مسز عادل
ماہ نور نے ہلکے گلابی رنگ کا اسکارف پہنا اور دوپٹا پھیلا کر اوڑھ لیا۔ وہ دل ہی دل میں امّی کو دُعائیں دے رہی تھی کہ انہوں نے جہیز میں ہر سوٹ کے ہم رنگ بڑے سائز کے دوپٹے دیے تھے۔ ’’بیگم صاحبہ! سب ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ امجد نے مسکراتے ہوئے کہا۔ چھوٹی نند بھی بلانے آچُکی تھی۔ وہ جھجکتے ہوئے امجد کے ساتھ کمرے سے باہر نکلی۔ سسرال میں پہلی صُبح تھی، ماحول امّی کے گھر سے قدرے مختلف محسوس ہورہا تھا۔ دل میں یہی سوچتی رہی کہ اب کیا کروں گی، سب کے سامنے کیسے بیٹھوں گی۔
کبھی دُعا کرتی، کبھی درود شریف پڑھتی۔ ’’بیٹی! تم ایک بڑےخاندان میں جارہی ہو۔ ہر شخص کا مزاج، پسند، ناپسند الگ ہوتی ہے۔ وہ سب تم کوپیار دیں گے، خیال رکھیں گے۔ عزت بھی کریں گے، لیکن ابتدا تم کو کرنی ہوگی۔ پہلے تم سب کی عزت کرنا، خیال رکھنا تو کچھ وقت بعد وہ خودبخود تمہارے گرویدہ ہو جائیں گے۔ بیٹی! تمہارے ہراچھے، بُرے عمل کو ماں کی تربیت سے جوڑا جائے گا اور مجھے یقین ہے، تم میرا مان رکھوگی۔‘‘ امی کی نصیحتیں کانوں میں گونج رہی تھیں۔ کھانے کے کمرے میں سب ہی اُن کے منتظر تھے۔
اُس نے سلام کرکے ساس کا ہاتھ چُوما۔ محبّت کے اِس انداز نے ساس کوخوش کر دیا۔ اُنہوں نے بہو کو دُعا دی۔ دسترخوان بچھا ہوا تھا۔ تمام مرد دسترخوان پر ایک ہی قطار میں بیٹھے تھے۔ امجد بھی اُن کےساتھ بیٹھ گیا۔ ان کےسامنے خواتین بیٹھی تھیں۔ وہ مردوں کے سامنے بیٹھنے سے کترارہی تھی۔ ’’ربِ کریم! میری مدد کیجیے۔‘‘ اُس نے دل ہی دل میں دُعا کی۔ ماہ نور خواتین کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے ساس کے برابر بیٹھ کر ڈش اٹھا کے اُن کی پلیٹ میں آملیٹ ڈالنے لگی۔ اُنہوں نے پیار سے اُس کے ہاتھ سے ڈش لے کرخُود ماہ نور کی پلیٹ میں ڈال کر محبّت سے اُسے امجد کے ساتھ بٹھادیا۔ وہ پُرسکون ہوکر خواتین کے سامنے امجد کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔
دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ ماہ نور حجاب کرتی تھی مگر سسرال کا ماحول میکے سے مختلف تھا۔ رشتہ طے ہونے کے بعد ماہ نور کے والدین کو اندازہ ہوگیا تھا مگر لڑکا اور اس کا خاندان باقی ہر لحاظ سے بہترین تھا، لہٰذا ماں نے بیٹی کو حکمتِ عملی سے چلنے کا درس دیا۔ اُن کو اپنی تربیت پر پورا اعتماد تھا کہ ماہ نور کی شخصیت عبادت گزاری، ادب و احترام، صبروبرداشت اورخلوص واپنائیت جیسی صفات سے مالا مال تھی۔ ماہ نور نے بھی اپنی ماں کا مان رکھا اور اپنی محبّت و اطاعت سے جلد ہی سسرال والوں کے دل جیت لیے،خصوصاً امجد کے تو دل پر راج کرنے لگی تھی۔
