• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ جنہیںپانچ دیگر افراد کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے عوامی نظم و نسق آرڈیننس(ایم پی او) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، گزشتہ روز رہا کرکے فی الحقیقت ایک غلط فیصلے کو درست کیا گیا ہے۔ پرامن احتجاج ہر جمہوری معاشرے میں شہریوں کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے جسے ان سے چھینا نہیں جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتی مجسٹریٹ کی جانب سے گرفتاری کے اگلے ہی روز بی وائی سی کے کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود سمی دین بلوچ کو ایم پی او کے تحت تیس دنوں کے لیے حراست میں لے لیا گیا جبکہ یہ رویہ کسی بھی طور آئینی و جمہوری روایات کے مطابق نہیں تھا۔ اسی بنا پر اقوام متحدہ کے ماہرین سے لے کر ایمنسٹی انٹرنیشنل، سول سوسائٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور اراکین کی جانب سے نہ صرف سمی دین بلکہ بلوچ عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے پر حراست میں لیے جانے والے دیگر تمام کارکنوں، بشمول بی وائی سی کی منتظم ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا جس کے نتیجے میں گزشتہ روزمحکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے سمی دین کے خلاف ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم سے واپس لے لیا گیا جسے درست سمت میں پہلا قدم قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ صورت حال کی مکمل اصلاح و بہتری کیلئے ضروری ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت پرامن احتجاج کا آئینی و جمہوری حق استعمال کرنے پر ایم پی او جیسے آمرانہ قانون کے تحت حراست میں لیے جانے والے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام وابستگان کو رہا کرکے مقتدر حلقے کشادہ دلی سے ان کی شکایات سنیں۔ بلوچ عوام کی محرومیاں ایسی حقیقت ہیں جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ قوم پرست تنظیمیں ہی نہیں جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ جیسے معتدل مزاج رہنما تک بلوچ عوام کے حقوق کے حوالے سے سراپا احتجاج ہیں۔ لہٰذا قومی اتحاد و یکجہتی پکڑ دھکڑ کے بجائے پرامن اور بامقصد بات چیت ہی سے ممکن ہے۔

تازہ ترین