• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فریحہ تحریم

صبح سویرے کچن سے اُٹھتی گرم گرم پراٹھوں کی اشتہا انگیز خوش بُو ہو یا رات کے کھانے میں تندور سے نکلتے خستہ نان، ہماری روزمرّہ زندگی کا ایک بڑا حصّہ گندم سے وابستہ ہے، لیکن کیا آپ تصوّر کر سکتے ہیں کہ جس روٹی کو ہم زندگی کا دوسرا نام دیتے ہیں، وہی روٹی کسی انسان کو اندر ہی اندر نقصان پہنچانے کا بھی سبب بن سکتی ہے؟

آج کے اِس جدید دور میں جہاں ہماری خوراک کی اقسام بڑھتی چلی جا رہی ہیں، وہیں کچھ ایسے طبّی مسائل بھی سر اُٹھا رہے ہیں، جو بظاہر عام، مگر اندرونی طور پر انتہائی پیچیدہ اور جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ اُن ہی میں سے ایک اہم، مگر نظر انداز کیے جانے والا مسئلہ’’گلوٹن‘‘ سے متعلق بیماریاں ہیں۔

عمومی طور پر ہمارے ہاں اِنہیں محض پیٹ درد، نخرے، بدہضمی یا کم زور معدے کا شاخسانہ سمجھ کے ٹالنے کا رواج ہے، جب کہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر گلوٹن ہے کیا؟ سائنسی زبان میں گلوٹن ایک خاص قسم کا پروٹین، غذا کا ایک حصّہ ہے، جو قدرتی طور پر گندم، جَو اور رائی جیسے اناج میں پایا جاتا ہے۔

جب ہم آٹے میں پانی ڈال کر اسے گوندھتے ہیں، تو اس میں جو چپچپاہٹ اور نرمی پیدا ہوتی ہے، وہ اِسی گلوٹن کی وجہ سے ہوتی ہے، جو ایک قدرتی گوند کی طرح کام کرتا ہے، جس کی وجہ سے روٹی پُھولتی اور نرم رہتی ہے۔ بیکری کے کیک، پیسٹریز اور ڈبل روٹی اسپنج کی طرح ملائم بنتے ہیں۔ لیکن اِسی گلوٹن کو کچھ لوگوں کا جسم ہضم کرنے کے قابل نہیں ہوتا، جسے عموماً’’گندم سے الرجی‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

طبّی سائنس کے مطابق، گلوٹن سے وابستہ تکالیف تین مختلف حصّوں میں تقسیم کی گئی ہیں، جن کی نوعیت اور جسم پر اثرات بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ ان میں سے پہلی حالت گلوٹن الرجی ہے، جو جسم کا ایک فوری مدافعتی ردّ ِعمل ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے، جیسے کسی کو مونگ پھلی، انڈے یا دودھ سے الرجی ہوتی ہے۔ گلوٹن کھانے سے جِلد پر خارش، سُرخ دھبّے، پیٹ درد، سُوجن، اُلٹی آنا یا بعض اوقات سانس لینے میں شدید دشواری جیسی صُورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ ہر شخص میں الگ الگ نوعیت کی علامات اور شدّت دیکھی گئی ہے۔

دوسری قسم، گلوٹن اِن ٹالرینس ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے، جس میں الرجی کے ٹیسٹ تو منفی آتے ہیں، لیکن جسم گلوٹن برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتا، نتیجتاً گندم سے بنی چیزیں کھانے کے چند گھنٹوں بعد پیٹ کا پُھول جانا، گیس اور مستقل تھکن جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔ اِس میں عموماً معدہ گلوٹن ہضم کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ سب سے پیچیدہ اور خطرناک حالت سیلیک(Celiac disease) ہے۔ یہ ایک آٹو امیون بیماری ہے۔

اس میں مریض جب گلوٹن کھاتا ہے تو اُس کا اپنا ہی مدافعتی نظام چھوٹی آنت کی اندرونی جھلّی اور وہاں موجود انگلی نُما باریک ساختوں پر حملہ کر کے اُنہیں تباہ کر دیتا ہے۔ چوں کہ ان کا کام خوراک سے تمام غذائیت جذب کر کے خون میں شامل کرنا ہے، تو ان کے خراب ہونے سے جسم کو خوراک سے مکمل غذائیت نہیں مل پاتی۔ یہ ایک خطرناک بیماری ہے، کیوں کہ گلوٹن کا ایک چھوٹا سا بھی ذرّہ جسم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ جب کہ اندرونی جھلّی کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے کم از کم تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ چھے ماہ تک کھانا مکمل جذب ہونے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

گندم کے آٹے، سوجی، دلیے، میدے اور اِن سے بنی تمام اشیاء، یعنی نان، کلچے، شیر مال، بسکٹ، کیک، پیسٹریز، ڈبل روٹی، پیزا، برگر، پاستا، میکرونیز، نوڈلز، سموسوں وغیرہ میں گلوٹن موجود ہو جاتا ہے۔ کچھ اشیاء ایسی ہیں، جو بظاہر گلوٹن سے تیار نہیں کی جاتیں، مگر اُن میں گلوٹن کے ذرّات موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرّات سیلیک کے مریضوں کو سخت نقصان پہنچاتے ہیں۔

