ڈاکٹر شاہ جہان کھتری، حیدرآباد
پپیتا، جسے انگریزی میں Papaya کہتے ہیں، وٹامنز، منرلز اور کئی مفید اجزاء سے مالا مال پھل ہے۔ اس میں موجود وٹامنز جیسے وٹامن اے، ای اور سی کئی جِلدی امراض، خاص طور پر کیل مہاسوں اور جھائیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ پپیتا، کھانا ہضم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، پھر اس میں اینزائمز، فائبر سمیت کئی ایسے اجزاء بھی پائے جاتے ہیں، جو معدے کے السر، تیزابیت اور قبض سے تحفّظ فراہم کرتے ہیں۔ پپیتے کا استعمال نہ صرف بریسٹ اور پروسٹیٹ کینسر، بلکہ کیموتھراپی کے مضراثرات سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ قوّتِ مدافعت بڑھاتا ہے۔
اگر بیمار افراد اس کا استعمال کریں، تو امیون سسٹم کو تقویت ملتی ہے، نتیجتاً مریض جلد صحت یاب ہوجاتا ہے۔ پپیتے کے پتّوں سے کشید کیا گیا عرق، کئی امراض، خصوصاً ذیابطیس کے لیے اکسیر ہے کہ اس کے استعمال سے مرض کنٹرول رہتا ہے اور لبلبے میں انسولین زائد مقدار میں بنتی ہے۔ نیز، زخم بَھرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس پھل کے پتّوں کا عرق پینے سے خون پتلا ہوجاتا ہے، جب کہ بُلند فشارِ خون اور کولیسٹرول پر بھی کنٹرول رہتا ہے۔اس کے علاوہ یہ عرق بالوں کے کئی مسائل کے لیے بھی اکسیر ثابت ہوتا ہے، جیسے بال گرنا، گنج پَن اور خشکی وغیرہ۔
یہ عرق بالوں کی افزایش بڑھاتا ہے اور انہیں نرم و ملائم بھی رکھتا ہے۔ اس کی اسی خصوصیت کی بنا پر اسے ’’نیچرل کنڈیشنر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ پپیتے کا متواتر استعمال بینائی بہترکرتا ہے۔ نیز، اس کے بیج بھی افادیت میں کسی سے کم نہیں۔ ان میں موجود پوٹاشیم، گُردے صاف رکھتا ہے، جب کہ کریٹینن (Creatinine) اور یورک ایسڈ بھی کنٹرول رہتا ہے۔ پپیتا اینٹی ملیریا دوا بھی ہے کہ اس میں موجود بعض اجزاء جہاں اس مرض سے صحت یابی میں معاون ثابت ہوتے ہیں، وہیں ملیریا سے متاثر ہونے سے محفوظ بھی رکھتے ہیں۔
پپیتا کئی طریقوں سے استعمال کرسکتے ہیں، جیسا کہ اکثر گھروں میں گوشت گلانے کے لیے کچّا پپیتا یا اس کا سفوف استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر بطور پھل مشروبات، جام اور آئس کریم میں ذائقے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ بعض گھروں میں کچے پپیتے کی سبزی بھی بنائی جاتی ہے۔