• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے داخلی حالات کو سنبھالنے میں حکومت ِوقت اگرچہ’’ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘‘ کی سی کیفیت سے دوچار نظر آتی ہے لیکن عالمی سطح پر امن کے سفیر کی حیثیت سے پاکستان کا کردار جو پچھلے دنوں کچھ دھندلایا ہوا محسوس ہونے لگا تھا،افواج پاکستان کے سربراہ کے دورہ تہران سے ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر ابھر کر سامنے آیا ہے ۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے اگرچہ یہ تاثر عام ہوا ہے کہ ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی خاطر یہ دورہ خود امریکی قیادت کی درخواست پر نئی تجاویز کے ساتھ کیا گیا ہے تاہم پاکستانی دفتر خارجہ نے اس کی تردید کی ہے اور اسے امن عالم کیلئے پاکستان کی اپنی کاوشوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔بہرکیف اس پیش رفت سے مستقل جنگ بندی ، مذاکرات کے ذریعے اختلافات کے تصفیے اور یوں اس عالمی سرد بازاری کے خطرے کے ٹل جانے کے امکانات از سرنو روشن ہوگئے ہیں جس نے پوری عالمی برادری کو کئی ماہ سے شدید اندیشوںمیں مبتلا کررکھا ہے۔ دنیا بھر میں تجزیہ کار تسلیم کررہے ہیں کہ ہاتھی اور چیونٹی کی اس لڑائی میں ہاتھی کا غرور خاک میں مل گیا ہے۔چنانچہ سپرپاور ہونے کے زعم میں جو طاقت وینزویلا کی طرح ایران کو فتح کرنے اور اس کے تیل کے ذخائر پر اپنا تسلط قائم کرنے کے عزائم کا برملا اظہار کررہی تھی، جس کا دعویٰ تھا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کرنے دی جائے گی اور اس کا افزودہ یورینیم ضبط کرلیا جائے گا، عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اب محض آبنائے ہرمزکھولنے پر ایرانی قیادت کو راضی کرنے کو اپنا اصل ہدف قرار دے رہی ہے۔ اس کی وجہ خود صدر ٹرمپ ان الفاظ میں بتا چکے ہیں کہ ’’ میں صدر ہربرٹ ہوور نہیں بننا چاہتا۔‘‘

ان الفاظ کا پس منظر یہ ہے کہ امریکہ کے اکتیسویں صدر ہربرٹ ہوور کے دور میں دنیا بدترین معاشی انحطاط کا شکار ہوئی تھی۔ 1929ءمیں امریکہ سے شروع ہونیوالی یہ کساد بازاری 1939ءتک جاری رہی اور اس نے دنیا کے بیشتر ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نتیجتاًبے روزگاری اور غربت میں بے تحاشا اضافہ ہوا،صنعتی پیداوار اور بین الاقوامی تجارت زمیں بوس ہوگئی،دنیا بھر میں بینک اور کاروبار بہت بڑی تعداد میں دیوالیہ ہوگئے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حالیہ جنگ میں ایران نے آبنائے ہرمز کا ہتھیار نہایت چابک دستی سے استعمال کرکے عالمی سردبازاری کے خدشات کے ذریعے واشنگٹن کو پسپائی پر مجبور کردیا ہے ۔

چنانچہ امریکہ کے نائب صدر نے ابھی دو ہفتے پہلے ہی جنگ کے مقاصد کے حوالے سے تازہ صورت حال کی وضاحت یوں کی ہے کہ’’ ہمارا اولین مقصد امریکیوں کیلئے تیل اور پٹرول سستا رکھنا ہے۔ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے دائماً روکنا ہمارے نزدیک ثانوی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘

یوں ایرانی قوم نے اپنی خودداری ، ایثار و قربانی اور عزم صمیم سے اُس طاقت کو سر جھکانے پر مجبور کردیا ہے چند ماہ پہلے جس کے سربراہ کا دعویٰ تھا کہ وہ جس ملک کے خلاف چاہے فوج کشی کرسکتا ہے اور اس کے اپنے دماغ کے سوا کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنےکیلئےایران کی شرائط میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور کئی ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی سرفہرست ہیں جبکہ امریکہ کے پاس بظاہر اب ان شرائط کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ فوجی کارروائیوں اور معاشی پابندیاں مزید سخت کردینے کی دھمکیوں سے آبنائے کھلوانے کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں جبکہ اس کی بندش جتنی طویل ہوتی جائے گی عالمی معیشت کی ابتری میں اسی نسبت سے اضافہ ہوگا جس سے بچاؤ اب امریکہ کی پہلی ترجیح ہے ۔ یوں عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس پوزیشن میں آگیا ہے کہ جوہری صلاحیت پر سمجھوتہ کیے بغیر امریکہ سے اپنی شرائط منوالے۔

ایرانی قوم نے یہ مقام بے مثال ایثار اور اتحاد سے حاصل کیا ہے۔ قیادت اور عوام میں یہ ہم آہنگی، قومی خودمختاری اور آزادی کی حفاظت کا یہ ناقابل شکست عزم جس امر کا نتیجہ ہے وہ قیادت کا اخلاص، دیانت داری، عوام کے دکھ درد میں حقیقی شرکت اورملکی وسائل کا قومی امانت کی حیثیت سے عوامی مفاد میں استعمال ہے۔جس قوم کی قیادت میں یہ اوصاف ہوں ،عوام سے اس کا تعلق اتنا ہی قلبی اور مستحکم ہوگا۔ اس کے برعکس جن ملکوں میں حکمراں قومی خزانے کو ذاتی جاگیر کی حیثیت سے شاہانہ ٹھاٹ باٹ کیلئے استعمال کریں، جہاں کرپشن کا دوردورہ ہو، جہاں انصاف عنقا ہو، عدالتیں اعتبار کھوچکی ہوں، حکمراں طبقات اپنی مراعات ختم تو کیا کم کرنے پر بھی تیار نہ ہوں اور ہر روز بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کیلئے زندگی عذاب بنارکھی ہو، ایسے ملکوں میں عوام اور قیادت میں فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور قومی اتحاد و یکجہتی محض خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ امریکہ کے مقابلے میں ایرانی قیادت کی کامیاب حکمت عملی کے بھرپوراعتراف کے ساتھ ساتھ یہ واضح کردینا بھی ضروری ہے کہ سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ریاستوں کو ہدف بنانے کی مشق مسلم دنیا کو متحد کرنے کی حالیہ کوششوں کیلئے سخت نقصان دہ ہے۔ معاہدہ مکہ کی شکل میں پاکستان ، سعودیہ اور ترکی نے جو دفاعی اتحاد تشکیل دیا ہے، تمام مسلم ملکوں کیلئے اس کے دروازے کھلے رکھ کر پورے عالم اسلام کے اتحاد کا راستہ ہموار کر دیا گیا ہے۔ ایران کو مثبت رویہ اپنا کر اس عمل کو تیز کرنے میں حصہ لینا چاہیے جبکہ پاکستان کی قومی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ عالمی امن اور مسلم اتحاد کی ان لائق تحسین کاوشوں کی کامیابی کیلئے داخلی محاذ پر خاطر خواہ توجہ ، اچھی حکمرانی، کرپشن کے خاتمے، قومی یک جہتی کے فروغ اور عوام و حکمرانوں میں بڑھتے فاصلوں میں کمی کے ذریعے گھر کو ٹھیک کرنا لازمی ہے۔

تازہ ترین