مسالوں، چٹنیوں، سویا ساس، ٹماٹو کیچپ، ڈبّوں میں بند سُوپ، پراسیسڈ فوڈ، جیسے کہ نگٹس وغیرہ اور بعض برانڈز کی آئس کریم، چاکلیٹس، چپس وغیرہ میں بھی گلوٹن موجود ہو سکتی ہے۔ گلوٹن ہماری روزمرّہ خوراک کے کئی حصّوں میں چُھپی ہوئی ہے۔ اِسی لیے مریض کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ چیزیں خریدنے اور استعمال کرنے سے پہلے ڈبّے کا فوڈ لیبل ضرور پڑھ لے۔

ایک اور مخفی مگر انتہائی سنگین مسئلہ کراس کنٹیمینیشن ہے، جو خاص طور پر سیلیک کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر گلوٹن فِری غذا کسی ایسی جگہ، توے یا برتن میں تیار کی جائے، جہاں پر پہلے گلوٹن کا استعمال ہوا ہو، تو اس کی معمولی مقدار بھی مریض کو شدید بیمار کر سکتی ہے۔

اگر توے پر عام روٹی پکائی جائے اور پھر اُسے دھوئے بغیر گلوٹن فِری روٹی کے لیے استعمال کیا جائے یا پھر جس تیل کی کڑاہی میں سموسے وغیرہ تلے گئے ہوں، اُسے دوبارہ گلوٹن فِری غذا کے لیے استعمال کرنا، مریض کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہمارے ہاں جہاں تقریبات کا اختتام کھانے سے ہوتا ہے، وہاں گلوٹن سے الرجی ایک بڑا سماجی اور نفسیاتی چیلنج بن جاتا ہے۔ لوگوں میں آگاہی نہ ہونے کے سبب ایسے افراد سماجی طور پر خود کو الگ تھلگ کر لیتے ہیں۔

جب ہر پلیٹ میں گلوٹن سے بنی اشیا سجی ہوں، تو ایسے میں مریضوں کے لیے’’ نہ‘‘ کہنا محض ایک انتخاب نہیں، مجبوری بن جاتا ہے۔ بار بار کی وضاحتوں، لوگوں کے جملوں یا غیر ضروری اصرار سے بچنے کے لیے یہ افراد آہستہ آہستہ تقریبات میں جانا کم کر دیتے ہیں، جو انہیں شدید ذہنی دباؤ اور اکیلے پن کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ، پاکستان میں گلوٹن فِری زندگی گزارنا ایک معاشی بوجھ بھی ہے، کیوں کہ چاول، مکئی، چنے سے بنا گلوٹن فِری آٹا، عام آٹے کے مقابلے میں منہگا ہوتا ہے۔

نیز، گلوٹن فِری مصنوعات شہروں کی بڑی مارکیٹس ہی میں دست یاب اور متوسّط طبقے کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔ ایسے میں طویل مدّتی طرزِ زندگی کی تبدیلی میں خاندان کا کردار علاج کی طرف پہلی سیڑھی ہے۔ گھر والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچن مینجمینٹ میں تبدیلی لاتے ہوئے مریض کے لیے برتن، بیلن، توا یہاں تک کہ برتن دھونے والا اسپنج بھی الگ رکھیں۔

گلوٹن فری مصنوعات کو الگ جگہ رکھا جائے۔ گھر میں جب کوئی خاص ڈش بنے، تو اس کا ایک حصّہ مریض کے لیے گلوٹن فِری طریقے سے تیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اُسے یہ احساس نہ ہو کہ وہ اکیلا ہے یا اُسے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ خاندان کی یہ محبّت اور احتیاط، مریض کی زندگی کو بہت حد تک بہتر اور آسان بنا سکتی ہے۔

ہمارے ہاں ایک بڑی غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ اِن بیماریوں کا علاج ہومیوپیتھی یا کسی دیسی جڑی بوٹی سے ممکن ہے، جب کہ سائنسی حقیقت مختلف ہے۔ اس کا واحد اور مستقل حل صرف اور صرف گلوٹن سے پرہیز ہے۔ اگر کوئی مریض کسی کے کہنے پر دوا کھا کر دوبارہ گندم شروع کر دیتا ہے، تو اسے بظاہر درد محسوس نہ بھی ہو، تب بھی اندرونی طور پر اس کے جسم کو نقصان پہنچتا ہے۔ اِسی لیے ہمیشہ مستند ڈاکٹر اور ماہرِ غذائیت سے رہنمائی لینا انتہائی ضروری ہے۔

گندم چھوڑنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اب زندگی بے ذائقہ ہو گئی ہے، روٹی نہ کھانے سے جسم کو طاقت نہیں ملے گی یا ساری طاقت یا توانائی بس گندم ہی میں ہے۔ قدرت نے ہمیں چاول، مکئی، باجرا، بیسن، تمام اقسام کے گوشت، انڈے، دالیں، سبزیاں، پھل اور دودھ جیسی نعمتوں سے نوازا ہے، جو صحت اور ذائقے دونوں کا بہترین امتزاج ہیں۔

ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم اِن بیماریوں کو سنجیدگی سے سمجھیں، کچن میں تھوڑی سی احتیاط، گفتگو میں نرمی لا کر مریض کا ساتھ دیں اور معاشرے میں آگاہی کو فروغ دیں۔ ایک باشعور اور صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے، جو بیماریوں کا علاج ہی نہیں کرتا، بیمار انسان کے احساسات، مجبوریوں اور اس کی نفسیات کو بھی دل سے تسلیم کرتا ہے۔ (مضمون نگار، جامعہ کراچی کے شعبہ’’ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ کی طالبہ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید