• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسلح تنظیمیں: مسلم دنیا کی بقا کے لیے بڑا خطرہ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جس قسم کی کشیدگی چل رہی ہے، وہ کئی بار باقاعدہ حملوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان ایک بار پھر ٹی ٹی پی اور دوسری ملیشیاز اور دہشت گرد گروپس کی پناہ گاہ بن چُکا ہے۔ کل وہاں القاعدہ تھی، تو آج داعش، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سب ہی موجود ہیں، جن کی سرپرستی افغان عبوری حکومت اور بھارت کرتے ہیں۔ یہ گروہ بے گناہ بچّوں،عورتوں پر حملے کرتے ہیں۔

پاکستان بار بار افغان حکومت کو توجّہ دِلانے کے ساتھ، تنبیہہ بھی کرتا رہا کہ اُس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اُسے دوحا مذاکرات کی شرائط یاد دلائیں، احسانات گنوائے گئے، مذہب کا واسطہ دیا گیا، قبائل، برداری کے رشتے ناتے یاد دلائے، لیکن یہ دہشت گرد گروپس، ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغان حکومت نہ صرف ان دہشت گرد گروپس کو پناہ دے رہی ہے، بلکہ اُن کی مدد بھی کرتی ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب بھی پاکستان اِن گروپس کے ٹھکانوں پر حملہ کرتا ہے، تو جواب میں طالبان حکومت جوابی کارروائی کر کے ثابت کرتی ہے کہ وہ ان دہشت گرد گروپس کے ساتھ ہے۔ یہ دہشت گرد عام شہریوں کو ڈھال بنانے کے لیے اُن کے گھروں میں پناہ لیتے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اُن کے جھانسے میں آجاتی ہیں۔

یورپ، امریکا، روس، چین اور دنیا کے بیش تر ممالک پاکستان کے حقِ دفاع کی کُھلے عام حمایت کرتے ہیں اور دہشت گرد گروپس پر افغان سرزمین کے اندر گھس کر حملے جائز قرار دیتے ہیں۔ تکلیف دہ اور قابلِ مذمّت حقیقت یہ ہے کہ احسان فراموش افغان حکومت، پاکستان کی نشان دہی کے باوجود اِن گروپس کے خلاف کسی کارروائی پر آمادہ نہیں۔ امریکا نے دوحا معاہدے کے تحت افغانستان سے اپنی فوجیں نکالیں، تو پاکستان میں نہ صرف اِسے خوش آئند اقدام کہا گیا، بلکہ خوشی بھی منائی گئی کہ اب وہاں ایک ایسی حکومت قائم ہوگی، جو پاکستان کا ساتھ دے گی، مگر وہ ہمارا ساتھ کیا دیتی، خود اپنا ساتھ دینے کے قابل نہیں۔

پاکستان گزشتہ پچاس سال سے افغانستان کی ہر سطح پر حمایت کرتا رہا ہے۔لاکھوں افغان پناہ گزین یہاں کے باسیوں کے محنت کے پھل میں شریک ہوتے رہے۔ یہ کہنا کہ یہ اقوامِ متحدہ یا مسلم برداری کے تحت پاکستانیوں کا فرض تھا، بالکل لایعنی بات ہے کہ افغانستان کے اردگرد دیگر مسلم ممالک بھی تو ہیں، جن کے ان کے ساتھ صدیوں پرانے قبائلی اور لسانی رشتے ہیں۔

کیا ایران، سینٹرل ایشیا سے تعلق نہیں رکھتا۔ کیا افغانستان کے بھارت سے دیرینہ رشتے نہیں، لیکن قربانی کا سارا بوجھ پاکستانی قوم نے اُٹھایا۔ اور نام نہاد افغان رہنما حکومت پاتے ہی پاکستان کے دشمنوں کی گود میں جا بیٹھے۔ کیا یہ پاکستانیوں کے اُس احسان اور معاشی قربانی کا بدلہ ہے، جو پچاس سال سے اِن پڑوسی بھائیوں کے لیے اپنی ترقّی، معیشت، روزگار اور امن کی قربانی دے رہے ہیں۔

افغان عبوری حکومت اپنی حدود کراس کرچُکی ہے، جو ہمیشہ طاقت اور ہتھیاروں ہی کی زبان سمجھتی ہے۔ ویسے ملیشیاز صرف اِسی مقصد، یعنی مار دھاڑ ہی کے لیے قائم ہوتی ہیں، البتہ ویت نام کے گروپس کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اُنھوں نے اپنی جدوجہد کو قوم کی بہتری اور ترقّی کے لیے استعمال کیا۔ یہ مسلم دنیا کے لیے ایک سبق ہے، جہاں ملیشیاز کی بہتات ہے، جنہیں حکومتیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ مسلّح تنظیموں کا زرخیز میدان ہے، جس کی ایک بڑی وجہ تو وہ فوجی حکومتیں تھیں، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلم ریاستوں میں قائم ہوئیں۔ اس کا ایک بڑا عُنصر سوویت یونین اور مغرب کی سرد جنگ بھی تھی۔ روس نے اپنے قدم جمانے کے لیے خطّے میں کمیونزم کو سوشلزم کا نام دے کر مصنوعی انقلاب برپا کیے۔

مصنوعی اِس لیے کہ یہ انقلابات فوجی آمر لائے، جن میں مصر کے جمال ناصر جیسے پُرکشش اور مقبول رہنما بھی شامل تھے، جن کی شام، عراق، لیبیا، الجزائر اور دیگر عرب، افریقی ممالک میں پیروی کی گئی۔ یہ رہنما قومیت اور انقلاب کے نام پر یک جماعتی حکومتیں چلاتے رہے۔

ان کا ہدف تیل پیدا کرنے والی عرب بادشاہتیں تھیں، جہاں پہلے بھی کوئی جمہوری نظام نہیں تھا۔ اِس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ اسرائیل کے قیام نے کردیا، جس سے پورا مشرقِ وسطیٰ آگ کی لپیٹ میں آگیا، بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ پوری مسلم دنیا اس کی گرفت میں آگئی۔ یاسر عرفات، فلسطین کی آزادی کے سب سے بڑے رہنما بن کر اُبھرے۔ چار عرب، اسرائیل جنگیں ہوئیں اور ان تمام جنگوں میں عربوں کو اسرائیل کے ہاتھوں بدترین شکست ہوئی۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ سوویت یونین کا فُٹ پرنٹ مشرقِ وسطیٰ میں دھندلانے لگا۔

وہاں یہ تاثر عام ہوا کہ فلسطین کا مسئلہ خود مغرب کا پیدا کیا ہوا ہے اور وہی اسے حل کرسکتا ہے۔ اِسی پس منظر میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہوا، مصر، اردن اور کئی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ دوسرے کیمپ ڈیوڈ مذاکرات میں یاسر عرفات نے امریکا اور یورپ کی سرپرستی میں فلسطین اتھارٹی قائم کی، جس کے وہ پہلے صدر بنے۔ یہ اتھارٹی غزہ اور ویسٹ بینک(مغربی کنارے) پر مشتمل تھی، لیکن جلد ہی فلسطینی آپس میں لڑنے لگے۔حماس نے غزہ کو اِس اتھارٹی سے الگ کر لیا۔ اب ایسی افراتفری سے اسرائیل فائدہ اُٹھائے، تو کیا حیرت ہے۔ جو خود ایک نہیں، وہ دشمن سے کیا لڑیں گے۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے، جس کا ذکر کرتے بھی دُکھ ہوتا ہے۔

یہ وہ وقت تھا، جب ایران میں انقلاب آچکا تھا، جو ایک نظریاتی انقلاب تھا، جس کی باگ ڈور سیاست دانوں کی بجائے مذہبی لیڈر شپ کے ہاتھ میں تھی۔ ایرانی انقلاب کے رہنمائوں نے ایک خاص خارجہ حکمتِ عملی اپنائی، جس کے ذریعے انقلاب کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک تک پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ ایران کی خواہش رہی ہے کہ وہ خطّے کا پولیس مین بنے۔ ایک ایرانی زون آف انفلوئینس قائم کرنا مقصود تھا، جو ایران، عراق، شام، لبنان اور یمن تک پھیلا ہوا ہو۔ اس میں سب سے اہم وہ ملیشیاز یا نان اسٹیٹ ایکٹرز تھے، جنہیں فوجی ساز و سامان سے لیس کیا گیا اور تربیت دی گئی۔ ان گروپس میں حزب اللہ مرکزی اور سب سے اہم تھی۔

