حجرِ اسود، خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی کونے میں نصب ایک مقدّس پتھر ہے، جس کے لغوی معنی ’’سیاہ پتھر‘‘ کے ہیں۔ طواف کے دوران اسے چومنا یا ہاتھ لگانا (استلام) سنّتِ ابراہیمی ؑ اور باعثِ برکت ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق، یہ مقدس پتھر جنت سے نازل ہوا اور حضرت آدم علیہ السلام اسے اپنے ساتھ لائے تھے۔
بیضوی شکل کا یہ پتھر، چاندی کے فریم میں جڑا ہوا ہے اور فی الحال یہ تین بڑے اور کچھ چھوٹے ٹکڑوں پر مشتمل ہے۔ روایات کے مطابق یہ پتھر پہلے دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا، لیکن زمانہ جاہلیت کے گناہوں اور بعد ازاں تاریخ کے مختلف واقعات اور آگ لگنے کے حادثات کے باعث اس کا رنگ سیاہ ہوگیا۔
خانہ کعبہ کے دروازے کے قریب جنوبی دیوار کے مشرقی گوشے میں باہر کی جانب صحن (مطاف) سے 1.10 میٹر کی بلندی پر نصب اس پتھر کی لمبائی25سینٹی میٹر، جب کہ عرض تقریباً17سینٹی میٹر ہے، خانۂ کعبہ کی جنوبی دیوار کے کونے میں اس پتّھر کے مختلف سائز کے8ٹکڑے جُڑے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا ٹکڑا کھجور کے برابر ہے۔
شروع میں یہ ایک ہی ٹکڑا تھا، لیکن حوادثِ زمانہ نے اس کے8ٹکڑے کردیے۔ اس پتّھر کی حفاظت کے لیے اسے چاندی کے حلقے میں رکھا گیا ہے، جس سے اس کی شکل بیضوی نظر آتی ہے۔ طواف کی ابتدا اور اختتام اسی پتّھر پر ہوتا ہے اور ہر چکّر میں اسے چُومنا/ استلام کرنا سنّت ہے۔ حجرِ اسود سے متعلق رسول اکرمﷺ نے فرمایا۔ ’’حجرِ اسود جنّت سے آیاہوا پتّھر ہے۔ یہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، بنو آدم کے گناہوں نے اس کو کالا کردیا۔‘‘ (ترمذی شریف کتاب الحج، حدیث 877)۔
حجرِ اسود کی فضیلت و خاصیت
ابنِ ظہیرہ حجرِ اسود کی خاصیت کی نسبت فرماتے ہیں کہ ’’وہ پانی میں نہیں ڈوبتا۔ آگ سے نہیں جلتا، بلکہ ٹھنڈا رہتا ہے۔ جب اپنی اصل جگہ سے ہٹا دیا جاتا ہے، تو پھر واپس آجاتا ہے۔‘‘ (الجامع اللطیف،صفحہ 37)۔حجرِ اسود، حضرت جبرائیل ؑ جنّت سے لے آئے، سب سے پہلے حضرت آدم ؑ نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کے دوران اسے نصب کیا۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیرِ کعبہ کے بعد اسے جنوبی کونے پر لگایا۔
قریشِ مکّہ نے کعبہ کی تعمیر کی تو رسول اللہﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اسے اُٹھاکر اس کی جگہ پر نصب کیا۔کرئہ ارض کی ابتدا سے اب تک بے شمار انبیائے کرام، لاکھوں صحابہ کرامؓ ، اولیا اللہ، بزرگانِ دین، لاتعداد حجّاج و معتمرین اور اللہ کے نیک بندوں کے مبارک ہونٹوں نے اس مقدس پتّھر کا بوسہ لیا ہے۔ قیامت والے دن یہ پتّھر اپنے بوسے لینے والوں کے حق میں گواہی دے گا۔
