1992ء وہ سال تھا، جب پاکستان نے ’’اوپن اسکائی پالیسی‘‘اپنانے کا فیصلہ کیا۔ اس اہم فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ مُلک کے معاشی مرکز، کراچی کو ایوی ایشن حب یا ہوا بازی کے مرکز کے طور بھی ترقّی دی جائے۔ واضح رہے، جغرافیائی اعتبار سے عالمی فضائی نقشے میں شہرِ قائد کا محلِ وقوع خاصی تزویراتی اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ اس کے مشرق میں جنوبی ایشیا، مغرب میں امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا اور مشرقِ وسطیٰ، جب کہ شمال میں وسطی ایشیا اور پھر یورپ واقع ہے۔
یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ کراچی ایک بڑا بین الاقوامی ٹرانزٹ سینٹر ہے، جہاں سے دُنیا کے کسی بھی کونے میں فضائی ٹریفک کے ذریعےرسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور عروس البلاد کی یہی خاصیت پیشِ نظر رکھتے ہوئے 1992ء میں ’’اوپن اسکائی پالیسی‘‘ اپنائی گئی۔
سادہ الفاظ میں اس پالیسی کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اس کے تحت ایک مُلک، غیرمُلکی ایئرلائنز کواپنی فضائی حدود میں زیادہ سے زیادہ پروازیں آپریٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس مقصد کےلیے دو طرفہ معاہدے کیے جاتے ہیں، جن میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون کون سی ایئر لائنز اپنی پروازیں آپریٹ کر سکتی ہیں؟ یہ پروازیں کن کن شہروں کے درمیان ہوں گی؟ ایک ہفتے میں کتنی فلائٹس آپریٹ کی جائیں گی؟ مسافروں کی گنجائش کتنی ہوگی؟ اور کیا یہ پروازیں کسی تیسرے مُلک کے مسافروں کو بھی لےجاسکتی ہیں یا نہیں؟
تاہم، اس قسم کے معاہدوں میں فریقین کو ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ یعنی اگرکسی مُلک کی ایئرلائنز کو پاکستان کی فضائی حدود میں زیادہ رسائی دی جاتی ہے، تواس کے بدلے دوسرا مُلک بھی پاکستانی ایئرلائنز کو مساوی مواقع دینے کا پابند ہوگا۔
تب پاکستان میں صرف ایک ایئرلائن، پی آئی اے ہی تھی۔ 1995ء میں پاکستان اور امریکا کے مابین پہلا دوطرفہ اوپن اسکائی معاہدہ ہوا اور کراچی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ غیرمُلکی ایئرلائنز سے مقابلے کے لیے کھول دیا گیا۔ اس موقعے پر یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مسابقت کی فضا سے پی آئی اے کے کرائے مناسب اور طیّارے جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہوجائیں گے، پاکستانی ایئرلائن بھی وقت کی پابندی کرنے لگے گی، مسافروں کو بہتر سہولتیں میسّر ہوں گی اور انتظامی امور بھی بہتر ہوں گے لیکن صرف ایک سال بعد ہی یہ معاہدہ منسوخ کردیا گیا اور ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس عمل سے پی آئی اے کو شدید مالی نقصان ہوا۔
بعد ازاں، گرچہ بعض ناگزیر وجوہ کی بناس پر کراچی ہوا بازی کا مرکز تو نہ بن سکا لیکن پاکستان کی فضائی حدود میں غیر مُلکی ائیرلائنز کی آمدورفت بڑھ گئی اور مسابقت میں بھی اضافہ ہوا۔ ان میں زیادہ تر دُبئی، دوحا، ابوظبی اور استنبول کی پروازیں شامل تھیں۔
’’اوپن اسکائی پالیسی‘‘ کا پاکستان کو ایک فائدہ یہ ہوا کہ اس کے ایوی ایشن کلچر میں غیرمعمولی تبدیلی رُونما ہوئی۔ چوں کہ پاکستان آبادی کے اعتبار سے دُنیا کا ایک بڑا مُلک ہے اور ایک کروڑ سے زائد پاکستانی تارکینِ وطن دُنیا بَھر میں آباد ہیں، جو سارا سال سفر کرتے ہیں، لہٰذا پاکستان غیر مُلکی ائیرلائنز کے مسافروں کی آمدورفت کا مرکزبن گیا، جسے ’’فیڈر حب‘‘ کہا جاتا ہے۔
تاہم، یہ صُورتِ حال پی آئی اے کے لیے خاصی پریشان کُن تھی، کیوں کہ کراچی ہوابازی کا مرکز بننے کی بجائے غیر مُلکی ایئرلائنز کی مارکیٹ بن گیا تھا اور اس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں پی آئی اے کا شیئر کم ہوگیا۔ دوسری جانب یہ مسابقت غیرمساوی بھی تھی، کیوں کہ خلیجی ایئرلائنز ہماری قومی ایئرلائن کے مقابلے میں زیادہ جدید اور کارکردگی کی حامل تھیں۔
علاوہ ازیں، ان کے بیڑے بڑے، نیٹ ورک عالمی اور انتظامیہ سیاست زدہ ہونے کی بجائے پروفیشنل تھی، نیز یہ تاثر بھی غلط ہے کہ خلیجی ممالک کی ایئرلائنز کو پی آئی اے نے پروان چڑھایا۔ یاد رہے، ان ایئرلائنز میں خلیج کی امیر ریاستوں نے غیرمعمولی سرمایہ کاری کی تھی، نیز دُنیا بَھر سے ایوی ایشن پروفیشنلز کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، جب کہ ان کے پاس ایندھن کی تو کوئی کمی ہی نہ تھی۔
2025ء میں سامنے آنے والی پارلیمانی کمیٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’اوپن اسکائی پالیسی‘‘ کے تحت ہوا بازی کے مختلف معاہدوں کے ذریعے غیرمعمولی فراخ دِلی و فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوحقوق غیر مُلکی ایئرلائنز کو دیے گئے، اُن سے سب سے زیادہ فائدہ خلیج کی ایئرلائنز نے اُٹھایا اور اس عمل نے پی آئی اے کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا۔ نتیجتاً، بین الاقوامی مارکیٹ میں پی آئی اے کا شیئر50 فی صد سے کم ہو کر 20 فی صد پر آگیا۔
اس ضمن میں وزیرِ ہوا بازی نےایک مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یواے ای کی ’’ایمریٹس ایئرلائن‘‘ پاکستان میں 11 رُوٹس پر چلتی ہے، جب کہ پی آئی اے کی پروازیں صرف دُبئی تک محدود ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ خلیجی، تُرک اور سری لنکن ایئرلائنز نے صرف2017ء میں107ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ’’اوپن اسکائی پالیسی‘‘ نے پی آئی اے کو تباہ کیا؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دراصل مذکورہ پالیسی نے پی آئی اے کو اُس مقابلے میں جھونک دیا کہ جس کے لیے وہ تیار ہی نہیں تھی اور اس کی وجوہ میں بیڈ گورنینس، سیاست زدہ انتظامیہ، سفارشی کلچر، نا اہل عملہ، ضرورت سے زائد اسٹاف، فلیٹ کو جدید نہ بنانا، طیّاروں میں اضافہ نہ کرنا، یونین کی بےجا مداخلت، سیفٹی اصولوں کو نظر انداز کرنا، آپریٹنگ کاسٹ کا بہت زیادہ ہونا، یورپی رُوٹس کی بندش، پائلٹس کا ڈگری اسکینڈل، غیرمعمولی ٹیکس اورایوی ایشن کا منہگا ہونا قابلِ ذکر ہیں۔
یاد رہے، پارلیمانی کمیٹی نے خود پی آئی اے کی اُن خامیوں کی نشان دہی کی، جنہوں نے قومی ادارے کو مسابقت کےقابل ہی نہ چھوڑا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پی آئی اے کو ایک اور اہم مسئلے کا بھی سامنا کرنا پڑا، جسے ہوا بازی کی زبان میں ’’سِکستھ فریڈم‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پی آئی اے کی تباہی کی سب سے اہم تیکنیکی وجہ ہے اور اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ مثال کے طور پر اگر ایمریٹس ایئرلائن کا رُوٹ کراچی، دُبئی، لندن ہے اور مسافر دُبئی نہیں جا رہا بلکہ اس کی منزل لندن ہے، تو دُبئی دو ممالک کے درمیان رابطے کا مرکز ہے۔ اسے ’’سِکستھ فریڈم‘‘ کہا جاتا ہے۔ تجارتی نقطۂ نظر سے یہ ایک انتہائی منافع بخش طریقہ ہے اور خلیجی ایئرلائنز نے اسے بہترین انداز سے استعمال کیا۔
