائش گاہ پر ہی مجھے Detain کیا اور ایک بڑے قافلے کی شکل میں مجھے میاں صاحب کے گھر سے محفوظ پورہ لاہور کینٹ میں ایک ریسٹ ہائوس میں لے جایا گیا جہاں 36دن جنرل مشرف کی حکومت اور اُن کی ایجنسیاں کارروائیاں کرتی رہیں۔ رہائی کے بعد میاں صاحب نے مجھے حوصلہ دیا وہ کبھی میاںنواز شریف اور میاں شہباز شریف سے ملنے جیل نہ گئے وہ حکومت کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ نہ وہ جذباتی ہیں نہ کمزور ۔مضبوط قوت ارادی اُن کی شخصیت کا جوہر تھا۔ پھر 10دسمبر 2000ء کو وہ دن آیا جب سارے خاندان کو سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا ۔ غریب الوطنی کے اس دور میں بھی مرد آہن نے ہار نہ مانی اور سعودی عرب میں بھی ایک سٹیل مل لگائی ۔ وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔ 29اکتوبر2004ء کو جمعہ کے روزشام کے وقت اُن کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ان کی نماز جنازہ حرم پاک میں ادا کی گئی ۔اور لاہور میں جاتی عمرہ میں دفن کیاگیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں