متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں حکمرانوں اور عوام کے مفادات صرف مختلف نہیں بلکہ باہم متصادم ہیں، یہی ملک کا سب سے بڑا بحران ہے۔
ڈیلس میں ’اسٹینڈ وِد پاکستان‘ کے زیرِ اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو اب روایتی علاج سے فرق نہیں پڑے گا بلکہ بنیادی اور انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہی دھرتی ماں ہے جبکہ صوبے انتظامی اکائیاں ہیں، جس طرح آبادی بڑھنے پر اضلاع اور ڈویژن بنائے گئے، اسی طرح نئے صوبے بھی بنائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ 4 صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں، پاکستان کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ضرورت ہے اور یہی ملک میں پولرائزیشن ختم کرنے کا راستہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینا درست نہیں، سندھ میں نئے صوبے کا مطالبہ غداری قرار دیا جاتا ہے جبکہ ملک کی تقسیم کو غداری نہیں کہا گیا۔
کراچی کے حوالے سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 2008ء تک کراچی دنیا کے 10 ابھرتے ہوئے شہروں میں شمار ہوتا تھا اور پورا پاکستان کراچی کے بلدیاتی نظام کی طرف دیکھ رہا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام حالات کے باوجود کراچی قومی بجٹ کا 60 فیصد فراہم کر رہا ہے جبکہ سندھ کے بجٹ کا 97 فیصد کراچی دیتا ہے، حیدرآباد، میرپورخاص، نوابشاہ اور سکھر مل کر باقی حصہ فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں 2 طبقے ہیں، ایک 100 فیصد بجٹ بنا کر دیتا ہے اور دوسرا 100 فیصد خرچ کرتا ہے لیکن جو بجٹ بناتا ہے اسے اپنے دیے ہوئے وسائل پر ایک فیصد اختیار بھی حاصل نہیں۔
ایف بی آر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اکیلا لیاقت آباد اتنا جی ایس ٹی دیتا ہے جتنا پاکستان کا دوسرا بڑا شہر۔
مردم شماری پر سوال اٹھاتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گزشتہ 30 برس میں سب سے بڑی شہری آبادی میں اضافہ کراچی میں ہوا لیکن کاغذات میں کراچی کی آبادی میں 90 فیصد اضافہ دکھایا گیا جبکہ سندھ کے ایک اور شہر کی آبادی میں 780 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ جو ریاست ایمانداری سے مردم شماری نہیں کروا سکتی وہ کیا ایمانداری سے مردم شناسی کر سکتی ہے؟ تعصب سچ نہیں ہوتا لیکن سچ بھی تعصب نہیں ہوتا، اعداد و شمار درست ہوں تو انہیں تعصب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کراچی کے حالات کے حوالے سے خالد مقبول صدیقی نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں شہر کے حالات جان بوجھ کر خراب کیے گئے تاکہ سرمایہ ملک کے دیگر حصوں میں منتقل ہو، تاہم یہ سرمایہ بنگلا دیش، ملائیشیا اور افریقی ممالک تک منتقل ہو گیا۔
انہوں نے کراچی والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی والوں کا قصور بھی ہے، ان کا لہجہ معذرت خواہانہ ہے اور وہ اپنی شناخت پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔
تعلیم سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس کا جواب صوبائی وزراء ہی دے سکتے ہیں تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ وزارت ہے کیوں؟
ان کا کہنا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صحت اور تعلیم کی وزارتیں ختم ہو گئی تھیں، تاہم سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے باعث یہ وزارت دوبارہ قائم ہوئی، ایم کیو ایم نے حکومت بنانے کا وعدہ کیا تھا، وزارت لینے کا نہیں لیکن کبھی پاکستان اور کبھی جمہوریت کی دہائی دے کر انہیں وزارت دے دی گئی۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک میں تعلیمی پالیسی سازی کا ادارہ ختم ہو چکا ہے، میرا تعلیم سے اتنا ہی تعلق رہا ہے کہ میں زیرِ تعلیم رہا ہوں، ماہر تعلیم نہیں۔
18 ویں ترمیم پر ایم کیو ایم کے کردار کا اعتراف
18 ویں ترمیم سے متعلق سوال پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اعتراف کیا کہ ایم کیو ایم بھی 18ویں ترمیم کے عمل میں شامل تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایم کیو ایم شامل نہ ہوتی تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ویسے بھی تیار تھیں، انہیں ایم کیو ایم کی ضرورت نہیں تھی، ایم کیو ایم کے بغیر آئین کے آرٹیکل 140 میں ’اے‘ شامل نہ ہوتا اور 140 اے کے بغیر سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ بھی نہ آتا جس کے نتیجے میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوئے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کا مقصد اختیارات کی منتقلی تھا لیکن عملاً یہ اختیارات کے ارتکاز کا باعث بنی، کیونکہ اختیارات وفاق سے صوبوں تک تو منتقل ہوئے مگر صوبوں سے تیسرے درجے یعنی بلدیاتی اور ضلعی حکومتوں تک منتقل نہ ہو سکے۔
آئی ایم ایف حکومت تو بچا سکتا ہے، ملک نہیں
معیشت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میرے نزدیک معاشی بحران نہیں بلکہ نیتوں کا بحران ہے،
ان کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارے سے بڑا مسئلہ اعتماد کا خسارہ ہے، مالی دیوالیہ پن کا خطرہ موجود ہے لیکن اخلاقی دیوالیہ پن ہو چکا ہے۔
آئی ایم ایف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف حکومت تو بچا سکتا ہے، ملک نہیں بچا سکتا، آئی ایم ایف سے جتنے کامیاب معاہدے ہوں گے، اتنی ہی مقروض نسلیں پیدا ہونے کے امکانات بڑھیں گے، دفاعی بجٹ اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد وفاق کے پاس مزید قرض لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔
موروثی سیاست پر تنقید
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ بد قسمتی سے ایوانوں میں کسانوں کی نمائندگی جاگیردار، مزدوروں کی نمائندگی سرمایہ دار اور عوام کی نمائندگی خاندان کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نظام جاگیردارانہ، سیاست موروثی اور حکومت خاندانی ہے، پاکستان میں سیاست کاروبار بن چکی ہے اور اس کاروبار میں داخل ہونے کے لیے بڑے رہنما اور ان کی اولادیں اپنا حسب نسب تک تبدیل کر لیتی ہیں، میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے مطابق مضبوط معاشرے کمزور طبقے کے لیے قانون سازی کرتے ہیں جبکہ کمزور معاشرے طاقتور طبقے کے لیے قانون سازی کرتے ہیں، پاکستان میں بھی زیادہ تر قانون سازی طاقتور طبقات کے لیے ہوتی رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میں 5 بار انتخابات لڑ چکا ہوں اور اپنی جیب سے 10 روپے بھی خرچ نہیں کیے کہ ایم کیو ایم کے امیدواروں کو اپنے پیسے سے انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
نوجوان آبادی کو بوجھ نہیں اثاثہ بنانے کی ضرورت
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں 30 سال سے کم عمر نوجوانوں کی تعداد تقریباً 15 کروڑ ہے جبکہ دنیا کی کئی ترقی یافتہ اقوام آبادی میں کمی کے بحران کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی کو بوجھ بنانا ہے یا اثاثہ۔
تعلیم میں ہنر اور عالمی سرٹیفکیشن پر زور
تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 3 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ اسکول جانے والے بچوں کی بڑی تعداد سیکھنے کی صلاحیت کے بحران کا شکار ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں داخلے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں اور میڈیکل کالجوں کی نشستیں بھی خالی رہ گئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی 100 بڑی کمپنیوں نے ڈگری کی شرط ختم کر دی ہے، پاکستان کو صرف ماسٹرز نہیں بلکہ ایسے مختصر کورسز کی ضرورت ہے جو روزگار کے قابل بنائیں۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بین الاقوامی سطح پر قابل قبول سرٹیفکیشن کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور بتایا کہ ایم کیو ایم نے کراچی کی کچی آبادیوں میں گھروں کے اندر 100 سے زائد غیر رسمی اسکول قائم کیے ہیں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو عمارتوں کے بجائے ہنرمندی کے پروگراموں میں شراکت داری کی دعوت دی ہے۔
کشمیر کے معاملے پر مایوسی کا اعتراف
کشمیری رہنما غزالہ حبیب نے سوال کیا کہ ایم کیو ایم کے نمائندے ماضی میں مخصوص نشستوں پر کشمیر کی اسمبلیوں تک پہنچے اور وزیر بھی رہے مگر موجودہ صورتحال میں جماعت کشمیر کے حوالے سے اتنی بے نیاز کیوں رہی؟
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اسے اہم سوال قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایم کیو ایم نے کشمیر کی نمائندگی کے لیے متوسط طبقے کے لوگ بھیجے تھے لیکن جماعت بھی مایوس ہوئی اور کشمیری عوام بھی مایوس ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم حکومت میں تو ہے لیکن مکمل طور پر سیاسی طور پر آزاد نہیں ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔
کراچی کے حق کے سوال پر واضح لائحہ عمل نہ دے سکے
کراچی کے حق سے متعلق 2 مرتبہ سوال کیے جانے پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی نے اپنا حق لیا ہے اور اسے بھگتا بھی ہے، اس کا انتظام شاید ہو رہا ہے۔
انہوں نے کراچی کو اس کا حق دلانے کے لیے کوئی واضح یا ٹھوس لائحہ عمل پیش نہیں کیا۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کو ایک بڑے ڈیم کی اشد ضرورت تھی اور 50 سال کی پولرائزیشن نے ملک کو بحران کی طرف دھکیلا، یہ موضوع اتنا بڑا ہے کہ اس پر کھلے دل سے بات ہونی چاہیے اور میں فی الحال اس پر بات نہیں کر رہا۔
سیاسی دباؤ اور احتیاط کا اشارہ
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اشارہ دیا کہ جبر اپنی مرضی کی مصنوعی قیادت لانے کی کوشش کرے گا تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے۔
ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ جب کیمرے کے سامنے ہوں تو میں مزید محتاط ہو کر بات کرتا ہوں۔
گفتگو کے اختتام پر بھی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ بہت کچھ کہنا تھا لیکن اب میں احتیاط کرنے لگا ہوں۔
انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے اپنے جیسے شخص کو ووٹ دیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کے لیے قربانی کا وقت ہے اور سیاسی قیادت کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ نہ وہ خود اور نہ ان کا خاندان آئندہ کبھی الیکشن لڑے گا۔
پاکستان کو دواؤں کی بھی ضرورت ہے
اختتام پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کو دعاؤں کی زد میں بھی رکھیں لیکن دواؤں کی بھی ضرورت ہے، پاکستان طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ صرف انصاف کے ذریعے قائم رہ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کے کونے کونے میں رہنے والے ہر فرد کو برابر کا حق دار اور برابر کا وفادار نہیں سمجھا جائے گا، پاکستان کی تقدیر نہیں بدلے گی۔
تقریب میں ’اسٹینڈ وِد پاکستان‘ کے قائم مقام صدر سبیل عباسی، افتخار درپن، سید فیاض حسن، میزبان اے زی قاسمی، تنظیم کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین سید آفتاب صدیقی اور غزالہ حبیب سمیت ڈیلس کی کاروباری، سماجی، علمی اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