آج برطانیہ، امریکا یا کینیڈا جانے والا ہر مسافر دُبئی اوردوحا سےگزرتا ہےاوراس طرح پاکستان خلیجی ایئرلائنز کو مسافر فراہم کرنے کا مرکز بن گیا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے خاص طور پر خلیجی ایئرلائنز کی جانب سے ’’سِکستھ فریڈم‘‘ کے غیرمعمولی استعمال پر تنقید کی اور یہ بھی بتایا کہ اس طریقے سے پی آئی اے کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم، افسوس اور تعجب کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت اورپی آئی اے کی نئی نجی انتظامیہ نے ان معاملات پر کُھلے عام بحث شروع نہیں کی۔ ایسا لگتا ہے کہ یا تو وہ ان مسائل سے لاعلم ہیں یا ابھی تک مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچ پا رہے۔ تاہم، مزید تاخیرزیادہ تباہی کا باعث بنے گی۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہےکہ کیا پاکستان فوری طور پر ’’اوپن اسکائی پالیسی‘‘ ختم کرسکتا ہے؟ اس سوال کاجواب نفی میں ہے، کیوں کہ یہ پالیسی دو طرفہ معاہدوں پر مبنی ہوتی ہے۔ البتہ مذاکرات کے ذریعے ان معاہدوں سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔
تاہم، اس ضمن میں مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب پاکستان نے ’’اوپن اسکائی پالیسی‘‘ پر عمل درآمد کم کر دیا ہے۔ اس ضمن میں وزارتِ دفاع نے ستمبر 2025ء میں قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان اب ’’اوپن اسکائی پالیسی‘‘ پر مکمل طور پر عمل نہیں کر رہا اور اس نے ایک لبرل پالیسی اپنائی ہے، جو تجارتی مساوات کی بنیاد پر مبنی ہے۔
لہٰذا، اب حکومت اور ہوا بازی کے متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ غیر مُلکی ایئرلائنز کے ساتھ معاہدے کرتے ہوئے اپنے مفادات پیشِ نظر رکھتے ہوئے برابری کے اصول کو اولیت دیں۔ یعنی ’’تم بھی کماؤ اور ہمیں بھی اپنے منافعے کے مساوی مواقع فراہم کرو۔‘‘ اس حکمتِ عملی سے نہ صرف پی آئی اے کو، جس کی حال ہی میں نج کاری کی گئی ہے، فائدہ ہوگا بلکہ غیرمُلکی ایئرلائنز بھی فوائد اٹھائیں گی۔
پی آئی اے پاکستان کی قومی ایئرلائن ہے اور اس کے لیے ’’اوپن اسکائی پالیسی‘‘ بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی غیر مُلکی ایئرلائنز کےمساوی منافع بھی پی آئی اے اور ہوا بازی کی صنعت کے لیے بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر ایمریٹس ایئرلائن یا قطر ایئرویز کے پاکستان میں 10 رُوٹس ہیں، تو پھر پاکستانی ایئرلائنز کو بھی اِسی اعتبار سے ان ممالک کے رُوٹس اور مسافروں میں حصّہ ملنا چاہیے۔
پی آئی اے کے معاشی استحکام کے لیے برابری کی بنیاد پر معاہدے تو کیے جا سکتے ہیں، لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نج کاری کے بعد اس ایئرلائن کی اہلیت اور صلاحیت میں اس قدر اضافہ ممکن ہے کہ یہ اُن ایئرلائنز کا مقابلہ کرسکے،جو پہلے ہی منافع بخش ہیں اور جنہوں نے جدید ترین ٹیکنالوجی اپنا لی ہے،جب کہ پی آئی اے کی انتظامیہ تاحال سوچ بچار کے عمل سے گزر رہی ہے۔
دوسری جانب بیڑے میں طیّاروں کا اضافہ شاید زیادہ مشکل نہ ہو لیکن ایئرریاض کی طرز پر مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور طریقے سے استعمال ایک غیرمعمولی چیلنج ثابت ہوگا اور اس مقصد کے لیے پی آئی اے کی مینجمینٹ کو مستقبل بینی اور دُوراندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ نیز، ادارے سے منفی سیاست اور سفارش کلچر کا خاتمہ بھی کرنا ہوگا۔
