• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بڑی آرزو تھی انتخابات میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی دیکھوں مگر سوچتا ہوں اب دودھ کی نہریں آگے جنت ہی میں بہتی دیکھیں گے کیونکہ یہاں جب سوچ 1985 والے انتخابات اور نیت 2002والے الیکشن کی ہو، مینجمنٹ 2013 سی اور خواہش 2018 والی ہو اور جنم 2024 والے انتخابات کا سا نہ ہو اسے کم سنی تو کہا جا سکتا ہے بالغ نظری نہیں۔ یہ تو بانی پی ٹی آئی خوش قسمت ہیں کہ 2018میں خواص ہمدم مل گئے اور 2024 میں عوام ہمدرد ہوئے، جی کر رہا ہے اس مجموعی کلاکاری کو "آرٹیفیشل انٹیلی جنس" کا نام دوں ! ہمیں دودھ میں پانی ڈالنے والے سیاستدانوں نے جو دکھ دیا سو دیا مگر وہ اوپر بیٹھے جو کبھی دلنوازی میں تو کبھی بےنیازی میں دودھ کو "جاگ" لگا کر دہی بنا دیتے ہیں اب اُنہیں کیا کہیں؟ اور، قوم اب بیٹھی ہے اس الیکشن 2024 کے دہی میں مدھانی ڈال کر، اوپر سے سمجھ بھی نہیں آرہی کہ واقعی یہ دہی میں مدھانی ہے کہ بیٹھے ہیں پانی میں مدھانی ڈالے ہوئے ؟سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیوں کے شروع شروع کے اجلاس قدرے مہذب تھے تاہم مرکز ،کے پی کے اور پنجاب میں خواہشوں اور حسرتوں کو دوام بخشنے کا سودا تھا یا نہیں لیکن لوگوں کیلئے مَنو رَنجَن کا سامان اور سماں خوب تھا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا لیکن اگلے شو تک منافع اسے ہی سمجھئے !

دلِ ناداں کو وہ گاؤں والی مثال یاد آگئی، کہا کرتے تھے کہ’’ماڑے بندے دی ووہٹی پورے پنڈ دی بھابھی‘‘ کبھی کبھی لگتا ہے کہ اس "آرٹیفیشل انٹیلی جنس" کی جدتوں میں سیاستدانوں اور کارکنان کے ٹبر نے سیاسی بستی کی بھابھی الیکشن کمیشن کو بنا رکھا ہے لیکن اس طرف کم ہی جاتے ہیں جو پواڑا نمبرداروں کا ڈالا ہوا ہے۔

