افشاں نوید
گاڑی ایک جھٹکے سے رُکی۔ آگے اسپیڈ بریکر تھا۔ گاڑیوں کی قطار تھی۔ میری نظریں بےاختیار سڑک کے دائیں جانب اُٹھ گئیں۔ جہاں شیشے کی دیواروں والا ایک جدید سیلون تھا۔ اندر کئی نوجوان پوری توجہ سے لوگوں کے بال تراش رہے تھے۔ کسی کے بالوں پر قینچی چل رہی تھی، کسی کی داڑھی سنواری جا رہی تھی، کسی کے چہرے پر مساج ہو رہا تھا۔
مَیں انہیں دیکھتی رہی۔ کتنا عجیب اعتماد ہے انسان کا، وہ ایک اجنبی کے سامنے بیٹھ کر اپنی شخصیت اُس کے حوالے کر دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ چند لمحوں میں یہی ہاتھ اُس میں وہ تبدیلی لے آئیں گے، جس کے بعد وہ خود کو آئینے میں دیکھ کر مطمئن ہوجائے گا۔ پورے اعتماد کے ساتھ مسکرائے گا۔ ہم اسے ’’بال کاٹنا‘‘ کہتے ہیں، مگر حقیقت میں ہئیر ڈریسر کسی حد تک شخصیت تراشنے کا کام کرتا ہے۔
کبھی سوچا، اگراس نائی کے ہاتھ ذرا سے بھی لڑکھڑا جائیں تو ایک خوب صورت چہرہ بگڑ بھی سکتا ہے، لیکن جب وہ مہارت سے اپنا کام مکمل کرتا ہے تو ہم مُسکرا کر اٹھتے، اس کا بل ادا کرتےہیں اور شاید ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچتے کہ ان ہاتھوں کی مہارت کتنی قیمتی ہے۔ گاڑی آگے بڑھی تو مجھے اپنے گھر کے سامنے روز دکھائی دینے والے وہ نوجوان یاد آگئے، جو صبح سویرے بالٹی میں پانی بھر کر منہگی گاڑیوں کی گردصاف کرتے ہیں۔
ایک پرانا کپڑا باربار پانی میں بھگوتے ہیں، پہیوں کے اندر تک جمی مٹی نکالتے ہیں، شیشوں کو اس احتیاط سے چمکاتےہیں کہ کہیں ایک لکیر بھی باقی نہ رہ جائے۔ وہ جن گاڑیوں کو چمکاتے ہیں، شاید ان کی قیمت ان کی پوری زندگی کی کمائی سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کیا ان میں سے کسی نوجوان نے کبھی خواب دیکھا ہوگا کہ ایک دن وہ بھی ایسی گاڑی میں بیٹھے گا یا اس نے خواب دیکھنا بھی چھوڑ دیا ہوگا؟
ایک اور منظر… بڑے بڑے گھروں کے نہایت خُوب صُورت باتھ روم، درآمد شدہ ٹائلز، قیمتی نلکے، خوش بو دار موم بتیاں، بڑے بڑے آئینے، نفیس ایمبرائڈرڈ تولیے… روز صفائی کرنے والی ماسی شاید اُن کے استعمال کی کبھی بھی مجاز نہ ہو۔ اُس کے لیے الگ غسل خانہ ہوتا ہے۔ سادہ، چھوٹا اور اکثر گھر کے پچھلے حصّے میں۔ مَیں سوچتی ہوں، یہ تقسیم آخر کس نے کی؟ کس نے طےکیا کہ ایک انسان اتنا محترم ہے کہ وہ قیمتی صوفے پر بیٹھے، اور دوسرے کا ہاتھ صرف اس صوفے سے گرد صاف کرنے ہی کا اہل ہے؟ اسلام نے انسانوں کو اس ترازو میں کبھی نہیں تولا۔ قرآنِ مجید نے اعلان کیا۔ ’’بےشک، اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے، جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔‘‘ (سورۃ الحجرات،13 )