بڑا گھرانہ تھا۔ وہ لمبی آستینوں کی قمیص کے ساتھ ماتھے تک دوپٹا اوڑھے رکھتی کہ اُس کو ہمیشہ نانی جان کی بات یاد آتی تھی کہ ’’بٹیا!حجاب بس ایک کپڑے کے ٹکڑے کا نام نہیں، یہ ہماری تہذیب، ہمارا طرزِحیات ہے۔‘‘ شروع میں اُس کے دوپٹے، حجاب پر نندیں، جیٹھانیاں کچھ جملے بھی کس دیتیں، مگر وہ بغیر برا منائے مُسکرا دیتی۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ سب ہی اُس کی شخصیت کی گرویدہ ہوتے چلے گئے۔ ساس، نندوں اور جیٹھانی سے وہ بہت محبّت،خوش اخلاقی سے بات کرتی۔ گھر کے سب کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی۔ شادی کے بعد ماہ نور کی سُسرال میں پہلی عید تھی اور عید کے تیسرے دن خاندان والوں کی دعوت رکھی گئی تھی۔
ساس نے سب میں کام تقسیم کرتے ہوئے اُس پر انتظامات کی ذمّے داری ڈال دی۔ ماہ نورنےدل ہی دل میں دُعائیں کرتے ڈرائنگ روم اور لاؤنج میں الگ الگ انتظام کا سوچا۔ اپنے جہیز کی چادر کا پورا سیٹ نکالا،خوب صورت چادر تخت پر بچھائی۔ گاؤتکیوں پر نئےغلاف چڑھائے، کشنز رکھے۔ جہیز میں کرسٹل کے گل دان تھے، جو جگہ نہ ہونے کے باعث پیک پڑے تھے۔ وہ نکالے اور لان سے پھول چن کےگل دستے بنا کر سجادیئے۔
فریج میں کھجوروں کے ڈبّے پڑے تھے، تو اس نے ساس سے اجازت طلب کی۔’’امّی جان! مَیں ان سے اسٹفڈ کھجوریں بنالوں؟‘‘ ’’دلہن تھک جاؤ گی۔‘‘ ساس نے محبّت سے کہا، تو وہ حسبِ عادت مُسکرا دی۔ ’’امّی جان! آپ فکر نہ کریں، سب ہو جائے گا۔‘‘ اُس نے اسٹفڈ کھجوریں تیار کر کے، خُوب صُورت پلیٹر میں سجا کے فریج میں ٹھنڈی ہونے کے لیے رکھ دیں اور جہیز ہی کا ڈنرسیٹ نکال کر کھانے کی میز پر سجادیا۔ ’’امی جان! سب سیٹ ہوگیا ہے، آپ چیک کرلیں۔‘‘ سجاوٹ کو آخری شکل دے کر ساس سے کہا، تو ساس اس کا سلیقہ، محنت دیکھ کردل سے معترف ہوگئیں۔ محبّت سےاس کا ماتھا چُوم کردُعائیں دیں۔
ساس کا خوش گوار موڈ دیکھ کرماہ نور نے حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن سے اجازت طلب کی۔ ’’امّی جان! اگر ڈرائنگ روم میں مَردوں اور لاؤنج میں خواتین کا انتظام رکھا جائے تو کیسا رہے گا، اس طرح سب آرام سے بیٹھ جائیں گے اور سکون سے کھانا کھائیں گے۔‘‘ ساس تو پہلے ہی اُس کےخوش سلیقگی، بےلوث محبت سےنہال تھیں۔ اس کی تجویز بھی مناسب لگی، تو فوراً ہاں کردی۔ ماہ نور نے دل ہی دل میں رب کا شکر ادا کیا۔ سب مہمانوں نے اُس دن انتظامات، سجاوٹ وغیرہ کو بہت سراہا۔ خواتین کھانے کے بعد آرام سے گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے گپ شپ کرتی رہیں۔ سب ہی بے حد خوش ہو کر گئے۔
ماہ نورکی دیکھا دیکھی غیرمحسوس طریقے سے گھرکے ماحول میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی تھی۔ اب گھر کی اکثر تقریبات کے لیے مردوں،خواتین کی علیحدہ نشست کا انتظام کیا جاتا۔ کئی لوگوں نے باقاعدہ نماز پڑھنی شروع کی اورامجد تو باجماعت نمازی بن گیا۔ ماہ نورکی دُعائیں رنگ لا رہی تھیں۔ ایک ہی برس بعد رب تعالیٰ نے اُسے بیٹی جیسی رحمت سے نواز دیا تو وہ دن رات کی اس کی تربیت میں مصروف ہوگئی۔ ’’بھابھی! چھوٹی بچیوں کو کون پوری آستینیں اور پاجامے پہناتا ہے، ابھی تو بچّی ہے۔‘‘ ایک روزاُس کی نند نے ٹوکا۔ ’’بھئی، ہم نے بھی بیٹیاں پالی ہیں۔ اتنی چھوٹی بچّی کودُعائیں پڑھاتی رہتی ہو۔
کبھی نماز کے لیے چھوٹی جائے نماز بچھا دیتی ہو، یہ کچھ زیادہ نہیں ہے۔‘‘ جیٹھانی نے بھی لقمہ دیا۔ تو جواباً ماہ نور نے مُسکراتے ہوئے انتہائی محبّت سے بس اتنا کہا۔ ’’ابھی سے بتاؤں گی تو عادات پختہ ہوں گی۔ ہماری امّی نے بھی ہمیں اِسی عُمر سے اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔‘‘ اور پھر جب ربِ کریم نے اُسے بیٹے سے نوازا تو وہ کچھ اور بھی فکرمند رہنے لگی کہ کہیں بچّوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی کوتاہی نہ رہ جائے۔ مَیں رب تعالیٰ کو روزِ حشر کیا جواب دوں گی۔‘‘
اب وہ پہلے سے بھی زیادہ دُعائیں کرتی۔ ’’یارب! میری اولاد اور میری آنے والی نسلوں کو شیطان کے شر سے بچا کررکھنا، یارب! مجھےمیرے زوج اور میری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور مجھے اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل فرمالے۔‘‘ وہ ساس کی خدمت پہلے سے بھی بڑھ کر کرتی، جواباً وہ دُعائیں دیتیں تو اُن سے اپنی اولاد کے لیے دعاؤں کی درخواست کرتی۔ ساس اس کی تعریفیں کرتے نہ تھکتی تھیں۔ خاندان بھر میں ماہ نور کی مثالیں دی جاتیں۔
یوں ہی وقت گزرتا گیا۔ ظلِ ہما بھی اپنی ماں ماہ نورکی طرح تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ با اخلاق و سلیقہ مند تھی۔ رشتوں کو محبتوں سے جوڑے رکھنے کا ہنر جانتی تھی۔ ماہ نور نے اُس کی تعلیم مکمل ہوتے ہی اُس کی شادی کردی اور اب وہ اپنے سسرال میں خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی۔ بیٹا انجینئر بن گیا تھا۔ برسرِروزگار ہوگیا تو اس کی بھی شادی کردی۔ بہو بھی ماشاء اللہ فرماں بردار تھی۔
اُس دن ماہ نورکی شادی کی سال گرہ تھی، جب امجد نے بہت پیارسے اُس کےہاتھ تھام کے شادی کی سال گرہ کا تحفہ دیتے ہوئے کہا۔ ’’ماہ نور! تمہارا بہت شکریہ، تم نے اپنی محبّت اور خدمت گزاری سے نہ صرف سب کے دل جیتے، بلکہ بچّوں کی ایسی اعلیٰ تربیت کی کہ آج ہماری بیٹی سُسرال میں راج کررہی ہے، تو بیٹا کام یاب سافٹ ویئرانجینئر ہے۔
پھر بیٹا، بہو ہمارے بےحد فرماں بردار بھی ہیں، جب کہ میرے خاندان کا ہر فرد ہر معاملے میں تمہاری رائے کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ تم نے اپنے والدین کی بہترین تعلیم وتربیت کے بدولت جس طرح میری زندگی کو جنّت بنایا، مجھے یقین ہے، ہماری بیٹی بھی اپنی ازدواجی زندگی میں تمھارا ہی پَرتو ثابت ہوگی۔‘‘ اور تب ماہ نور نے پوری طمانیت وسکینتِ قلب کے ساتھ آنکھیں موند کے اپنے رب کا شُکرادا کیا۔ ’’مالکِ کائنات! مَیں نے آپ کا حُکم مانا، آپ کی لگائی حدوں کی پاس داری کی، تو آپ نے بھی مجھے سُرخ رُو کر دیا۔‘‘