• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کا اسٹرٹیجک توازن بدلنے کا امکان

کراچی (رفیق مانگٹ)مکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک توازن بدلنے کا امکان،"اسلامک نیٹو" کی بازگشت، مغرب میں تشویش، خطے میں نئی صف بندی ،سعودی سرمایہ، ترک فوجی طاقت اور پاکستانی ایٹمی صلاحیت،نیا اسٹریٹجک توازن ، بھارت نے کہا ہے کہ پیش رفت پر قریبی نظر ہے، ایران جنگ کے بعد امریکی سیکورٹی چھتری پر اعتماد کمزور ۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ عالمی سیاست میں ایک بڑی اور غیر معمولی پیش رفت کے طور پر ابھرا ہے، جس نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک توازن کو نئی سمت دے دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس معاہدے نے نہ صرف علاقائی طاقتوں کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط کیا ہے بلکہ اسرائیل، امریکہ، بھارت اور ایران سمیت اہم عالمی و علاقائی کھلاڑیوں کو بھی محتاط ردعمل دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

بعض مغربی مبصرین اسے اسلامک نیٹو قرار دے رہے ہیں، جبکہ ماہرین کے نزدیک یہ اتحاد بدلتے ہوئے عالمی نظام میں سلامتی کے نئے ماڈل کی عکاسی کرتا ہے، جس کے دور رس اثرات آئندہ برسوں میں نمایاں ہو سکتے ہیں۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق، یہ معاہدہ تینوں ممالک کو خطے میں زیادہ اسٹریٹجک اثر و رسوخ حاصل کرنے میں مدد دے گا۔ تاہم، اسرائیل اس معاہدے کی مکمل مخالفت نہیں کر رہا بلکہ احتیاطی نگرانی کر رہا ہے۔ اسرائیل کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ یہ اتحاد خلیجی سلامتی پر مرکوز رہے گا یا آہستہ آہستہ ایک وسیع سیاسی اور فوجی اتحاد میں تبدیل ہو جائے گا جو واضح طور پر اسرائیل مخالف موضع اختیار کرے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، اگرچہ ترکیہ نے غزہ تنازع کے دوران اسرائیل پر سخت تنقید کی ہے، لیکن اسرائیل اس معاہدے کو مکمل طور پر منفی نہیں دیکھتا۔ برطانوی ادارے کے مطابق اس معاہدے کو دنیا کی تین بڑی مسلم طاقتوں کے درمیان اجتماعی دفاعی ضمانت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ہر ملک کے لیے الگ الگ تزویراتی فوائد ہیں۔ بی بی سی کے تجزیے کے مطابق سعودی عرب اس معاہدے کے ذریعے ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کو پر کرنا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان اسے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں اقتصادی اور عسکری تقویت کے طور پر دیکھ رہا ہے، اور ترکیہ کے لیے یہ دفاعی صنعت کے فروغ کا ایک اہم موقع ہے۔

اہم خبریں سے مزید