• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنوعی ذہانت: پیروں کے زخم کے علاج میں انقلاب

دورِ جدید کی اہم ترین ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) نے صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں میں پیر کے زخم (Diabetic Foot Ulcers) انتہائی خطرناک اور سنگین ہوتے ہیں، جو بر وقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صُورت میں معذوری، انگلی، انگوٹھے، پیر یا ٹانگ کٹنے(Amputation) کا سبب بن سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر ایک اندازے کے مطابق 19 سے34 فی صد ذیابطیس کے مریضوں کو کسی نہ کسی وقت پائوں میں زخم ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ یعنی ذیابطیس کے ہر مریض کو پیروں میں زخم نہیں ہوتے، لیکن احتیاط نہ کرنے کی صُورت میں ایسا ہوسکتا ہے۔

ذیابطیس کے مریضوں میں اعصابی کمزوری(Neuropathy) اور خون کی روانی میں کمی کے باعث پائوں میں زخم پیدا ہوجاتے ہیں، اگر اُن کا بروقت علاج نہ کیا جائے، تو اُن میں انفیکشن، گینگرین یا عضو بھی کٹ سکتا ہے۔ روایتی طریقۂ علاج میں ڈاکٹرز کی مہارت، مریض کی خُود نگرانی اور کلینیکل معائنہ شامل ہے، یہ طریقۂ علاج موثر تو ہے، لیکن قدرے سُست اور کم مؤثر نظر آتا ہے، خاص طور پر ابتدائی مراحل میں ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت ہے کیا اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟ مصنوعی ذہانت دراصل ایسے کمپیوٹر سسٹمز پر مشتمل ہوتی ہے، جو انسانی ذہانت کی طرح سیکھنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اِس میں خاص طور پر مشین لرننگ (Machine Learning)، ڈیپ لرننگ(Deep Learning)، کمپیوٹر ویژن (Computer Vision) اور نیچرل لینگویج پراسیسنگ(NLP) ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

یہ تمام ٹیکنالوجیز طبّی ڈیٹا کا تجزیہ کرکے بہتر فیصلے میں مدد دیتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی خُوبی بیماری کو ابتدائی مرحلے ہی میں تشخیص کرلینا ہے۔ اے آئی الگورتھمز، جِلد کی تصاویر کا تجزیہ کرکے زخم کی موجودگی یا اس کا خطرہ پہچان سکتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، اے آئی سسٹمز کی تشخیصی درستی90 فی صد سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے اور یہ ابتدائی تشخیص مریض کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کرنے کے سبب پیچیدگیاں کم کرتی ہے۔

مصنوعی ذہانت، مریض کا طبّی ڈیٹا(وزن، شوگر، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور پیروں کے زخموں کے خطرے کے عوامل) استعمال کرتے ہوئے اِس امر کا اندازہ لگا سکتی ہے کہ کس مریض کو زخم ہونے کا خطرہ ہے۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مختلف ویئرایبل ڈیوائسز(Wearable Devices) مریض کے پائوں کا درجۂ حرارت، دبائو اور حرکت مسلسل مانیٹر کرتی ہیں۔ درجۂ حرارت میں معمولی سی تبدیلی بھی زخم کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔ یہ ڈیوائسز مریض کو پیروں کے زخم سے متعلق بروقت خبردار کرتی ہیں تاکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ، مسائل کا تدارک بھی کیا جاسکے۔

ایسے مریض جن کے لیے ماہرِ امراضِ ذیابطیس سے رجوع مشکل ہوتا ہے، وہ اگر مصنوعی ذہانت کی ایپس پر اپنے پاؤں کی تصویر اَپ لوڈ کرتے ہیں، تو یہ فوری تشخیص کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اِس سے ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دُور دراز علاقوں میں ذیابطیس کے ایسے مریضوں کا بھی علاج ممکن ہوپاتا ہے، جن کے پاؤں میں زخم ہوتے ہیں۔