حسن نصراللہ اعلیٰ پائے کے سیاسی اور فوجی لیڈر تھے، جنہیں اِس ملیشیا کا چارج دیا گیا۔ حزب اللہ نے نہ صرف جلد ہی لبنان میں اپنا سیاسی اثر ورسوخ بڑھایا بلکہ وہاں کی سویلین حکومت کو بے بس کر کے سرکاری فوج کی اہمیت ہی ختم کردی۔ مُلک کے صدر بھی حزب اللہ کے سامنے بے بس ہوگئے۔ اِسی طرح غزہ میں حماس، یمن میں حوثی اور عراق میں کئی مسلّح تنظیمیں ایرانی پراکسیز کے طور پر کام کرنے لگیں۔ اِن سب نے شامی جنگ میں فوجی مداخلت کی اور بشار الاسد کو سہارا دیا۔

جنرل قاسم سلیمانی ایران کی اِس جارحانہ خارجہ پالیسی کو پاسدارانِ انقلاب کے ذریعے نافذ کرتے رہے۔ ان کا بنیادی نعرہ امریکا اور اسرائیل دشمنی پر مبنی پر تھا، جسے مسئلۂ فلسطین کی وجہ سے مسلم عوام میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ اگر دیکھا جائے، تو مسئلۂ فلسطین مسلم دنیا ہی کیا، تمام اقوام کا مسئلہ ہے، تاہم ابتدا میں یوں لگا کہ فلسطین خالص عرب مسئلہ ہے اور اس کے لیے عرب جنگیں بھی لڑتے رہے، جن میں عرب بادشاہتیں بھی شامل تھیں اور سوشلسٹ ممالک بھی، لیکن ایرانی انقلاب کے بعد یہ تاثر اُبھرا کہ یہ ایران کا مسئلہ ہے۔

شروع میں تو ایران کو اِس ضمن میں کام یابی ہوئی، تاہم بعد میں یہ معاملہ عرب، ایران کنفلیکٹ میں تبدیل ہوگیا، جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو تقسیم کیا، مسلم دنیا کے لیے بھی آزمائش بن گیا کہ وہ کس گروپ کا ساتھ دیں۔ ایران، حزب اللہ اور روس کا کردار شامی خانہ جنگی میں بے حد تکلیف دہ تھا۔ ایران نے وہاں پاسدارانِ انقلاب کے فوجی اڈّے قائم کیے، جو بشار الاسد کی مدد کرتے۔ اس جنگ میں پانچ لاکھ شامی شہری ہلاک اور ایک کروڑ بے گھر ہوئے، اس کا بھی تو کوئی حساب دے۔

بشار الاسد تو مزے سے خاندان کے ساتھ روس میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ ظالم کی ایسی چُھوٹ شاید ہی کسی نے دیکھی ہو۔ اگر صدام حسین، قذافی اور حال ہی میں وینزویلا کے صدر مقدمات کا سامنا کر سکتے ہیں، نسل کُشی کے مجرم قرار پا سکتے ہیں، تو بشار الاسد کیوں محفوظ ہے۔ افسوس، کوئی مسلم مُلک بھی اِن پانچ لاکھ شامیوں کی بات تک نہیں کرتا۔ کیا شامی شہری مسلمان نہیں تھے اور کسی ہم دردی یا ذکر کے بھی مستحق نہیں۔ پاکستان میں تو مسلم کاز پر بڑی جذباتی باتیں ہوتی ہیں، وی لاگز بنتے ہیں، تو کوئی اِس گیارہ سالہ خانہ جنگی کے حالات سے بھی پردہ اُٹھائے کہ کس کا کیا کردار تھا۔