اللہ نے نہ پیشہ دیکھا، نہ لباس، نہ گھر، نہ بینک بیلنس۔ صرف دل دیکھا، کردار دیکھا۔ مگر ہم نے نت نئے پیمانے ایجاد کر لیے۔ ہم انسان کی عزت ناپتے ہیں، اس کی گاڑی، موبائل، گھر، اس کی ڈگری، عہدے سے۔ حالاں کہ اگر دنیا ایک دن کے لیے بھی اِن محنت کش ہاتھوں سے خالی ہو جائے تو ہماری زندگی صرف چند گھنٹوں میں مفلوج ہو کے رہ جائے۔ ذرا تصور کیجیے، صُبح دودھ والا، صفائی کرنے والا، کچرا اُٹھانے والا نہ آئے۔ بجلی کا لائن مین خراب تار ٹھیک کرنے نہ آئے۔
ڈرائیور گاڑی چلانے سے انکار کر دے۔ کسان کھیتوں میں نہ جائے۔ مستری اینٹیں نہ اُٹھائے۔ پلمبر پانی کا رساؤ بند نہ کرے۔ درزی کپڑے سینا چھوڑ دے۔ نائی بال کاٹنے سے انکار کر دے۔ ماسی کاموں کا بائیکاٹ کردے، صرف ایک دن… بس ایک دن… ہماری روٹین کی زندگی رُک نہیں جائے گی۔ مگر، کتنی عجیب بات ہے ناں کہ ہم انہی لوگوں کو سب سے کم لائقِ عزت سمجھتے ہیں، جن کے بغیر ہماری روزمرہ زندگی کا پہیا چل ہی نہیں سکتا۔
شاید اس لیے کہ ہم نعمتوں کے عادی ہو چُکے ہیں۔ ہوا بند ہوجائے تو اس کی قیمت معلوم ہوتی ہے۔ بجلی چلی جائے تو پنکھے کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔ جب کوئی سہولت چھن جائے تب احساس ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے مخفی ہاتھ کتنے قیمتی تھے۔ مَیں نے اُس روز اختر کالونی میں ایک بڑھئی کو لکڑی پر رندہ چلاتے دیکھا۔ اس کے ہاتھوں کی حرکت میں ایسی روانی تھی، جیسے کوئی ماہر خطاط قلم چلا رہا ہو۔ مجھے لگا کہ لکڑی کو زندگی دینا بھی ایک فن ہے۔ ہر روز دیکھتی کہ موچی موڑ، گلشن اقبال پر ایک موچی جوتے ٹانکتا رہتا ہے۔
وہ اتنی محبت سے جوتوں پر ٹانکے لگاتا ،جیسے کسی اپنے کے زخم سی رہا ہو۔ دنیا کے ہر پیشے میں ایک جمال ہے، مگر ہم نے چند ہی پیشوں کو عزت کا معیار بنا لیا ہے۔ یہ بھی عجب ناانصافی ہے۔ ہم اپنے بچّوں سے پوچھتے ہیں۔ ’’بڑے ہو کر کیا بنو گے؟‘‘ لیکن کبھی نہیں کہتے۔’’جو بھی بننا، پہلے بہترین انسان بننا۔‘‘ ہم انہیں عہدوں کے خواب دکھاتے ہیں، خدمت کے نہیں۔ حالاں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو عزت دی۔ آپ ﷺ نے محنت کرنے والے کو حقارت سے نہیں دیکھا، بلکہ اس کی عزت کی۔
اسلام کا مزاج ہے کہ انسان کی قدر اس کے خلوص، اس کی دیانت اور اس کی محنت سے کی جائے، نہ کہ اس کے پیشے سے۔ ہم اپنے بچّوں کو یہ سکھائیں کہ اگر کبھی کسی دفترمیں داخل ہوں تو چپڑاسی کو بھی اُسی احترام سے سلام کریں، جس احترام سے افسر کو کرتے ہیں۔ اگر کسی گھر میں جائیں، تو ماسی کا بھی شکریہ ادا کریں۔ اگر کوئی نائی آپ کے بال سنوارے تو اس کے فن کی تعریف کریں۔ کوئی مالی پودوں کو پانی دے رہا ہو تو اس کے ہاتھوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ کچھ دے نہ سکتے ہوں تو اکرام کے دو جملے تو منہگے نہیں۔
