گجرات کے گاؤں بزرگووال میں فائرنگ سے خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق ہو گئے اور ملزم فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ملزم کا بھائی، بھابھی اور چچا شامل ہیں۔
پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ بظاہر یہ واقعہ کسی گھریلو جھگڑے کا نتیجہ لگتا ہے۔
مقدمے کے مطابق مجرم اظہر نے 2017ء میں جائیداد کے تنازع پر گھر میں داخل ہوکر فائرنگ کی اور خاتون کو قتل کردیا تھا۔
پراسکیوشن کے مطابق ملزم پر پاکستان کے خلاف مسلح جارحیت، دھماکا خیز مواد اور دیگر الزامات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عمارت باہر سے خطرناک دکھائی نہیں دیتی تھی اس لیے پلاننگ کنٹرول انسپکٹر نے اس کی نشاندہی نہیں کی۔
متاثرہ خاندان نے مرکزی ملزم فیصل اصغر کے بھائی کامل اصغر کا آڈیو پیغام میڈیا کو جاری کردیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان نے اسکول جانے والے راستے کو بند کر رکھا ہے۔
دورے کے دوران وزیرِ اعظم کو صوبے کی سیکیورٹی اور دیگر امور پر بریفنگ دی جانی تھی۔
فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا اعلان کر دیا۔
پشاور ہائیکورٹ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
دوحہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی قطری ہم منصب شیخ خلیفہ بن حمد سے ملاقات ہوئی۔
چکوال میں ہائی وولٹیج تاروں سے کرنٹ لگنے سے 2 خواتین جاں بحق ہو گئیں، دونوں میتوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر (DHQ) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ درخواستوں میں کارکنان اور ایم این ایز کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے اس کا بھی بتایا ہے۔
پولیس یونیفارم میں ملبوس ملزم کو ماموں موڑ کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔
عالمی ماحولیاتی کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں ملتان کا پہلا نمبر ہے جہاں پر اے کیو آئی 244 ریکارڈ کی گئی ہے۔
نماز جنازہ میں صرف قریبی رشتہ داروں اور یتیم خانہ کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ مقتول لڑکے کی لاش چچا اور ماموں مظفرگڑھ لے گئے تھے۔