نیز، برق رفتاری سے فیصلے کرنے ہوں گے۔ گرچہ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت بھی ہوگی، لیکن یہ کام بھی زیادہ مشکل نہیں، کیوں کہ پاکستانی فضائی مسافروں کی تعدا بہت زیادہ ہے اوران میں ایک کروڑ سے زائد تارکینِ وطن بھی شامل ہیں، جو برطانیہ اور مشرقِ وسطیٰ جیسے رُوٹس پرموجود ہیں۔
پی آئی اے کومنافع بخش ایئرلائن بنانے کے لیے برطانیہ، شمالی امریکا، خلیج، وسطی ایشیا اور چین پر توجّہ دینے اور پاکستانی مسافروں کو پی آئی اے کی جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے اور یہ صرف حبّ الوطنی کے نعروں سے ممکن نہیں بلکہ اپنی کارکردگی سے ثابت کرکے دکھانا ہوگا کہ نج کاری کے بعد پی آئی اے کی کارکردگی اور سہولتوں میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ یہ کسی بھی معروف غیرمُلکی ایئرلائن سے کم نہیں۔
مسافر طیّاروں کو جدید، باسہولت اور آرام دہ بنانے کے علاوہ پی آئی اے کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سےٹکٹنگ سسٹم کی بہتری، وقت کی پابندی، ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے اور سیفٹی کو بھی یقینی بنانا ہوگا اور یہ صرف اہل اور اعلیٰ تربیت یافتہ اسٹاف کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ نااہل ملازمین کو بونسز کی شکل میں نوازنے سے شاید اُن کی نظروں میں انتظامیہ کی اہمیت میں تو اضافہ ہو سکتا ہے لیکن یہ پالیسی طویل مدت تک کام یاب ثابت نہیں ہو گی۔
یہ محض سرمائے کا زیاں ہے اور اس ضمن میں ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یعنی جو ملازم ادارے کے لیے جتنا زیادہ مفید ہو، اُسے اتنا ہی زیادہ فائدہ پہنچایا جائے۔ یاد رہے، پی آئی اے کوانہی دُرست خطوط پراستوار کرکے ہی مقامی ہوا بازی کی صنعت کو اُس مقام پر لایا جا سکتا ہے کہ کراچی کو ایوی ایشن حب بنانے کا خواب حقیقت کا رُوپ دھار سکے۔
گرچہ نج کاری کے بعد اب پی آئی اے ایک نجی کاروباری ادارہ بن چُکی ہے، جس کا مطمحِ نظر مسابقت کی فضا برقرار رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہوتا ہے، لیکن یہ ہدف اچّھی خدمات اور شُہرت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ نیز، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نیشنل فلیگ کیریئر ایئرلائن ہونے کی وجہ سے پاکستانی شہری پی آئی اے سے ایک فطری لگاؤ رکھتے ہیں اور اس کی ترقّی و استحکام کے خواہاں ہیں۔ اب پاکستان کو کُھلی یا پابند فضائی پالیسی کی بجائے مساوات کی بنیاد پر مبنی پالیسی کی ضرورت ہے۔
غیر مُلکی ایئر لائنز کو پاکستان ضرور آنا چاہیے تاکہ مسافروں کے پاس ایک سے زیادہ چوائسز ہوں اور مقابلے کی فضا قائم رہے۔ پاکستان ایک بڑی آبادی اور باصلاحیت افراد کا حامل مُلک ہے اور اگر پی آئی اے کو ایک جدید اور منافع بخش ایئرلائن میں تبدیل کرنا ہے، تو اس کے نئے مالکان کو زیادہ سے زیادہ پاکستانی شہریوں کو اس کی جانب راغب کرنا ہوگا۔
یہ اُن کے لیے بُحران نہیں بلکہ موقع ہے اور اسے چیلنج سمجھ کر قبول کرنا چاہیے۔ یاد رہے، پی آئی اے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا کوئی بڑا کام نہیں بلکہ اصل کارنامہ اسے ایک ایسی ایئر لائن بنانا ہے کہ جس پر پوری پاکستانی قوم کو ناز ہو اور کراچی ہوا بازی کا مرکز بن سکے۔