• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ربیع الاوّل‘‘ اسلامی تاریخ میں نمایاں مقام، کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ماہِ مبارک محسنِ انسانیت، سرورِکونین حضرت محمّد مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت، تشریف آوری کے ضمن میں ماہ و سال کی پوری انسانی تاریخ میں منفرد حوالہ رکھتا ہے۔

’’ربیع الاوّل‘‘ کے لغوی معنیٰ پہلی بہار کے ہیں اور اسلامی تاریخ میں اس ماہ کو جو عظمت وتقدّس حاصل ہے، وہ صرف سرورِ کائنات، فخرِموجودات، صاحبِ لوح و قلم، سیّدِ عرب وعجم، حضرت محمّد مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت، ظہورِ قدسی کی بدولت ہے۔ یہ وہ بابرکت، بہارآفرین مہینہ ہے، جس کی آمد سے چمنستانِ دہر کی مُرجھائی کلیاں کِھل اُٹھیں، خزاں رسیدہ گلستان سرسبزوشاداب ہوگئے۔ آپﷺ کی آمد دنیا کی بہار کا سبب ہے، پھر جس مہینے میں آپﷺ تشریف لائے، وہ ربیع در ربیع، یعنی بہار ہی بہار اور نُور ہی نُور ہے۔

ربیع الاوّل، 1عام الفیل،52قبل ہجرت، اپریل 571ء میںصرف محسنِ انسانیت، حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ کا ظہورِقدسی ہی نہیں ہوا،ایک عالمِ نو طلوع ہوا، تاریخِ عالم نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔ اِس ماہِ مبارک میں حضرت آمنہ نے ایک سعادت مند بیٹے ہی کو نہیں، ایک تاریخ ساز، بےمثال انقلاب کو جنم دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپؐ کی تشریف آوری سے دنیا کو شرفِ انسانی کا حقیقی اندازہ ہوا اور انسانی زندگی کا ہر گوشہ سراجِ منیرﷺکی آمد سے جگمگانے لگا۔

اِس کائناتِ رنگ وبُو میں بہت سی بہاریں آئیں اورخزاں کا شکار ہوگئیں، بہت سےسورج اُبھرے اورفنا کے گھاٹ اُترگئے۔ بہت سے چاند چمکے اور گہنا گئے، بہت سے پھول کِھلے اور مُرجھا گئے۔ بس ایک بہارایسی ہے کہ جسے جانِ بہاراں کہیے، خزاں اُس کے قریب نہ آسکی، ایک سراجِ منیرﷺ ایسا کہ غروب کی سیاہیاں اُس سے آنکھیں نہ مِلا سکیں۔ طلعت و زیبائی کا ایسا پیکر کہ کوئی دُھندلکا سایہ اُس کے جلوے گہنا نہ سکا، ایسا رشکِ گلستاں کہ جس کےتلوے چُومنے کا شرف رکھنے والی پتّیاں بھی مُرجھانے سے محفوظ رہیں۔

وہ جانِ بہاراں، سراجِ منیر، بدرِفلکِ رسالت، فخرِگُل زارِنبوّت، ہمارے آقا، ہمارے مولیٰ، ہمارے ہادی، ہمارے رہبر، حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ ہیں، جو ہر مومن کی نظر کا نُور، رُوح کا قرار اور دل کا سرور ہیں۔ محبوبِ ربّ العالمین، سیّد المرسلین، خاتم النبیّین، رحمۃ لّلعالمین، اِمام الاوّلین والآخرین، صاحبِ قاب قوسین، مولائے کُل، ختم الرُّسل، محسنِ انسانیت، رہبرِ آدمیت، یتیمِ عبداللہ، جگرگوشۂ آمنہ، سیّدِ عرب وعجم، ہادیٔ عالم، حضرت محمّد ﷺ کا ظہورِ قدسی ایک ایسا تاریخ سازلمحہ اور عظیم انقلاب ہے، جس نے کائنات کو ایک نئی جہت، نیا موڑ اور فلاح و کام رانی کا ایک نیا دستور عطا کردیا۔

انسانیت کو جینے کا حوصلہ،زندہ رہنے کا سلیقہ عطا کیا۔ اس نورِ مبینﷺ کی آمد سے عالمِ شش جہات کا ذرّہ ذرّہ اور حیاتِ انسانی کا گوشہ گوشہ جگمگانے لگا۔ ظلم، جہالت، ناانصافی، کفروشِرک اور بُت پرستی میں مبتلا انسانیت مثالی ضابطۂ حیات، احترامِ انسانیت کے شعور سے باخبر، عدل کی بالادستی کےتصوّر سے آگاہ اور ایمان کے نُور سے منوّر ہوئی۔ عالمِ انسانیت کی خزاں رسیدہ زندگی میں پُرکیف بہارآئی۔ ایمان کی دولت نصیب ہونے سے بندگانِ خدا کو وہ منزل ملی، جس سے توحید کا نُورعام ہوا اور کفر و شِرک کی تاریکی چَھٹ گئی۔

دعائے خلیلؑ، تمنّائے کلیمؑ اور نویدِ مسیحاؑ، حضرت محمّدﷺ کے ظہورِ قدسی سے انسانیت کی صُبحِ سعادت کا آغاز ہوا،جس نے توحید و رسالت کا نُور عام کرکے انسانی عزّت و وقاراوراعلیٰ انسانی اقدار بحال کیں۔ رسالتِ مآبﷺ باعثِ تخلیقِ کائنات، سیّدِ عرب وعجم اورتاج دارِدوعالم ہیں۔ شاعرِ مشرق، علّامہ اقبال کے بقول، آپﷺ سےعقیدت ومحبّت اورعشق کی ایک بنیاد یہ بھی ہے کہ ’’نسخۂ کونین را دیباجہ اُوست…جملہ عالم بندگان و خواجہ اُوست‘‘ یعنی ’’کتابِ ہر دوعالم کا دیباچہ رسولِ اکرمﷺ ہیں، تمام دنیا کے لوگ غلام اوروہ سب کےآقا ہیں۔‘‘

نیز، یہ بھی ایک روشن حقیقت ہے کہ جہاں بھی مخلوق پائی جاتی ہے، جہاں بھی دنیائے رنگ و بُو آباد ہے، وہ ہمیشہ ہمیشہ نورِ مصطفویؐ سے فیض حاصل کرتی رہے گی، ایسا نہیں، تو وہ ابھی مصطفیٰ ؐ کی تلاش اور جستجو میں ہے، تاکہ اس مقدّس اور برگزیدہ ذاتِ گرامیٔ قدر سے اکتسابِ فیض کرسکے۔ اِس حوالے سے اقبال کیا خُوب فرماتے ہیں۔ ’’ہرکجا بینی جہانِ رنگ و بُو… آں کہ از خاکش بروید آرزو… یا زنورِ مصطفیؐ اُو رابہار است… یاہنوزاندرتلاشِ مصطفیٰ ؐ است۔‘‘

سیّدِ عرب و عجم، حضرت محمّد ﷺ کی عظمت و رفعت اور محبوبیت کے حوالے سے جب ہم آپؐ کے نامِ نامی ’’محمّد‘‘ کی لفظی و معنوی حقیقت دیکھتے ہیں، تو پتا چلتاہے کہ ’’محمّد‘‘ کے معنیٰ ہی یہ ہیں کہ وہ ذاتِ ستودہ صفات، جس کی بہ تکرار، مسلسل اور بار بار ہر جہت اور ہر زاویے سے تعریف و توصیف بیان کی گئی ہو، تعریف کے بعد تعریف اور توصیف کے بعد توصیف ہوتی رہے۔

سو، خُود خالقِ کائنات سے لےکر مخلوق تک، انبیائےکرامؑ سے جنّ و مَلک، حیوانات سے جمادات تک، غرض ہرذی رُوح اورغیر ذی رُوح سب نے آپؐ کی تعریف بیان کی اور آج بھی دنیا کے ہر کونے، فرشِ زمیں کے ہرگوشے میں، اہلِ ایمان کی زبانیں لیل ونہارکی مختلف گھڑیوں میں، نہ جانے کتنی بار آپؐ کی تعریف و توصیف کے لیے رطب اللّسان نظر آتی ہیں۔

آپؐ کے شمائل ومحاسن اورمحامد کا ذکرِ جمیل تا ابد جاری رہے گا۔حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔’لا یُؤمنُ احدُ کُم حتیٰ اکون احبّ الیہ من وّالدہ وولدہ والنّاس اجمعین‘‘(بخاری و مسلم)۔ یعنی’’تم میں سے کوئی بھی اُس وقت تک صاحبِ ایمان نہیں ہوسکتا، جب تک کہ مَیں اُس کے نزدیک، اُس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جائوں۔‘‘ رسولِ اکرم ﷺ سے عقیدت ومحبّت کے اظہار میں اسلامی تاریخ کے ہر دَور میں اہلِ ایمان نے بےمثال تاریخ رقم کی۔