حضرت ابن ِعباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے حجرِ اسود کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ’’اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ اسے روزِ قیامت میں اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جن سے یہ دیکھے گا، اس کی ایک زبان ہوگی، جس سے وہ بولے گا اوریہ ہر اُس شخص کے حق میں سچی گواہی دے گا، جس نے حق کے ساتھ اس کا بوسہ(استلام) لیا ہو گا۔‘‘ (ترمذی کتاب حج)۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’حجر اسود اور مقام ِابراہیم ؑجنّت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نور ختم کر دیا، اور اگر اللہ تعالیٰ ان کا نور ختم نہ کرتا، تو وہ مشرق و مغرب کے درمیان کی تمام چیزوں کو روشن کر دیتے۔ (ترمذی کتاب الحج)۔
حجرِ اسود کا بوسہ لینا سنّت ہے، ازدحام کی صورت میں ہاتھ یا چھڑی وغیرہ سے حجرِ اسود کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تکبیر کہہ کر اپنے ہاتھ یا چھڑی سے بوسے پر اکتفا کرنا چاہیے۔ (جامع اللطیف،صفحہ 26)۔
رسول ِاکرمﷺ نے حجرِ اسود کابوسہ بھی لیا اور رش کی صورت میں اشارے پر بھی اکتفا کیا۔ لہٰذا یہ دونوں عمل سنّتِ مبارکہ ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حجرِ اسود پر ازدحام نہ کرو، نہ کسی کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ خود کسی کی تکلیف کا نشانہ بنو۔ سعودی حکومت نے حجرِ اسود پر نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے کعبے کی دیوار کے ساتھ حجرِ اسود کے قریب سپاہی کھڑے کردیے ہیں، لیکن اس کے باوجود معتمرین جوشِ جذبات میں مقامِ مقدسہ کے احترام کا خیال نہیں رکھتے۔
اس طرح خواتین کو بھی مردوں کے درمیان سے گزر کراستلام کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ طواف کررہی تھیں، جب آپ حجرِ اسود کے پاس پہنچیں، تو ایک خاتون نے کہا کہ ’’امّاں عائشہ! کیا آپ بوسہ نہیں لیں گی؟‘‘ آپؓ نے انکار فرماتے ہوئے کہا۔ ’’عورتوں کے لیے ضروری نہیں ہے۔‘‘ (اخبار مکّہ الفاکہی، حدیث نمبر 110)۔ البتہ اگر بھیڑ نہ ہو توخواتین حجر اسود کا بوسہ لے سکتی ہیں۔
حجرِ اسود سے متعلق تاریخی واقعات
جب حضرت آدم ؑ زمین پر اُتارے گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل ؑ کی نشان دہی پر بیت المعمور کے عین نیچے اللہ کے گھر کی تعمیر شروع کی، حضرت جبرائیل ؑ جنّت کا ایک یاقوت حجرِ اسود لائے، جسے حضرت آدم ؑ نے حضرت جبرائیل ؑ کی بتائی ہوئی جگہ پر نصب کیا۔ طوفانِ نوح ؑ میں جنّت کے اس پتھر کو کوہِ قبیس نے اپنی آغوش میں چُھپالیا۔ حضرت ابراہیم ؑ خلیل اللہ اور ان کے صاحب زادے حضرت اسماعیل ؑ ذبیح اللہ نے جب اللہ کے گھر کی تعمیر شروع کی، تو حضرت جبرائیل ؑ نے پہاڑ ابو قبیس سے حجرِ اسود لاکر دیا، جسے انہوں نے جنوبی بیرونی کونے میں نصب کردیا۔
