بات چیت: منور راجپوت
ہیپاٹائٹس پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والے امراض میں شامل ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد اس کے سبب جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور عوام کو اِس مرض کی سنگینی اور بچاؤ کی تدابیر سے آگاہ کرنے کے لیے ہر سال 28 جولائی کو انسدادِ ہیپاٹائٹس کا عالمی یوم منایا جاتا ہے۔ اِسی مناسبت سے گزشتہ دنوں ڈاؤ میڈیکل کالج اور ڈاکٹر رُتھ کے ایم فاؤ، سِول اسپتال کراچی، کے ڈیپارٹمنٹ آف میڈیسن اینڈ گیسٹرو انٹرولوجی کے سربراہ ،پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ عباسی کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام، اسباب اور علاج معالجے کے ضمن میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ڈاکٹر امان اللہ عباسی نے 1997ء میں سندھ یونی ورسٹی، جام شورو سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد 2004ء میں ایف سی پی ایس، 2008ء میں ایم آر سی پی اور 2012ء میں ایف آر سی پی کی اسناد حاصل کیں۔ بعدازاں، ممبر آف امریکن کالج آف گیسٹرو انٹرولوجی اور ممبر آف رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز(گلاسگو) کی ڈگریز بھی لیں۔ بطور سینئر رجسٹرار(کنسلٹنٹ فزیشن)2004ء سے 2011ء تک جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر سے منسلک رہے۔
اس کے بعد 2015ء میں ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر( چئیرمین ریسرچ کمیٹی) وابستگی اختیار کی اور 2021ء تک مختلف کلیدی عُہدوں پر کام کیا۔ اور اب دسمبر 2021ء سے تاحال بطور پروفیسر اور سربراہ، شعبہ میڈیسن اینڈ گیسٹرو انٹرولوجی، ڈاؤ میڈیکل کالج اور ڈاکٹر رُتھ کے ایم فاؤ سِول اسپتال میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ گیسٹرو انٹرولوجی اور ہیپاٹائٹس کے شعبوں میں بہترین کارکردگی پر متعدّد قومی و بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چُکے ہیں۔
اَن گنت کانفرنسز، سیمینارز میں شرکت کا اعزاز رکھتے ہیں۔ شعبۂ طب کی کئی بین الاقوامی آرگنائزیشنز کے رُکن ہیں،جب کہ ان کے لاتعداد تحقیقی مقالہ جات بھی مختلف بین الاقوامی جرنلز کا حصّہ ہیں۔ اُن کے ساتھ ہونے والی اِس نشست کا احوال جنگ، سنڈے میگزین کے قارئین کی نذر ہے۔
س: سب سے پہلے تو یہ بتائیے کہ ہیپاٹائٹس ہے کیا؟
ج: سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ جگر کے خلیات میں انفیکشن یا سوزش کو ہیپاٹائٹس کہتے ہیں۔ اِس مرض میں جگر کا سائز بڑھ جاتا ہے اور اس میں درد ہونے لگتا ہے۔ یرقان کی لپیٹ میں آنے کے سبب متاثرہ فرد کی بھوک ختم ہو جاتی ہے۔اُس کے جسم، خاص طور پر جوڑوں میں درد شروع ہوجاتا ہے،جب کہ اُسے کم زوری بھی محسوس ہونے لگتی ہے۔