تاہم، عہدِ نبویؐ میں صحابۂ کرامؓ نے آپؐ کی ذاتِ گرامی سے جس وارفتگی، عقیدت و محبّت اور جاں نثاری کے مظاہر پیش کیے، پوری انسانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ روایت کےمطابق انصارؓ کی ایک خاتون نے، جن کا باپ، بھائی، شوہر اورجگر گوشہ غزوۂ اُحد میں شہید ہوگئے تھے، صحابہ کرامؓ سے دریافت کیا کہ ’’رسول اللہ ﷺ کس حال میں ہیں؟‘‘ صحابہؓ نے کہا کہ ’’رسولِ اکرم ﷺ بخیروعافیت ہیں۔

حضورِ اکرم ﷺ اُسی طرح ہیں، جس طرح تم اُنھیں دیکھنے کی خواہش مند ہو۔‘‘ یہ سُن کراضطراب اور بے چینی کے عالم میں کہا کہ ’’مجھے دِکھاؤ، حضور اکرم ﷺ کہاں ہیں؟‘‘ جب اُن خاتون نے رسول اللہ ﷺ کادیدار کرلیا اور بخیریت پایا، تو اچانک منہ سے یہ جملے نکلے کہ ’’یارسول اللہ ﷺ! اگر آپ سلامت ہیں، تو آپﷺ کی سلامتی کے بعد بڑی سے بڑی مصیبت اور آزمائش میرےنزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔‘‘ (علی بن برہان الدین الحلبی/السیرۃ الحلبیہ۔ الصالحی الشامی/سُبل الہُدیٰ و الرشاد)۔

اہلِ ایمان کے دل سرورِ کائناتﷺ کی محبّت کے چراغ سےروشن رہتے ہیں۔ دِلوں کی دھڑکن اورہر سانس کی آمدرسولِ اکرم ﷺ کی عقیدت ومحبّت،عظمت و رفعت کے اظہاراورآپﷺ کے ذکر سے مشروط ہے۔ رسول اللہﷺ کی ذاتِ گرامی ہمارے دِلوں کا کعبہ، رُوحوں کا قبلہ ہے۔ کعبۃ اللہ عبادت و بندگی کا قبلہ ہے، تو آپﷺ کی ذاتِ گرامی عقیدت و محبّت کا قبلہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ سےہماری اطاعت و محبّت اور غلامی کا رشتہ جتنا مضبوط ہوگا، اُتنا ہی ہمارا قبلہ محفوظ ہوگا، یہی فلاح و کام یابی کاراستہ اور یہی نجات کی ضمانت ہے۔

اقبال کیا خُوب کہتے ہیں۔ ’’دردلِ مسلم مقام مصطفیٰؐ است… آبروئے مازنامِ مصطفیٰؐ است۔‘‘ اقبال ملّتِ اسلامیہ کوپیغام دیتے ہیں کہ وہ سرورِ کائنات، حضرت محمّد مصطفی ﷺ کےعشق اور آپﷺ کی اطاعت ومحبّت میں مخمور ہوکر پورے عالم اور پوری کائنات میں اسمِ محمّدﷺ سے اُجالا کردیں، آپ ﷺکا پیغام دنیا میں عام کریں۔ ؎ ’’قوّتِ عشق سے ہر پَست کو بالا کردے… دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کردے۔‘‘حقیقت یہ ہےکہ ہم ایک باوقارقوم اُسی وقت بن سکتے ہیں، جب رسالت مآب ﷺ کی شریعت پرعمل پیرا ہوں۔آج ہم بحیثیتِ قوم وملّت تعلیماتِ نبویؐ سے دُوری اورشریعتِ محمدیؐ سےرُوگردانی کےسبب اس مقام پر ہیں کہ امن ہے، نہ خوش حالی۔

عزّت حاصل ہے، نہ وقار۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عزّت و عظمت دامنِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستگی میں ہے، آپﷺ کی تعلیمات کی پیروی اور آپﷺ کے اسوۂ حسنہ کی اتباع ہی دین و دنیا میں فلاح و کام یابی کی کلید، آخرت میں نجات اور ابدی کام رانی کی ضمانت ہے۔ ہماری موجودہ پریشانیوں، زبوں حالی کی بنیادی وجہ شریعتِ محمّدیﷺ سے انحراف اور تعلیماتِ نبویؐ کی پیروی نہ کرنا ہے، جب کہ عظمت و بقا کا راز عشقِ مصطفیٰﷺ، اطاعتِ رسولﷺ اور تعلیماتِ نبوی ﷺ کی پیروی ہی میں مضمر ہے۔

مولایَ صلِّ وسلّم دائماً ابداً

علیٰ حبیبیک خیرالخلقِ کُلّھم

محمدٌ سیّدالکونین والثقلین

والفریقین من عُربٍ ومن عجم