کئی ہزار سال تک لوگ خانۂ کعبہ پر حج کرتے اور حجرِ اسود کو بوسہ دیتے رہے کہ ایک مرتبہ پھر خانۂ کعبہ کی تعمیر کی ضرورت محسوس ہوئی۔یہ واقعہ تاریخ کی کتابوں میں کچھ اس طرح ہے کہ ایک روز قبیلہ قریش کی ایک عورت خانہ کعبہ کو عود کی دھونی (دھواں) دے رہی تھی۔ اسی دوران دھونی کی کچھ چنگاریاں اُڑ کر غلافِ کعبہ پر جا گریں، جس سے آگ بھڑک اُٹھی اور غلاف جل گیا۔ اس حادثے کے باعث کعبے کی دیواریں مزید کم زور ہو گئیں، جس پر قریش نے متفقہ طور پر عمارت کو گرا کر نئے سرے سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس واقعےکے کچھ ہی دن بعد مکّے میں شدید سیلاب آگیا، جس سے خانۂ کعبہ کی دیواریں منہدم ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ لہٰذا قریش کے تمام سرداروں نے اسے دوبارہ تعمیر کا فیصلہ کیا۔ اس تعمیر میں رسول اللہﷺ خود بھی شامل تھے۔ اس وقت آپ ؐ کی عُمر ِمبارک 35برس تھی۔ یہ واقعہ آپ ؐ کی نبوّت کے اعلان سے 5سال پہلے کا ہے۔ کعبے کی تعمیرِ نو کے بعد حجرِ اسود کو اس کی اصل جگہ پر نصب کرنے کے لیے قبیلہ قریش کے سرداروں کے درمیان سخت اختلاف پیدا ہو گیا۔ ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ یہ عظیم اعزاز اُسی کو حاصل ہو۔
ہر سردار اورقبیلہ اس سعادت کو اپنے لیے مخصوص سمجھتا تھا، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ تلواریں نکل آئیں اور خون خرابے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔اس نازک موقعے پر قریش کے سب سے عُمر رسیدہ شخص، ابو امیّہ بن مغیرہ نے تجویز دی کہ’’کل صبح جو شخص حرم میں سب سے پہلے داخل ہو گا، وہی اس تنازعے کا فیصلہ کرے گا اور اُسی کے سپرد یہ کام کیا جائے گا۔‘‘اگلے دن، سب سے پہلے حرم میں داخل ہونے والے حضرت محمد ﷺ (جنہیں صادق اور امین کے القابات حاصل تھے) تھے۔
آپ ﷺ کو دیکھ کر سب خوش ہوئے اور فیصلہ آپ ﷺ پر چھوڑ دیا۔اس موقعے پر آپ ﷺ نے لڑائی جھگڑے اور خون خرابے سے بچنے کے لیے ایک انتہائی دانش مندانہ اور متوازن فیصلہ کیا۔ آپ ﷺ نے اپنی چادر مبارک بچھائی اور حجرِ اسود کو اس کے عین وسط میں رکھ دیا۔اس کے بعد آپ ﷺ نے قریش کے تمام بڑے قبائل کے سرداروں کو بلایا اور کہا کہ ہر قبیلہ چادر کا ایک کنارا پکڑے اور اسے اٹھائے۔
جب چادر اس مقام پر پہنچ گئی، جہاں حجرِ اسود کو نصب کرنا تھا، تو آپ ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس پتھر کو اٹھا کر اس کی اصل جگہ (دیوارِ کعبہ) میں نصب کر دیا۔ دانش مندی کے اس فیصلے نے نہ صرف تمام قبائل کو جنگ سے بچا لیا، بلکہ تمام سرداروں کی اَنا کی تسکین بھی ہو گئی۔ کیوں کہ اس سعادت میں ہر قبیلہ برابر کا شریک بن گیا۔ اس واقعے کو سیرت کی کتابوں میں ’’حکمِ عدل‘‘ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن زبیرؓکے دور میں ازسرِنوتعمیر