اگر کسی کو ہیپاٹائٹس بی یا سی لاحق ہو جائے، تو اس صُورت میں جگر سُکڑنے لگتا ہے اور جب جگر سُکڑ جائے، تو اس سے نسوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، یہاں تک کہ مرض کی شدّت کی صُورت میں نسیں پَھٹنے لگتی ہیں اور مریض کو خون کی اُلٹیاں ہونے لگتی ہیں۔جب کہ اگر بروقت تشخیص یا علاج نہ ہو، تو ہیپاٹائٹس بی، سی یا ڈی جگر کے سرطان میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔
س: ہیپاٹائٹس کی کتنی اقسام ہیں اور ان میں سے کون سی زیادہ خطرناک ہے؟
ج: عمومی بات کی جائے، تو ہیپاٹائٹس کی تقریباً تمام ہی اقسام خطرناک ہیں کہ ان سے انسانی صحت کے لیے شدید مسائل پیدا ہوتے ہیں۔البتہ، پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی بہت عام ہونے کے ساتھ نہایت خطرناک بھی ہے کہ اس میں جگر کے سکڑنے سے بہت سی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔اِس ضمن میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کی ویکسین بھی دست یاب نہیں۔ اِس کے بعد ہیپاٹائٹس بی کا نمبر آتا ہے، تاہم اس کی ویکسین موجود ہے اور یہ ویکسین لگوانے والا شخص ہیپاٹائٹس ڈی( ڈیلٹا وائرس) سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
س: پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی کیا صُورتِ حال ہے اور اس کا سبب کیا ہے؟
ج: ہمارے ہاں ہیپاٹائٹس کی شرح تقریباً پانچ فی صد ہے۔ اِس ضمن میں ایک نہایت ہی تشویش ناک بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں ہیپاٹائٹس سی کی شرح کبھی تین، چار فی صد ہوا کرتی تھی، وہاں اب یہ بڑھتے بڑھتے20فی صد تک پہنچ چُکی ہے۔ان علاقوں میں جیکب آباد، گھوٹکی، رحیم یار خان، خان پور کٹورا اور خانیوال وغیرہ شامل ہیں۔ اِس پٹّی میں ہیپاٹائٹس کی شرح زیادہ ہونے کی مختلف وجوہ ہوسکتی ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہاں جگہ جگہ سڑکوں کے کنارے بیٹھے حجاموں کی وجہ سے یہ مرض پھیل رہا ہے کہ وہ آلودہ آلات استعمال کرتے ہیں۔
اِسی طرح حکیمی ادویہ بھی اِس مرض کے پھیلاؤ کا ایک اہم سبب ہیں، جب کہ اتائیوں سے علاج معالجہ کروانے والے بھی ہیپاٹائٹس کا شکار ہو رہے ہیں کہ وہ ایک ہی سرنج سے کئی کئی مریض نمٹا دیتے ہیں۔نیز، کان، ناک چھیدنے والے یا جسم پر ٹیٹوز وغیرہ بنانے والے بھی آلودہ اوزار استعمال کرتے ہیں، جن سے ہیپاٹائٹس سمیت کئی امراض جنم لے رہے ہیں۔حکومت کے ای پی آئی پروگرام میں ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین بھی شامل ہے، مگر لوگ اس طرف توجّہ نہیں دیتے۔زیادہ دُور کیوں جائیں، ہم اپنے گھروں ہی میں دیکھ لیں کہ کتنے افراد نے یہ ویکسین لگوا رکھی ہے۔
جب ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین باآسانی دست یاب ہے، جو ڈیلٹا وائرس (HDV) سے بھی تحفّظ فراہم کرتی ہے، تو سب ہی کو یہ ویکسین لگوانی چاہیے۔جب کہ ہیپاٹائٹس اے اور ای کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ آلودہ غذاؤں، ناصاف پانی کا استعمال ہے۔پورے مُلک، خاص طور پر سندھ میں دیکھیں کہ بہت کم افراد صاف پانی کی اہمیت اور پانی صاف کرنے کے درست طریقوں سے واقف ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ پانی اُبال کر پئیں۔منرل واٹر ضروری نہیں ہے،کیوں کہ ایک تو ہر شخص منرل واٹر افورڈ نہیں کرسکتا اور پھر یہ کہ مارکیٹ میں منرل واٹر کے نام سے ملنے والے پانی پر بھی سوالات اُٹھتے رہے ہیں۔
پھر ہمارے ہاں سبزیاں عام طور پر اچھی طرح یعنی صاف پانی سے نہیں دھوئی جاتیں، جب کہ کھانا بھی پوری طرح پکا ہوا نہیں ہوتا۔پھر یہ بھی دیکھیں کہ غربت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہر شخص کے لیے گوشت یا دیگر پروٹینز سے بھرپور غذاؤں کا حصول آسان نہیں رہا، تو اُن میں ایسی قوّتِ مدافعت نہیں ہے کہ وہ اِس طرح کے وائرسز کے خلاف مزاحمت کرسکیں۔علاوہ ازیں، خون عطیہ کرنے یا کسی کے لگوانے کا معاملہ بھی نہایت اہم ہے۔اِس طرح کے معاملات میں ہمیشہ کسی اچھی لیبارٹری ہی کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں۔
ایک اہم مسئلہ منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں خوف ناک اضافے کا بھی ہے،جو سڑکوں پر گروہوں کی صُورت بیٹھے خود کو انجیکشنز لگا رہے ہوتے ہیں۔ شاید غربت کی وجہ سے ڈیپریشن کی شرح بڑھ رہی ہے، لوگوں کو بہت سی معاشی و سماجی مشکلات درپیش ہیں،تو وہ ان سے فرار کے لیے منشیات کے عادی ہو رہے ہیں۔قصّہ مختصر، یہی تمام مسائل مُلک میں ہیپاٹائٹس کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں۔
س: کسی شخص کو کیسے اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہیپاٹائٹس کی کسی قسم کا شکار ہو چکا ہے؟
ج: ہیپاٹائٹس اے اور ای کی علامات تو ہمیں نظر آجاتی ہیں، جیسے آنکھوں میں پیلاہٹ، بھوک کا نہ لگنا، جسم میں درد، بخار، اسہال کی کیفیت، مگر ہیپاٹائٹس بی، سی اور ڈی’’ خاموش قاتل‘‘ ہیں کہ ستّر فی صد کیسز میں ان کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور جب تک بلڈ ٹیسٹ نہ کر لیا جائے، اُس وقت تک ان کی موجودگی کا علم نہیں ہوپاتا۔ بیش تر کیسز میں مریض، ڈاکٹرز کے پاس اُس وقت لائے جاتے ہیں، جب پورا جگر متاثر ہوچُکا ہوتا ہے، مریض خون کی اُلٹیاں کر رہا ہوتا ہے، اُس کا پیٹ پانی سے بَھرا ہوتا ہے، اُس پر بے ہوشی طاری ہوتی ہے یا خدانخواستہ اُسے جگر کا سرطان لاحق ہو چُکا ہوتا ہے۔
اِسی سلسلے میں ایک اور اہم بات یہ کہ ہمارے ہاں اب ہیپاٹائٹس کے مقابلے میں فیٹی لیور، یعنی جگر پر چربی یا ورم کا مرض بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے، کیوں کہ لوگ کاربو ہائیڈریٹ زیادہ استعمال کر رہے ہیں، کھانے پینے میں کوئی احتیاط برتنے پر آمادہ نہیں اور اُن کے پاس ورزش کے لیے بھی وقت نہیں۔ واضح رہے کہ اگر کسی کو فیٹی لیور کا مرض لاحق ہو، تو آگے چل کر اُس کا جگر سُکڑ بھی سکتا ہے۔ بہرحال، ہیپاٹائٹس بی اور سی محض علامات کے ذریعے شناخت نہیں کیے جاسکتے، اُن کے لیے ٹیسٹ کروانا لازم ہے۔
س: ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام کے علاج سے متعلق بتائیے کہ کیا طریقۂ کار ہے اور علاج میں کام یابی کا تناسب کتنے فی صد ہے؟