جب یہ سوچتے ہیں کہ مغرب میں بھی جمہوریت کا قبلہ درست ہوتے ہوتے صدیاں لگیں، ہم بھی ایک ارتقاء کے بعد باوفا ہو جائیں گے، پھر خیال آتا ہے کہ وہ پرانا دور تھا اور یہ ڈیجیٹل دنیا ، پھر خوش فہمی چراغِ سحر ہو جاتی ہے ، لیکن جدتوں سے استفادہ کیلئے جدید ہونا بھی ضروری ہے ورنہ ایسی ہی’’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘‘ جینے نہیں دے گی۔ پاکستان کا آئین اپنی جگہ ایک مکمل زندہ حقیقت اور سانس لیتی دستاویز ہے جس کو 18 ویں ترمیم نے مزید تقویت بخشی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کل کے سردار عثمان بزدار نے اس آئین کو سمجھا اور پڑھا ؟ اگر آج یا آگے جا کر مریم نواز نے بھی 18 ویں ترمیم کو نہ سمجھا نہ جانا تو یہ تو ہو سکتا ہے قرض کی مے سے ترقیاتی کاموں کو کوئی بوسٹر لگ جائے تاہم جمہوریت ۔! میاں نواز شریف ہر فائل اور پرویز رشید ہر جنبشِ قلم پر تو نہیں بیٹھے ہوئے۔ مرکز اور پنجاب میں بھلے ہی میاں شہباز شریف اور مریم نواز شریف نے ٹیم بانٹ لی مگر لوگ تو وہی پھٹے پرانے ہی ہیں ، جن سے اکثریت بیزار ہے لہٰذا کا بینہ ہو یا ہم خیال کچھ چہرے تو بدلنے ہوں گے ورنہ انقلاب تو کیا ارتقاء کے بھی راستے بند ہو جائیں گے۔ وہی ہوگا جو پنجاب میں پیپلزپارٹی کے ساتھ 2008 سے ہو رہا ہے ، پیپلز پارٹی اگر کہے کہ 2013 کے بعد ان کا راستہ مقتدرہ نے روکا ہے تو یہ سراسر غلط ہے کہ مقتدرہ کو اب اس تکلف کی کم از کم پنجاب میں ضرورت ہی نہیں۔ پنجاب میں نئے لوگوں کیلئے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے دریچے کھولنے تھے ، ان کی پنجاب کی قیادت تو اس قدر اندھی اور گونگی ہے کہ رہے نام اللہ کا، جو تھوڑی بہت’’شیرینی‘‘ رہ گئی ہے وہ بچے کھچے چار لوگوں کی بندر بانٹ ہی کی نذر ہو گی۔ ساری سیاست کی سائنس کو سمجھنے والے آصف علی زرداری پنجاب کی سیاسی سائنس کو تاحال سمجھنے سے قاصر ہیں ورنہ دس ممبران پنجاب اسمبلی نہ ہوتے، اور دس نے آگے جو سو کا راستہ روک رکھا ہے اس فلسفہ کو کون سمجھے گا ؟ کیا لوگ پنجاب کی پیپلز پارٹی کی تاریخ اور جدوجہد کو نہیں جانتے ؟ پیپلزپارٹی اگر پنجاب میں وزارتیں مانگتی ہے تو اس میں اس قابل ہی کون ہے؟ وزارتیں تو 2008 میں بھی میاں شہباز شریف سے پیپلز پارٹی نےلی تھیں۔ کیا بنا تھا ؟ ان وزراء کا کیا کردار رہا ؟ کوئی ریسرچ پیپر ہے پیپلزپارٹی کے پاس ؟ پنجاب میں جس موڑ پر الیکشن 2024 میں پہنچی ہے اس کا ذمہ دار خود بلاول ہاؤس لاہور ہے، بلاول بھٹو زرداری نے جس جاندار اور شاندار طریقے الیکشن مہم چلائی اور جس طرح مہذب اور دیانتدارانہ انداز میں اپنی سیاست کو 2007 سے آج تک آگے بڑھایا اسے سنہری حروف میں لکھا جانا چاہئے لیکن نتائج گر نہیں ملے تو اس پر بھی تو جیالے محققین اور سیاسی عارفین کو دیکھنا ہوگا۔سیاسی جماعتیں بین الاقوامی سطح پر لابیاں بناتی پھر رہی ہیں اور پیپلزپارٹی نے شاید پنجاب کی حد تک بھی کوئی پروفیشنل سروے کبھی نہیں کرایا۔ اگر پنجاب کی پیپلز پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی ایسے ہی سویا ہوامحل بنی رہی تو ضرب تقسیم سے صدارت۔ اور وزارتیں تو شاید کچھ عرصہ مزید ملتی رہیں لیکن پنجاب میں انتظام اور احترام شاید ایک صدی بھی نہ مل سکے !

ہم اس موڑ پر بھی آ چکے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو ناقابلِ بیان حد تک کم سیٹوں پر پی ٹی آئی کی جانب سے اپوزیشن لیڈر بننے کے اشارے ملے جس کا مبہم سا جواب مولانا نے دیا، یہ کتنا عجیب ہے۔ وہ پرویز الہٰی جو کسی آمر کو برس ہا برس وردی میں صدر دیکھنا چاہتے تھے یا عمر ایوب خان جنکے دادا آمر تھے اور فاطمہ جناح کے خلاف سنگین دھاندلی کے بھی مرتکب، وہ بھی جمہوریت پر بھاشن دیتے نہیں تھکتے، موڑ یہ بھی کہ شاہد خاقان عباسی ماضی بھول کر اور خاقان عباسی کی ضیائی خدمات فراموش بھول کر نئے جمہوری سفر کا عندیہ دے رہے ہیں، ہو سکتا لوگوں کو خانِ اعظم کا مشرف حمایت ریفرنڈم بھی یاد ہو!

قصہ مختصر الیکشن 2024جس موڑ پر لے آیا ہے یہاں ہمیں سمجھنا ہوگا کہ خراب بنیادوں اور سیاق و سباق کو فراموش کر کے جمہوریتیں پروان چڑھتی ہیں نہ دھاندلیاں رکتی ہیں، اور بغیر وضو کے اب کا خشوع و خضوع دکھانا بھی ایک دکھاوا ہی ہو گا۔ ڈائیلاگ کیجئے اور اپنی اپنی جماعتوں کو انسٹیٹیوشنز بنائیے اور ملک و ملت بچائیے ورنہ اگلا موڑ اندھا بھی ہے اور بھیانک بھی!

تازہ ترین