64 ہجری میں یزید نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو بیعت کا پیغام بھیجا۔ آپ ؓ نے انکار کردیا، تو وہ بڑا غصہ ہوا اور اس نے حصین بن نمیر کی قیادت میں ایک بڑے لشکر کو مکۂ مکرّمہ روانہ کیا۔ اس لشکر نے مکّہ پہنچ کر کوہ ابو قبیس پر پڑاؤ ڈالا اور پہاڑ پر منجنیقیں نصب کردیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور ان کے ساتھی بیت اللہ کے قریب ہی مقیم تھے۔
3ربیع الاول64ہجری کو یزید کی فوج نے مکّہ مکرمہ پر پتّھر اور آگ کے گولے پھینکے، جن سے کعبے کی دیواروں کو شدید نقصان پہنچا اور غلافِ کعبہ کو آگ لگ گئی۔ اللہ کی قدرت کہ 11دن بعد ہی یزید کے انتقال کی خبر آگئی اور حصین بن نمیر، مع اپنی فوج بھاگ کھڑا ہوا۔ بعدازاں، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے ازسرنو کعبہ کی تعمیر کروائی اور حجرِ اسود کو چاندی کے حلقے میں محفوظ کرکے اس کی جگہ پر نصب کیا۔
واقعۂ قرامطہ
حجرِ اسود کی تاریخ کا سب سے افسوس ناک واقعہ قرامطہ کا ہے۔ قرامطی، اسماعیلی باطنی فرقے کی ایک شاخ ہے۔ اس کے سردار اور بحرین کا حاکم ابو طاہر سلمان بن الحسن 7ذو الحجہ کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ مکّے میں داخل ہوا اور خانہ کعبہ پر پر چڑھائی کرکے قتلِ عام شروع کردیا۔ صرف بیت اللہ میں سات سوافراد کو شہید کردیا۔ چاہِ زم زم لاشوں سے پٹ گیا۔بعدازاں، ابو طاہر نے حاجیوں کا سامان لوٹنے کے بعد کعبے کا غلاف اور کعبہ کا خزانہ بھی لوٹ لیا۔
14ذو الحجہ317ہجری، عصر کے وقت جعفر بن حلال معمار نے ابو طاہر کے حکم پر حجرِ اسود اکھاڑ لیا اور لُوٹ مارکے بعد حجرِ اسود لے کر بحرین روانہ ہوگیا۔ اُس سال حج نہ ہوسکا۔ (تاریخ حجرِ اسود، علی شبیر)۔ بعدازاں، بنو عباس کے خلیفہ مقتدر باللہ نے ابو طاہر قرامطی کے ساتھ بات چیت کرکے 30 ہزار دینار میں حجرِ اسود واپس لیا۔ یہ واپسی339ہجری میں ہوئی، گویا 22 سال تک خانۂ کعبہ، حجرِ اسود سے خالی رہا۔
علّامہ سیوطی کی روایت کے مطابق یہ واقعہ اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ خلیفہ ٔ وقت نے ایک بڑے عالم، محدث شیخ عبداللہ کو حجر اسود کی وصولی کے لیے ایک وفد کے ساتھ بحرین بھجوایا،جب وہ بحرین پہنچ گئے، تو وہاں کے حاکم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا، تاکہ حجرِ اسود کو واپس کیا جائے۔ اُس نے ایک نہایت خوشبو دار پتّھر خُوب صورت غلاف سے نکالا کہ یہ حجرِ اسود ہے، اسے واپس لے جائیں۔ محدث عبداللہ نے فرمایا ۔’’ حجرِ اسود کی دو نشانیاں ہیں، اگر یہ پتّھر اس معیار پر پورا اترا تواسے ہم لے جائیں گے۔
پہلی نشانی یہ کہ یہ پانی میں ڈوبتا نہیں، دوسری یہ کہ یہ آگ سے گرم نہیں ہوتا۔‘‘ اب اُس پتّھر کو جب پانی میں ڈالا گیا، تو ڈوب گیا، آگ میں ڈالا تو سخت گرم ہوگیا یہاں تک کہ پھٹ گیا۔ فرمایا۔ ’’یہ حجرِ اسود نہیں ہے۔‘‘ پھر دوسرا پتّھر پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ بھی یہی عمل دہرایا گیا، وہ بھی پانی میں ڈوب گیا اور آگ پر گرم ہوگیا۔ پھر اصل حجرِ اسود لایا گیا، اُسےآگ میں ڈالا گیا، تو ٹھنڈا نکلا۔ پانی میں ڈالا تو وہ پھول کی طرح پانی میں تیرنے لگا۔
