کراچی (رفیق مانگٹ) الیکٹرانک آلات فضائی سفر کیلئے دہشتگردی سے بڑا خطرہ بن گئے، لیتھیم آئن بیٹریاں ’ٹائم بم‘ بن گئیں، دورانِ پرواز الیکٹرانک ڈیوائسز پھٹنے لگیں،موبائل، پاور بینک اور ویپس میں آگ لگنے کے واقعات میں2019 ءکے بعد دگنا اضافہ ہوا ہے۔تفصیلات کےمطابق فضائی سفر کو اس وقت جس تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے، وہ کسی دہشت گردی یا تکنیکی خرابی سے نہیں بلکہ مسافروں کی جیبوں میں موجود عام الیکٹرانک آلات سے جڑا ہوا ہے۔ موبائل فون، پاور بینکس اور ویپس دورانِ پرواز اچانک آگ پکڑنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جس نے عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کو ہائی الرٹ پر لا کھڑا کیا ہے اور اسے موجودہ دور کا سب سے بڑا سیفٹی رسک قرار دیا جا رہا ہے۔ایک طویل فاصلے کی بڑی فلائٹ میں اوسطاً 2000 سے زائد لیتھیم بیٹری والے آلات موجود ہو سکتے ہیں۔مسافر عام طور پر ایک سفر میں 4 سے 5 الیکٹرانک ڈیوائسز اپنے ساتھ رکھتے ہیں، جس سے خطرہ بڑھ رہا ہے۔2010 میں یو پی ایس کارگو طیارہ 80 ہزار لیتھیم بیٹریوں کے باعث آگ لگنے سے کریش ہوگیا، جس میں صرف 4 منٹ میں کنٹرول سسٹم تباہ ہوگیایہ خطرے کی شدت کی بڑی مثال ہے۔اپریل، مئی اور جون 2026 میں متعدد واقعات پیش آئے، جن میں لیپ ٹاپ، پاور بینک اور موبائل فون کی وجہ سے پروازیں واپس موڑنا یا ڈائیورٹ کرنا پڑیں۔ویپس ،ای سگریٹ 28 فیصد واقعات کی وجہ بنے جبکہ پاور بینکس اور موبائل فونز ہر ایک تقریباً 20 فی صد واقعات کے ذمہ دار ہیں۔امریکہ میں کارگو ہول یعنی سامان رکھنے والی جگہ میں ایسے واقعات 2021 سے 2025 کے درمیان 40 فیصد بڑھ گئے ہیں۔رواں سال کے اوائل میں الاسکا ایئرلائنز کی ایک پرواز کے دوران ایک مسافر کے موبائل فون اور پاور بینک میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے خاتون مسافر جھلس گئی۔ عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جلتے آلات کو فائر پروف بیگ میں منتقل کیا جبکہ پائلٹس نے ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے طیارہ واپس موڑ لیا۔ ماہرین کے مطابق ان واقعات کی بنیادی وجہ لیتھیم آئن بیٹریاں ہیں جو زیادہ گرم ہونے یا خراب ہونے کی صورت میں تھرمل رن اوےنامی عمل کے تحت اچانک شعلہ بن سکتی ہیں۔ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 کے بعد ایسے واقعات میں دگنا اضافہ ہو چکا ہے اور 2026 میں یہ شرح مزید بڑھنے کی توقع ہے، جہاں ہر ہفتے اوسطاً دو واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