دنیا میں کوئی ہاتھ معمولی نہیں ہوتا۔ معمولی توہماری نگاہیں ہیں، جو انسان کو اُس کے لباس سے پہچانتی ہیں، اس کے کردار سے نہیں۔درحقیقت ہمیں احساس ہی نہیں کہ معاشرتی نظام صرف بڑے ناموں سے نہیں چلتا، بلکہ اِن گم نام ہاتھوں سے چلتا ہے، جنہیں ہم روزدیکھتے ہیں، مگر پہچانتے نہیں۔ کسی شہر کا حُسن اس کی بلند و بالا عمارا ت میں نہیں ہوتا، بلکہ ان ہاتھوں میں ہوتا ہے، جو ان عمارتوں کی اینٹ اینٹ جوڑتے ہیں۔
کسی سڑک کی خُوب صُورتی اس کا ڈیزائن نہیں، بلکہ وہ مزدور ہیں، جو تپتی دھوپ میں پگھلتا تارکول بچھاتے ہیں تاکہ ہماری گاڑی آرام سے گزرسکے۔ کسی اسپتال کی عظمت صرف بڑے ڈاکٹرز کے ناموں سے نہیں، وہاں فرش صاف کرنے والے اُس خاکروب سے بھی ہے، جو جراثیم سے بھرے ماحول میں دوسروں کی صحت کی حفاظت کررہا ہے۔ نہ جانے ہم کیسے لوگ ہیں کہ ہمارا سلام بھی عُہدے دیکھ کر بدل جاتا ہے۔ اگر سامنے کوئی بڑا افسر ہو تو ہماری آواز کا احترام بڑھ جاتا ہے، لیکن اگر دروازہ کھولنے والا چوکی دار ہو تو ہم اکثر اُس کی طرف دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔
بلکہ اکثر اُس کے سلام کا جواب بھی اشارے سے ہی دے دیا جاتا ہے۔ گویا انسان نہیں، اس کا منصب قابلِ احترام ہے۔ حالاں کہ آپ ﷺ کے پاس آنے والا ہر شخص یہ محسوس کرتا تھا کہ شاید وہی سب سے زیادہ اہم ہے۔ آپﷺ نے کبھی کسی غریب کو اُس کی غربت کے سبب کم تر نہیں سمجھا اور نہ کسی مال دار کو اس کی دولت کی وجہ سے بڑا مقام دیا۔ اسلام نے انسان کی عزت کو اس کے رزق سے نہیں، اس کے تقویٰ اور کردار سے جوڑا۔
کسی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب ہوتی ہے، رِبن کاٹا جاتا ہے، تصاویر بنتی ہیں، اخبارات، الیکٹرانک/ سوشل میڈیا پر خبریں آتی ہیں، لیکن ان مزدوروں کو تقریب میں بھی مدعو نہیں کیا جاتا، جن ہاتھوں نےاس عمارت کو زمین سےآسمان تک پہنچایا۔ تاریخ اکثر عمارت بنانے والے کا نام لکھتی ہے، عمارت اٹھانے والے ہاتھوں کانہیں، لیکن اللہ کی کتاب میں معاملہ مختلف ہے۔ وہاں کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا۔ قرآن کہتا ہے۔ ’’ پس، جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اُسے دیکھ لے گا۔‘‘ (سورۃ الزلزال، 7)
اِسی لیے اسلام نے رزقِ حلال کو عبادت کا درجہ دیا ہے۔ ایک مزدورجب پسینہ بہا کر اپنے بچّوں کے لیے روٹی کماتا ہے تو وہ صرف مزدوری نہیں کررہا ہوتا، وہ اپنے رب کی اطاعت بھی کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔‘‘(سنن ابن ماجہ، حدیث، 2443) یہ صرف اجرت دینے کا حکم نہیں، بلکہ انسان کی عزت بحال کرنے کا منشور ہے۔ اور… آج معاشرے کو شاید سب سے زیادہ اسی احساس کی ضرورت ہے۔ ہم نے کام یابی کی تعریف بدل دی ہے۔
حالاں کہ اگر کوئی درزی اپنی سلائی میں دیانت دار، ایک موچی اپنے کام میں امانت دار، ایک نائی اپنے فن میں مہارت رکھتا ہے، ایک گھریلو مددگارصفائی کو عبادت سمجھ کر کرتی ہے، ایک کسان حلال رزق اُگاتا ہے، تو اللہ کے نزدیک ان کی قدر کسی بڑے منصب والے سے کم نہیں۔ افسوس، ہم نے عزت کی تقسیم بھی دولت کی طرح غیرمساوی کر دی ہے۔ کچھ لوگوں کے حصّے میں احترام بہت زیادہ آگیا اور کچھ کے حصّے میں صرف ضرورت۔ ہمیں اُن کی ضرورت تو ہے، مگر احترام نہیں۔ ہم ان سے کام تو لیتے ہیں، مگر اُن کا نام نہیں پوچھتے۔