اِسی عرصے میں امریکا اور یورپ نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردیں، جس سے تیل تک قانونی ذرائع سے فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس کی معیشت کم زور سے کم زور تر ہوتی گئی۔ اِسی لیے گزشہ بیس سال سے ایران میں معیشت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ عوام منہگائی سے، جو دنیا سے کٹنے کی وجہ سے ہوئی، سخت پریشان ہیں اور کئی مرتبہ حکومت کو ان کے شدید احتجاج کا سامنا رہا، جس میں ہزاروں افراد ہلاک بھی ہوئے۔ اِس دوران ایران میں سخت گیر عناصر کے ساتھ، اصلاح پسند بھی اقتدار میں آتے رہے۔

ہاشمی رفسنجانی، حسن روحانی وغیرہ کا مؤقف تھا کہ پالیسی میں اعتدال لاتے ہوئے مغرب، عرب ممالک اور باقی دنیا سے تعلقات بہتر کیے جائیں، جس کا بنیادی مقصد ایران کی مسلسل گرتی معیشت بحال کرنا تھا۔ اِس ضمن میں سب سے کام یاب کوشش صدر حسن روحانی کے دور میں ہوئی، جس کے تحت نیوکلیئر ڈیل ممکن ہو پائی اور ایران، عالمی دھارے میں آنے لگا، لیکن ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں اسے ناقص قرار دے کر منسوخ کردیا۔ یہ ایک غلط سوچ اور ڈپلومیسی تھی کہ روحانی جیسے اعتدال پسند صدر کو ضرور موقع ملنا چاہیے تھا۔

غزہ کے بحران نے، جو حماس کے حملے سے شروع ہوا، امریکا، اسرائیل اور یورپ کو موقع فراہم کردیا کہ وہ ایرانی پراکسیز کو غیر مؤثر کردیں اور ایسا ہی ہوا۔ ایران ہمیشہ جنگ سے دُور رہا، لیکن ایک کے بعد دوسری ملیشیا کے غیر مؤثر ہونے کے بعد اُسے 2025ء میں اپنی ساکھ بچانے اور ملیشیاز کا اعتماد بحال کرنے کے لیے براہِ راست جنگ میں کودنا پڑا۔ اُس کی اسرائیل کے ساتھ بارہ روز تک جنگ ہوئی۔ یہ بارہ روزہ جنگ مشرقِ وسطیٰ کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔

ایران، جو اب تک ملیشیاز کے ذریعے اپنی پالیسی چلا رہا تھا، براہِ راست جنگ میں ملوّث ہوگیا۔ ظاہر ہے، ایک طرف اقتصادی دبائو، دوسری طرف امریکا اور اسرئیل جیسے طاقت وَر فوجی دشمنوں سے مقابلہ، کوئی آسان بات نہیں اور اِسی وجہ سے ایران غیر معمولی آزمائش سے دوچار ہے۔ خود پاسدارانِ انقلاب اسے’’بقا کی جنگ‘‘ کہتے ہیں۔

اس کی ٹاپ لیڈر شپ، جس نے مُلک کی طویل مدّتی پالیسی اور اہداف متعیّن کیے تھے، ختم ہوچُکی، جب کہ ایک دشمن چھے ہزار میل اور دوسرا تین ہزار میل دُور محفوظ ہے۔ نئی ایرانی لیڈر شپ، جس پر پاسدارانِ انقلاب کا کنٹرول ہے، اب فوجی طریقوں سے پالیسی چلاتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش، پڑوسیوں پر میزائل داغنے اور آئل ٹینکرز پر حملوں نے ایران کے ساتھ، مسلم دنیا کو بھی سخت مشکل میں ڈال دیا۔ پاکستان اور قطر اِسی مشکل سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں۔