ج: اگر ہیپاٹائٹس بی اور سی کی تشخیص جَلد ہوجائے، تو اِن دونوں کا علاج دست یاب ہے،لیکن اگر تشخیص بروقت نہ کی گئی یا علاج میں تاخیر ہوئی ،تو پھر پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔جب جگر سُکڑ جائے، تو پھر اس کا حل صرف پیوند کاری ہی ہوتا ہے۔ تشخیص کے لیے ضروری ہے کہ مُلک کی پوری آبادی، یعنی24 کروڑ افراد کا بلڈ ٹیسٹ کروایا جائے۔ ہیپاٹائٹس بی کا علاج زندگی بَھر چلتا ہے،جیسے شوگر کی دوا پوری زندگی لینی ہوتی ہے، اِسی طرح ہیپاٹائٹس بی کی دوا بھی مستقل کھانی پڑتی ہے۔
ہیپاٹائٹس سی کے علاج کا دورانیہ پہلے ایک سال تھا، پھر چھے ماہ ہوا اور اب تین ماہ تک آگیا ہے۔ اس کے لیے اورل میڈیسن دست یاب ہے، جب کہ ڈیلٹا وائرس کے انجیکشنز دست یاب ہیں، جو ہفتے میں ایک دن اور سال بَھر لگتے ہیں، مگر اُن کا ریسپانس40 فی صد سے زیادہ نہیں۔ ہیپاٹائٹس سی کے علاج میں کام یابی کی شرح95 فی صد سے بھی زاید ہے اور بی کی بھی یہی صُورتِ حال ہے کہ اگر پابندی سے دوا لی جاتی رہے۔نیز، پچھلے دنوں خبر آئی ہے کہ ڈیلٹا وائرس کی بھی اورل میڈیسن تیار ہوچُکی ہے، جو جَلد ہی پاکستان میں بھی دست یاب ہوگی۔
س: اگر کسی ڈاکٹر کے پاس کوئی ایسا مریض آتا ہے، جس کے ہیپاٹائٹس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہو، تو اُسے فوری طور پر کیا کرنا چاہیے؟
ج: میرے خیال میں تو اگر ڈاکٹرز کے پاس عام امراض، جیسے نزلہ زکام، کھانسی یا بخار کے مریض بھی آ رہے ہوں، تو اُن کے بھی ہیپاٹائٹس بی اور سی کے ٹیسٹس ضرور کروانے چاہئیں۔
س: پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے علاج معالجے کے ضمن میں دست یاب سہولتوں کی کیا صُورتِ حال ہے؟
ج: حکومتِ سندھ کا ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام اِس ضمن میں بہت فعال ہے اور اِسی کے تحت کراچی کے سِول اسپتال میں ہیپاٹائٹس سی اور بی کا علاج مکمل طور پر مفت کیا جاتا ہے۔ اِس پروگرام میں حکومتِ سندھ کو مختلف این جی اوز کی معاونت بھی حاصل ہے۔ اس پراجیکٹ کے ڈائریکٹر حیدرآباد میں بیٹھتے ہیں۔
اِسی طرح جناح اسپتال، کراچی میں بھی ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے لیے علاج معالجے کی سہولتیں دست یاب ہیں، جو زیادہ تر این جی اوز فراہم کرتی ہیں کہ یہ اسپتال وفاق کے ماتحت رہا ہے اور سندھ حکومت نے اب اس کے معاملات دیکھنے شروع کیے ہیں۔ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ جب تک لوگوں کے ٹیسٹ نہیں ہوں گے، ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا پتا نہیں چل سکے گا۔علاج کا مرحلہ تو پھر اُس کے بعد کا ہے۔
س: کیا ہیپاٹائٹس کی وجہ سے جسم کے دیگر اعضا بھی متاثر ہوسکتے ہیں؟
ج: اگر جگر سکڑ جائے، تو اس کی وجہ سے معدے پر دباؤ بڑھتا ہے، نسیں پُھولنے کے سبب پھٹ پڑتی ہیں اور خون کی اُلٹیاں ہونے لگتی ہیں۔اِسی طرح جسم سے فاضل مادوں کے اخراج کے مقام کی نسیں بھی پَھٹ سکتی ہیں۔متاثرہ شخص پر بے ہوشی طاری ہو سکتی ہے اور پیٹ میں پانی بَھر سکتا ہے۔
