وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ خاران میں 12 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔ دہشت گردوں نے بینکوں میں لوٹ مار کا منصوبہ بنایا تھا۔
سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ صوبے میں جگہ جگہ انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی والے کھمبے لگے ہوئے ہیں، سانگان جیسا غیر آباد علاقہ بھی انٹرنیٹ سروسز فراہم کر رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں فرنٹیئر کور نے اہم کردار ادا کیا۔ دہشت گردوں نے اے ٹی ایم توڑ کر پیسے لے جانے کی کوشش کی۔ ایک بینک سے 34 لاکھ روپے لے کر فرار بھی ہوئے ہیں۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ خاران میں 15 سے 20 لوگوں نے داخل ہونے کی کوشش کی، بینکوں کو لوٹنے کی کوشش ناکام بنائی گئی، اس واقعے میں ایک عام شہری زخمی ہوا وہ سی ایم ایچ میں زیر علاج ہے، تین مقامات پر 4 دہشت گردوں کو موقع پر ہی مارا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں فرنٹیئر کور نے اہم کردار ادا کیا، 12 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، خاران میں ان لوگوں کا منصوبہ بینکوں میں لوٹ مار کا تھا، جسے ناکام بنا دیا گیا، یہ لوگ نظریے سے شروع ہوکر بینک ڈکیٹی تک پہنچ گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ صوبے میں جگہ جگہ انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی والے کھمبے لگے ہوئے ہیں، سانگان جیسا غیر آباد علاقہ بھی انٹرنیٹ سروسز فراہم کر رہا ہے، سوال اٹھایا کہ بلوچستان بھر میں پھیلا ہوا انٹرنیٹ سروسز کا یہ جال کس نے بچھایا؟ کیوں بچھایا؟ مقصد کیا ہے؟ ہیلی کاپٹر کے سفر میں بھی فور جی سروسز چل رہی ہوتی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ یہ سب بلاوجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کوئی دماغ ہے، یہ سارے انٹرنیٹ ٹولز ریاست کے خلاف استعمال ہوئے ہیں۔