ہم ان کی محنت خرید لیتے ہیں، مگر ان کے دکھ نہیں سمجھتے۔ شاید اسی لیے ہمارے معاشروں سے برکتیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ کیوں کہ برکت صرف دولت سے نہیں، انسانوں کی عزت سے بھی آتی ہے۔ مَیں کبھی سوچتی ہوں، اگر قیامت کے دن ہم سے پوچھ لیا گیا کہ تم نے کتنے چھوٹے سمجھے جانے والے انسانوں کا دل رکھا، کتنے مزدوروں، محنت کشوں، ماسیوں کو کبھی اپنے دستر خوان پر بٹھایا، کتنے ڈرائیورز کو انسان سمجھ کران کو سہولت فراہم کی؟؟ تو شاید ہمارے پاس جواب میں سوائے ندامت کےکچھ نہ ہو۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بننا ہے۔
اُنہیں یہ بھی سکھانا چاہیے کہ اگر کبھی زندگی میں کوئی صفائی کرنے والا ملے تو اس کی آنکھوں میں دیکھ کرسلام کرنا۔ اگر کوئی ویٹر کھانا پیش کرے تو شکریہ کہنا۔ ایک مہذب معاشرہ صرف قوانین سے نہیں، دِلوں سے بنتا ہے۔ اور دل اُسی وقت مہذب ہوتے ہیں، جب وہ ہر انسان میں اللہ کی تخلیق دیکھنے لگتے ہیں۔ شاید دنیا کاسب سے خُوب صُورت انسان وہ ہے، جس کے ہاتھ کسی دوسرے انسان کی زندگی آسان بنا رہے ہوں۔
ایک کسان کے ہاتھ مٹی میں لتھڑے ہوتے ہیں، مگر وہی مٹّی ہمارا رزق بن جاتی ہے۔ ایک مستری کے ہاتھ بجری، سیمنٹ سے بھرے ہوتے ہیں، اور وہی مٹّی گارا، سیمنٹ ہماری چھت بن جاتا ہے۔ ایک صفائی کرنےوالے کے ہاتھ گندگی آتی ہے، مگر اُسی کے بعد ہمارے گھر صاف ستھرے، پاکیزہ و پوتر ہو جاتے ہیں۔ ایک نائی کے ہاتھ قینچی ہوتی ہے، اور وہ کسی کی شخصیت کا اعتماد بڑھا دیتا ہے۔
اور ایک ماں کے ہاتھ… اُن کے بارے میں تو شاید دنیا کی کوئی زبان مکمل جملہ بھی نہ لکھ سکے۔ سو، اگلی بارجب آپ کسی مزدور، مالی، ماسی، ڈرائیور، چوکی دار، نائی، موچی یا سبزی فروش کو دیکھیں تو اس کے ہاتھوں کی طرف ضرور دیکھیے گا۔ اُن ہاتھوں کی لکیروں میں صرف محنت نہیں، آپ کو اپنی زندگی کی سہولتیں بھی نظرآئیں گی۔ ہوسکتا ہے، وہ ہاتھ کھردرے ہوں، اُن پر چھالے ہوں، ناخن ٹوٹے ہوئے، انگلیوں پر زخم ہوں، لیکن یاد رکھیں، انہی ہاتھوں نے ہماری زندگیوں کو صاف ستھرا، حسین ودل کش اوربےحد سہل وآسان بنایا ہے۔
ہم ان کی مزدوری تو ادا کرسکتے ہیں، ان کی عظمت کا حق کبھی ادا نہیں کر سکتے۔ اللہ کرے، ہمارے دل اتنے وسیع ہوجائیں کہ ہم انسانوں کو ان کے ملبوسات، گھروں، گاڑیوں یا ان کے پیشوں سے نہیں، بلکہ ان کی انسانیت، محنت اور اُن کے کرداروں سے پہچاننے لگیں۔ کیوں کہ جب معاشرےہاتھوں کی محنت کا احترام کرنا سیکھ لیتے ہیں، تو پھر صرف عمارات نہیں بنتیں، تہذیبیں جنم لیتی ہیں۔