محدث عبداللہ نے فرمایا۔ ’’یہی خانۂ کعبہ کی زینت، اصل حجرِ اسود ہے،یہی جنّت والا پتّھر ہے۔‘‘ اس وقت ابو طاہر قرامطی نے تعجّب کیا اور پوچھا ۔’’ حجرِ اسود پانی میں ڈوبے گا نہیں اور آگ پر گرم نہیں ہوگا، یہ باتیں آپ کو کہاں سے معلوم ہوئیں؟ محدث عبداللہ نے فرمایا۔’’ یہ باتیں ہمیں جناب ِرسول اللہﷺ سے ملی ہیں۔ ابو طاہر نے کہا کہ یہ دین روایات سے بڑا مضبوط ہے۔
جب حجرِ اسود مسلمانوں کو مل گیا، تو اسے ایک کم زور اونٹنی کے اوپر لادا گیا، جس نے تیز رفتاری کے ساتھ خانۂ کعبہ پہنچادیا۔ اس اونٹنی میں زبردست قوت آگئی، اس لیے کہ حجرِ اسود اپنے مرکز (بیت اللہ) کی طرف جارہا تھا، لیکن جب اسے خانہ کعبہ سے نکال کر بحرین لے جایا جارہا تھا، تو جس اونٹنی پر لادا جاتا، وہ مر جاتی۔ حتیٰ کہ بحرین پہنچنے تک چالیس اونٹ اس کے نیچے مر گئے۔ (تاریخِ مکّہ، محمد بن علی بن فضل الطہری المکی)۔
رومی کا حملہ
نجم الدین ابنِ فہد فرماتے ہیں کہ363ہجری میں ایک رومی نے حجرِ اسود پر کدال ماری، ضرب سے حجرِ اسود کو خفیف نقصان ہوا۔ وہ دوبارہ ضرب لگانا چاہتا تھا کہ قریب ہی طواف کرتے ہوئے ایک یمنی نے دیکھا تو جھپٹ کر اسے پکڑلیا اور تلوار کے وار سے قتل کردیا۔ (ماخوذ، تاریخ ِکعبہ، مؤلف عبداللہ باسلامہ مطبوعہ مکۂ مکرّمہ، صفحہ 108)۔
اسی طرح علامہ ابن اثیر الجزری نے اپنی شہرئہ آفاق کتاب،’’ 'الکامل فی التاریخ‘‘ میں ’’مکہ میں فتنہ ‘‘کے ذکر کے عنوان سے واقعہ تحریر کیا ہے، جس میں مصر کے ایک شخص کے حجرِ اسود اکھاڑنے کی سازش کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس سازش میں 100افراد شریک تھے۔
حافظ شمس الدین ذہبی نے لکھا کہ حجرِ اسود پر ضرب لگانے والا اسماعیلی تھا، وہ ایک طویل القامت شخص تھا، اس کا رنگ سرخ اور بال بھورے تھے، اس کے ساتھ اس کے اور ساتھی بھی تھے، جو قتل کردیے گئے۔
افغانی شخص کا حجراسود چوری کرنے کا اعتراف
محرم1351ء ہجری، ایک افغانی شخص عبدالستار افغانی ولد صوفی عبدالغفار کو مکّے سے گرفتار کیا گیا، جس نے اعتراف کیا کہ اس نے ایک دن ظہر کے وقت ایک پتّھر کی مدد سے سنگِ اسود کو توڑا اور اس میں سے ایک ٹکڑا نکال لیا، اس طرح غلافِ کعبہ میں سے بھی ایک ٹکڑا کاٹا، اس کے علاوہ چاہِ زم زم کی سیڑھی میں سے چاندی کا ٹکڑا چُرایا۔
ملزم نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ ’’مَیں جانتا ہوں کہ یہ کام ناجائز ہے، لیکن مَیں نے انھیں تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھنے کے لیے چُرایا تھا۔‘‘ اس شخص کے اقبالِ جرم پر عدالت نے اسے سزائے موت دے دی تاکہ یہ دوسروں کے لیے موجب ادب ہو اور بیت اللہ کی حُرمت قائم رہے۔ (تاریخ حجرِ اسود، مؤلف، علی شبیر صفحہ 68)۔