اب اسمارٹ فون کے ذریعے زخم کی شناخت بھی ممکن ہے۔مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر وژن کے ذریعے زخم کی تصاویر کا تجزیہ کرکے کچھ معاملات پر رہنمائی فراہم کرسکتی ہے۔ مثلاً ڈریسنگ کس قسم کی کرنی ہے، کون سی اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنی چاہیئں اور پیر کے نچلے حصّے کا دباؤ کیسے کم کرنا ہے وغیرہ۔

یہ طریقہ میڈیسن کی اصطلاح میں’’پرسنلائزڈ میڈیسن‘‘ کہلاتا ہے، جس میں ہر مریض کے لیے الگ الگ علاج تجویز کیا جاتا ہے۔ جیسے زخم کی مانیٹرنگ کے ذریعے زخم کے سائز میں تبدیلی، رنگت اور ساخت اور زخم مندمل ہونے کی رفتار کا معاینہ اور علاج۔ جب کہ’’ڈیپ لرننگ ماڈل‘‘ زخم کا سائز خودکار طریقے سے ناپ سکتا ہے، جس سے انسانی غلطی کم ہوجاتی ہے۔

مصنوعی ذہانت میں چیٹ بوٹس مریضوں کو نہ صرف زخم کی دیکھ بھال کے مشورے، ادویہ کی معلومات اور ڈاکٹر سے رابطے وغیرہ کی سہولت یا بہتر تجویز دے سکتے ہیں، بلکہ تحقیقات کے مطابق، یہ چیٹ بوٹس علاج کے فیصلوں میں معاونت اور طبّی ٹیکنالوجیز کے ساتھ مل کر زیادہ مؤثر علاج بھی فراہم کرسکتے ہیں۔

٭ مصنوعی ذہانت، تھری ڈی پرنٹنگ استعمال کرتے ہوئے زخم کا تھری ڈی ماڈل بناکر مخصوص بایو پرنٹڈ پیج تیار کرتی ہے، جو زخم کو جلد مندمل ہونے میں مدد دیتا ہے۔

٭یہ جینز اور خلیاتی سطح پر تحقیق کرکے نئے علاج دریافت کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

٭مصنوعی ذہانت’’امیج سیگمنٹین‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے زخم کے متاثرہ حصّے کو درست طریقے سے الگ کرکے علاج میں مدد فراہم کرتی ہے۔

٭ یہ انسانی معاینے کے مقابلے میں زیادہ درست تشخیص کرسکتی ہے۔

٭خودکار نظام تیزی سے نتائج فراہم کرتے ہیں، جس سے علاج جلد شروع ہونے کی وجہ سے وقت کی بچت ہوتی ہے۔

٭مصنوعی ذہانت کے سسٹمز طویل مدّتی علاج کے اخراجات کم کردیتے ہیں۔

٭ٹیلی میڈیسن کے ذریعے دُور دراز علاقوں میں بھی معیاری علاج ممکن ہے۔

شعبۂ طب میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ضمن میں بہت سے چیلنجز اور مسائل بھی درپیش ہیں جیسے مصنوعی ذہانت ماڈل کے لیے بڑی مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے، جوکہ دست یاب نہیں۔ مصنوعی ذہانت سسٹمز کو استعمال کرنے کے لیے تربیت یافتہ افراد کی کمی ہے۔

پھر یہ کہ اِن سسٹمز کا اسپتالوں میں نفاذ بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ تاہم، اِس سب کچھ کے باوجود، ہمارا خیال ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت مزید جدّت اختیار کر جائے گی، جیسے خودکار کلینکس بنیں گے، ریئل ٹائم مانیٹرنگ ہوگی، ربوٹک علاج ممکن ہو پائے گا، نیز، جینیاتی سطح پر بیماری کا خاتمہ ہو سکے گا۔ (مضمون نگار، ذیابطیس اور پیروں کے زخموں کے اسپیشلسٹ، ڈائریکٹر کالج آف فیملی میڈیسن، کراچی ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید