لبنیٰ مزمل انصاری
’’اللہ…!!‘‘کی صدا کے ساتھ ایک چیخ بلند ہوئی اورسبین پُرسکون ہوگئی۔ اُس نے آنکھیں موند لیں اور دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر بجا لائی کہ جس نے اُسے اِس ناقابلِ برداشت تکلیف سے نجات دی۔ چند ہی لمحوں بعد نرس نے ایک ننّھے سے وجود کو سبین کی دائیں جانب لٹا دیا۔ اُس نے چونک کر دیکھا اور مسکرا دی۔ نرس نے مبارک باد دی اور اس ننّھے سے وجود کو پھر اپنی بانہوں میں لے کے سبین کو مخاطب کرتے ہوئے بولی۔
مسز علی! آپ کچھ دیر لیبرروم ہی میں رہیں گی۔ مَیں آپ کی بیٹی ، باہرآپ کی تیماردار کے حوالے کر رہی ہوں۔ ’’بیٹی…؟‘‘سبین نے سوالیہ انداز میں نرس کی طرف دیکھا۔ ’’جی، بی بی… آپ کی بیٹی ہی ہوئی ہےاور بہت ہی پیاری ہے۔‘‘ نرس نے بچّی کو سبین کے سامنے کیا اور پھر مسکراتی ہوئی اُسے لےکر باہر نکل گئی۔ سبین کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اللہ نے اُسے اپنی رحمت سے نوازا تھا۔ سبین جتنا بھی شُکر ادا کرتی، کم تھا کہ دو بیٹوں کے بعد سبین اورعلی کی خواہش بیٹی ہی کی تھی اورآج اللہ نے انھیں اِس رحمت سے سرفراز فرما دیا تھا۔
نرس نے ننّھے سے وجود کو دادی کی گود میں دے دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد تینوں پھوپھیاں بھی اپنے چنوئوں منوئوں کے ساتھ اسپتال میں موجود تھیں۔ ’’امّی! کتنی پیاری ہے میری بھتیجی … علی بھائی کی کاپی لگ رہی ہے۔‘‘ یہ طیّبہ آپا تھیں۔ ’’ارے نہیں، غور سے دیکھو، دہانہ تو بالکل سبین کی طرح ہے۔‘‘ فاطمہ بھی گویا ہوئیں۔ ’’ہمممممم…‘‘ باقی افراد نے بھی تائید میں سرہلایا۔ ’’امّی! اِس کا نام کیا رکھیں…؟؟‘‘ یہ صفیہ تھیں، سب سے چھوٹی پھوپو۔’’میری پوتی اتنی خُوب صورت ہے، مَیں تواس کانام جمیلہ رکھوں گی۔‘‘
امّی تو جیسے سوچے بیٹھی تھیں۔ ’’نہیں امّی، نہیں… اتنا پرانا نام!‘‘طیّبہ تڑخ کر بولیں۔ کوئی نئےدَورکا نام رکھیں گے۔‘‘ ’’نئے دَورکا کیا نام؟‘‘ امی کو اختلاجِ قلب شروع ہوگیا۔ ’’ہاں امّی! نئے دَور کا، جیسے یشفع، ضاحکہ، وریشہ، اطروبہ وغیرہ وغیرہ۔‘‘ طیّبہ آپا کی فہرست بہت طویل تھی۔ انہی باتوں کے دوران نرس سبین کو روم میں لے آئی تھی۔ سبین خاموشی سے یہ سب دیکھ اور سُن رہی تھی۔ کافی دیر بعد اپنی تمام تر ہمتیں مجتمع کرکے بولی۔ ’’امّی! اِس کا نام مَیں رکھ دوں؟‘‘ امّی نےقدرےغصّے سے سبین کی طرف دیکھا اور تنک کر بولیں۔ ’’ایسے کیسے رکھ دوں، یہ تو دادی، پھوپھی کا حق ہے۔‘‘ ’’ہاں، ہاں بھابھی! نام ہم ہی رکھیں گے۔‘‘صفیہ چہک کر بولیں۔ سبین نے مزید کچھ کہنے کی بجائے آنکھیں موند لیں۔
اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد سبین گھر پہنچی تو اُس کا بہت پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ سارے محلے، خاندان میں مٹھائی تقسیم ہوئی۔ دادی نے پوتی کے ساتھ سبین کا بھی صدقہ نکالا۔ زین، حنین بھی ننّھی سی بہن کو دیکھ کر بے حد خوش تھے۔ کبھی اس کے چھوٹے چھوٹے پاؤں دیکھتے، تو کبھی انگلیاں اور سبین سے کہتے۔ ’’مما! یہ گڑیا ہماری ہے ناں…‘‘ ’’ہاں بھئی، یہ گڑیا آپ دونوں کی ہے۔‘‘ سبین مسکرا دی۔ خاندان اور محلے میں سب ہی علی کی بیٹی کی آمد سےآگاہ ہوچُکے تھے۔ مبارک باد دینے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا اور سبین بیٹی کی آمد پر سب کی خوشی دیکھ کر بےحد مسرور تھی۔
اسپتال سے گھر آئےآج پانچواں دن تھا، مگر بچّی کا نام ابھی تک فائنل نہ ہوسکا تھا۔ چار ممبران کی کمیٹی وقتا فوقتاً بیٹھتی، مگر ہر نام پر اعتراضات کی بنا پر کوئی فیصلہ نہ ہو پاتا۔ امّی اور نندوں کےمنع کرنےکےبعد سبین تو نام رکھنے کے حوالے سے خاموش ہی تھی۔ بالآخر عقیقے کا دن بھی آپہنچا، مگر بچی کا نام نہ رکھا جاسکا۔ سب گڑیا، گڑیا کہہ کر ہی بلاتے رہے۔ سبین اپنے ضروری کام نمٹا کر پہلے خود تیار ہوئی اور پھر زین، حنین اور گڑیا کو بھی تیار کر کے دادی کے کمرے میں لے آئی۔ علی بھی وہیں موجود تھے۔ ’’امّی! پھرکیا نام طے ہوا۔ ‘‘
علی نے امّی سے پوچھا۔ امّی نے ایک نظر بیٹیوں کی جانب دیکھا۔اور بولیں ’’ارے بیٹا! جو نام مجھے اچھا لگتا ہے، وہ تمہاری بہنوں کو پرانا لگتا ہے۔ اور جونیا نام مجھے پسند آتا ہے، اریب قریب کے گھروں میں اُس نام کی کوئی بچی پہلے سے موجود ہے۔ میرا خیال ہے سبین! بچّی کا نام تم خود ہی رکھ لو۔‘‘ ’’ہاں، ہاں سبین! یہ ٹھیک ہے، نام تم خود ہی رکھ لو۔‘‘
پھوپیاں بھی شاید روزروز کی بحث تکرار سے تنگ آچکی تھیں۔ اور…سبین کی تو گویا دل کی کلی کھل اٹھی۔ جلدی سے بولی۔ ’’اچھا! تو پھر ٹھیک ہے، مَیں اِس کا نام مروہ رکھوں گی،مروہ حجاب۔‘‘ ’’مروہ حجاب…؟‘‘ کئی ایک نے دہرایا۔ ’’ہاں، مروہ حجاب۔‘‘ سبین بہت مسرور تھی۔ ’’ارے واہ سبین! تم نے تو بڑا شاعرانہ سا نام سوچا۔‘‘ علی بولے۔ ’’جی، مجھے بہت پسند ہے یہ نام۔ اور اس کی پسندیدگی کی ایک وجہ بھی ہے۔
شاید آپ کو یاد ہو، چند سال پیش تر فرانس میں ایک مروہ الشربینی نام کی خاتون کی شہادت ہوئی تھی۔‘‘ ’’ہاں، ہاں، مروہ الشربینی کا نام سنا ہے، لیکن شہادت کی وجہ معلوم نہیں‘‘ طیبہ آپا بولیں۔ ’’ان کی شہادت کی وجہ حجاب تھی۔ مروہ الشربینی ایک مصری خاتون تھیں۔ جب کہ قاتل ان کا پڑوسی روسی نژاد فرانسیسی تھا۔ وہ مروہ کو حجاب لینے کی وجہ سےدہشت گرد کہتا تھا۔ اُس نے کئی مرتبہ مروہ سے تلخ کلامی کی تو مروہ نے اُس کے خلاف کیس دائر کردیا۔ اورپھرمجرم نے بھری عدالت میں ان پر چاقو سے اٹھارہ وار کیے۔
زخموں کی شدت کی تاب نہ لا کروہ انتقال کر گئیں، جب کہ حملے کے وقت وہ تین ماہ کی حاملہ بھی تھیں۔ بعد میں اُنھیں ’’شہیدۃ الحجاب‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ بس، جب سے میرے ذہن و دل سے یہ واقعہ نہیں نکلتا کہ مروہ الشربینی نے معاشرے کے آگےجھکنے کی بجائےاپنے رب کےحُکم اورنبیﷺ کی اطاعت کی۔
حجاب کی عزت ووقار کی خاطراپنی جان قربان کردی، مگر حجاب کی حرمت پامال نہیں ہونے دی۔ اسی لیے مَیں یہ نام رکھنا چاہتی ہوں تاکہ کل کو میری بیٹی بھی اپنی عزت وعفّت پرجان قربان کرنے والی بنے۔‘‘اورسبین کی اِس وجۂ تسمیہ پرسب کی آنکھیں جُھکی ہی نہیں، باقاعدہ نم بھی ہوگئیں۔