س: اگر کسی گھرانے میں ہیپاٹائٹس بی یا سی کا کوئی مریض ہو، تو اہلِ خانہ کو کیا کرنا چاہیے؟
ج: سب سے پہلے تو تمام گھر والوں کے بلڈ ٹیسٹ کروا کر اُن کی ویکسی نیشن کروانی چاہیے۔ یاد رہے کہ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کے تمام اسباب کا اب تک مکمل طور پر علم نہیں ہوسکا ہے۔90فی صد ماہرین کا خیال ہے کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی استعمال شدہ سرنجز سے پھیلتے ہیں، جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ ان کے وائرس پسینے، آنسو، تھوک میں بھی موجود ہوتے ہیں۔
اس تناظر میں یہ بات مناسب معلوم ہوتی ہے کہ ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے برتن، شیونگ کٹس، نیل کٹرز وغیرہ احتیاطاً الگ کردینے چاہئیں۔نیز، اِس مرض سے متاثرہ حاملہ خواتین کا بے حد خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ مریضہ کے ساتھ بچّے کا بھی تحفّظ کیا جاسکے۔
س: ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام سے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے کیا تجاویز دیں گے؟
ج: ایک تو یہ کہ میڈیا کو آگے آنا ہوگا کہ اُس کی عام آدمی تک رسائی ہے۔ اگر اخبارات بہتر سمجھیں ،تو وہ ہر ہفتے کوئی ایسا اشتہار دے سکتے ہیں، جس سے عوام ہیپاٹائٹس کی ویکسین کی اہمیت سے آگاہ ہوسکیں۔ پھر یہ کہ بڑے شہروں میں روزانہ سیکڑوں پروگرامز ہوتے ہیں، اُن میں بھی ہیپاٹائٹس بی اور سی کے ٹیسٹ کا پیغام جانا چاہیے۔ نیز، تعلیمی اداروں کے سربراہان کو طلبہ کے طبّی ٹیسٹ کا پابند کیا جائے۔
سرکاری ملازمین کے لیے یہ لازم قرار دیا جائے کہ جو ہیپاٹائٹس بی اور سی کے ٹیسٹ نہیں کروائے گا، اُسے تن خواہ نہیں ملے گی،جیسے کورونا وبا کے دَوران ہوا کہ ویکسین نہ لگوانے پر تن خواہ روکنے کی دھمکی کام کر گئی تھی۔ دراصل، ہمیں یہ کام بہت سنجیدگی سے کرنے ہوں گے۔ عالمی ادارۂ صحت نے اعلان کیا تھا کہ 2030ء تک دنیا سے ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ کردیا جائے گا، مگر یہ کام تب ہی ہوگا، جب ہم مریضوں تک پہنچیں گے اور اُن کے ٹیسٹ کریں گے۔
س: عموماً مریض سرکاری اسپتالوں کی بجائے نجی اسپتالوں کا رُخ کرنا کیوں پسند کرتے ہیں؟
ج: ایک تو سرکاری اسپتالوں میں رش بہت ہوتا ہے اور مریضوں کو دو، دو گھنٹے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے، جب کہ ہماری قوم جَلد باز ہونے کے ساتھ شارٹ کٹ کی بھی عادی ہے۔دوم، یہ کہ حکومتیں اپنے اداروں کو زیادہ مینٹین نہیں رکھ پاتیں،جیسے بیٹھنے کے لیے نشستوں کا مناسب انتظام، صفائی ستھرائی، تربیت و تہذیب یافتہ عملہ وغیرہ۔
جب کہ نجی ادارے اِس جانب زیادہ توجّہ دیتے ہیں، تو لوگ ان اسپتالوں کا رُخ اِس لیے بھی زیادہ کرتے ہیں کہ اُن کے خیال میں وہاں مریض کا زیادہ توجّہ اور تفصیل سے معاینہ کیا جاتا ہے، حالاں کہ یہ سو فی صد درست بات نہیں ہے۔ ویسے جب سے منہگائی میں اضافہ ہوا ہے، زیادہ تر لوگوں کا رجحان سرکاری اسپتالوں کی طرف بڑھ گیا ہے۔