افغان جنگ میں پاکستان نے پہلے مجاہدین، پھر طالبان کا ساتھ دیا۔ بظاہر یہ لگا کہ سوویت یونین اور امریکا جیسی طاقتیں چند ہزار ملیشیاز کے آگے ڈھیر ہوگئیں۔ یہاں بڑے بڑے ماہرین اور اہلِ دانش نے افغانوں کی بہادری اور کام یابیوں کی عجیب عجیب داستانیں سُنائیں، جنہیں سُن کر ایسا لگتا، جیسے کوئی تاریخی رومانی داستان، حقیقت بن گئی ہو، لیکن آج وہ سب کہاں ہیں، جب کہ امریکا، روس، چین، بھارت، یورپ، یہاں تک کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک بھی مزید طاقت وَر ہوچُکے ہیں۔

پاکستان احسان فراموش طالبان کے خلاف فوجی کارروائیاں کر رہا ہے اور وہ دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ یہ مسلّح تنظیمیں عموماً مذہب کے نام پر حکومتوں اور عام لوگوں کے جذبات سے کھیلتی ہیں، انہیں انتہا پسند بناتی ہیں، خُود پاکستان میں یہ حالت ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے شخص سے بات کرنا مشکل ہے کہ اُس پر کسی بھی وقت جنونی کیفیت طاری ہو سکتی ہے۔ یہی حالت اوورسیز پاکستانیوں کی ہے کہ وہ بھی انتہا پسندانہ خیالات میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

بُرے سے بُرا اخلاقی جرم کرتے ہیں اور خود کو فخریہ مسلم بھی کہتے ہیں۔ دنیا پوچھتی ہے، کیا یہ اسلام کے مثالی کردار ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلم ریاستیں معیشت کی طرف توجّہ نہیں دیتیں۔ منہگائی، پس ماندگی میں پسے عوام کی کمر ٹوٹ چُکی ہے۔ اوپر سے اُنھیں سازشی تھیوریز میں اُلجھا دیا گیا ہے۔ اِس معاملے میں اُن ملیشیاز اور عسکریت پسند گروپس کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے، جو مختلف قوّتوں کے آلۂ کار بنتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں عام طور پر حکومت، اہلِ دانش اور مذہبی علماء کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، لیکن جب وقت آتا ہے، تو اُنہیں ہیرو قرار دینے لگتے ہیں۔ داعش، القاعدہ کے کیمپس میں دلہنوں کے قصّے ساری دنیا جانتی ہے، جن میں سے بہت سی اِس وقت برطانیہ، امریکا، کینیڈا میں دوبارہ سکونت کے لیے قانونی جنگیں لڑ رہی ہیں۔

یہ ملیشیاز صرف ایران، پاکستان یا افغانستان تک محددود نہیں، لیبیا، یمن، عراق، شام، سوڈان اور نائیجیریا میں بھی مصیبت بنی ہوئی ہیں اور ان سے کوئی نجات دِلوانے والا بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ اِن ممالک میں لاکھوں مسلمان خانہ جنگیوں میں ہلاک ہوچُکے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہماری قیادت کو ہوش آگیا اور’’ناقابلِ شکست افغانستان‘‘ کے طالبان کو سبق سِکھانا شروع کردیا۔

او آئی سی اور مسلم ریاستوں کے اہلِ دانش، سب سے بڑھ کر مذہبی لیڈر شپ کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے۔ یہ طے کرنا چاہے کہ مسلم دنیا کے ہیرو جنونی اور انتہاپسند ہوں گے یا اسکالرز، سائنس دان اور ٹیکنالوجی کے ماہرین۔’’Battle of the Pyramids‘‘ میں عثمانی سلطنت کے گورنر نے نپولین کے سامنے ایک لاکھ فوج کھڑی کردی۔

جنگ شروع ہوئی، تو ایک پہلوان صفوں سے نکلا اور پرانے زمانے کے رواج کے مطابق للکارا کہ’’ کوئی ہے جو میرا مقابلہ کرے؟‘‘نپولین کے دو، تین فوجی جوانوں نے اپنی بندوقیں سیدھی کیں، تڑاتر گولیں برسائیں اور پہلوان لمحوں میں ڈھیر ہوگیا۔ مسلم فوج کے پاس اُس زمانے کا جدید ہتھیار نہیں تھا، نتیجتاً شکست کھا گئی۔ اِس طرح کے واقعات سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید