نمازِ فجرا دا کرنے کے بعد، وہ ابھی اپنے جہاز کے کاک پٹ (Cockpit) میں داخل ہوا ہی تھا کہ سائرن بجا اور اُس کے ساتھی نے آکر کاک پٹ پر دستک دی۔ سائرن اور دستک کی آواز سنتے ہی اس نے بسم اللہ اور کلمۂ طیبہ پڑھتے ہوئے پوزیشن سنبھال لی۔7 ستمبر 1965ء کا سورج اپنی کرنیں زمین پر پھیلانے کی تیاری پکڑ رہا تھا۔ اُس نے جہاز کو اُڑان کے لیے اسٹارٹ کیا۔
اُسے بخوبی علم تھا کہ دشمن کے جہازوں کی تعداد پاک فضائیہ کے جہازوں کی نسبت تین گنا زیادہ ہے، مگر پھر بھی اسے اللہ کی مدد اور اپنی غیرمعمولی جنگی ہوائی مہارت پر یقین تھا کہ اُس کے ہاتھوں آج کوئی بڑا کارنامہ سرانجام پانے والا ہے۔ شاید اُس کی دُعائیں بارگاہ الہٰی میں ’’آمین‘‘ ہوچُکی تھیں۔ اُس نے نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر بلند کیا اور ٹیک آف کے لیے تیار ہوگیا۔
وہ اپنی فضائی بیس کے چکر لگا رہا تھا کہ اِسی دوران اُسے ریڈار سے دشمن کےطیارے اپنی سرزمین میں داخل ہونے کے سگنلز موصول ہوئے، ابھی اُس کی نظریں یہ پیغام پڑھ کر جنبش ہی میں تھیں کہ وہی دو طیارے آسمان پر اُس کی ایئربیس کی طرف مُڑتے دکھائی دیئے۔ دشمن کے ایک جہاز نے راکٹ فائر کیا، اور پھر دونوں طیاروں نے اپنی پوزیشن بدلی اور اپنی سرحد کی جانب واپس مُڑے۔
اُس نےجیسے ہی دشمن کے جہازوں کو واپس مُڑتے دیکھا، اُسی لمحے اُن کےتعاقب کا فیصلہ کر لیا۔ اِسی دوران اُسے دشمن کے دو مزید ہنٹر طیارے دکھائی دیئے۔ اس نے فوری اپنے ہدف کو نشانے پر لیا اور دشمن کے ایک جہاز پر میزائل دے مارا۔ جہاز اُس کی نظروں کے سامنے چاروں اطراف سے آگ کی لپیٹ میں آکر زمین بوس ہوچُکا تھا۔
آسمان پر دھواں ہی دھواں تھا اوردھویں کے اِن بادلوں ہی کا فائدہ اُٹھاتے دشمن کے بقیہ جہاز غائب ہوچکے تھے، مگر وہ بھی عقابی نگاہیں لیے دشمن طیاروں کے تعاقب ہی میں رہا اور بالآخر دریائے چناب عبور کرنے کے بعد جیسے ہی چاروں طیارے ایک ہی رُخ میں مڑے، اُس شاہین نے چاروں کو یکے بعد دیگرے اپنے نشانے پر لے لیا۔
ایک ایک کرکے چاروں طیارے زمین پر آرہے۔ اور وہ… کاک پٹ میں بیٹھا نظریں آسمان کی طرف لگائے، زمین و آسمان کے مالک کا شکریہ ادا کررہا تھا، جس کی منظوری، مہربانی و کرم کی بدولت وہ یہ کارنامہ سرانجام دینے کے قابل ہوا۔ اب آسمان پر صرف پاک فضائیہ کا یہی ایک سپوت اپنے طیارے میں بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ ؎ نظر ڈالی اگر تُونے میری ارض پاک پر… میرا وعدہ ہے دشمن، تیری ہستی مٹا دیں گے۔
دشمن کے پانچ طیارے نیست و نابود کرکے وہ انتہائی خوش تھا، اُس نے ربِ قدیر کا شکریہ ادا کیا اور اپنا جہاز پاک فضائیہ کے اڈے پر بحفاظت اتارلیا۔ جیسے ہی وہ جہاز سے نیچے اُترا، اس کے ساتھیوں نے فاتحانہ نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر بلند کیا اور اسے کاندھوں پر اُٹھالیا۔ اُس نے اپنے ملک کی سرحدوں کا دفاع کرکے نہ صرف پاک فوج، مُلک قوم کا سر فخر سے بلند کیا تھا، بلکہ 55سیکنڈز میں (ایک منٹ سے بھی کم وقت میں) دشمن کے پانچ طیارے تباہ کرکے دنیا کی ہوا بازی کی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کردیا تھا۔ جنگ 65ء کی تاریخ میں اُس کا نام سنہری حروف سے لکھا جاچکا تھا۔
اُسے پاکستان کے تیسرے بڑے فوجی اعزاز ’’ستارۂ جرات‘‘ سے نوازا گیا۔ اس نڈر، ہمت و جرأت کے پیکر، جاں باز ایئر ایئر کموڈور کا نام محمد محمود عالم تھا۔ محمد محمود عالم کی پیدائش 6 جولائی 1935ء کو کلکتہ میں ہوئی۔ ایم ایم عالم کو پاکستان سے جنون کی حد تک محبت تھی۔ اُن کی بچپن سے خواہش تھی کہ وہ ہوا باز سپاہی بن کر اپنے مُلک و قوم کا دفاع کریں اور اِسی شوق، خواہش کی تکمیل کے لیے سن 1952ء میں پاکستان ایئرفورس میں شمولیت اختیار کی۔
دنیا کی ہوا بازی کی تاریخ میں رقم ہونے والے ایم ایم عالم کے عظیم الشان کارنامے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے پاک فضائیہ کی جانب سے اُن کا مجسمہ پی ایف میوزیم، کراچی میں نصب کیا گیا، تو ان کے اعزاز میں گلبرگ مین مارکیٹ کی سڑک کا نام ، ایم ایم عالم روڈ رکھا گیا۔ نیز، پاک فضائیہ کے اس دلیر غازی اور مُلک و قوم کے ہیرو، ایم ایم عالم کو ’’فالکن‘‘ اور’’لٹل ڈریگن‘‘ کے القابات سے بھی نوازا گیا۔ ہمارے اس قومی ہیرو کا انتقال18مارچ 2013ء کو ہوا۔
ان کی نمازِ جنازہ پاک فضائیہ کے مسرور بیس پر ادا کی گئی اور بعد ازاں، میانوالی ایئربیس کا نام ایم ایم عالم ایئربیس رکھ دیا گیا۔ بلاشبہ، ایم۔ ایم عالم پاکستان کے ایک ایسے بےمثال ہیرو ہیں، جن کا نام ہمارے دِلوں اور تاریخ کی کتابوں میں امر ہوچکا ہے۔ پاک فوج زندہ باد، پاکستان ائیرفورس پائندہ بار اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
(مزمّل حسین چیمہ (جانباز پاک آرمی) راوی روڈ، ہڑپا سٹی،تحصیل و ضلع ساہی وال)