آج ریاستوں کی بنیاد نظریات کی بجائے قومیت پر مبنی ہے اور ان کے مفادات معیشت سے جُڑے ہوئے ہیں، کیوں کہ کم و بیش ہر مُلک کے عوام ابدی دشمنی پر امن و امان اور بہتر معیارِ زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اور جو ریاستیں اب بھی دہائیوں پُرانے تنازعات ہی کو اپنی بقا اور انا کا مسئلہ قرار دے کر عوام کی توجّہ معیاری طرزِ زندگی سے ہٹانا چاہتی ہیں، وہ بہت جلد اپنی اس غلطی پر پچھتائیں گی۔
یاد رہے، عصرِ حاضر میں شہری ایک ایسی ریاست کے متمنّی ہیں کہ جہاں وہ امن و سکون سے زندگی گزار سکیں اور ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنانے کے لیے نہیں بلکہ انہیں بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ موجودہ دَور میں دُنیا سرد جنگ کی طرح اشتراکی اور سرمایہ دارانہ بلاک میں منقسم ہے اور نہ ہی مغرب اور چین و رُوس بلاک میں۔ آج ہر مُلک کے اپنے مفادات ہیں اور وہ انہیں پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہی ہر عالمی تنازعے پر اپنا ردِعمل دیتا ہے۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رُوس اور چین ایران کے حلیف اور امریکا کے حریف ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی ایران کی خاطر امریکا سے مسلّح تصادم پر آمادہ نہیں۔ اسی طرح حالیہ عرصے میں ایران کے خلاف جنگ میں یورپ نے اس طرح امریکا کا ساتھ نہیں دیا، جیسے عراق یا لیبیا کے معاملے میں دیا تھا، جس سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ یورپ اور امریکا میں اختلافات بتدریج گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ یورپی ممالک بالخصوص ٹرمپ کی پالیسیوں سے زیادہ خوش نہیں اور کئی مواقع پر ان کے بیانات ناراضی کی حدیں چُھونے لگتے ہیں۔
ایسے میں ناقدین یہ سوالات اُٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ کیا یورپ اور امریکا کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں؟ کیا نیٹو اپنے انجام تک پہنچنے والی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا مغربی بلاک میں دراڑ پڑ چُکی ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ یورپ نےحالیہ ایران، امریکا جنگ کے دوران جس طرح امریکا سے اختلاف کیا اور برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے یہ تک کہہ دیا کہ یہ اُن کی جنگ نہیں، تو اس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ اب یورپ جنگ و جدل میں امریکا کا ساتھ نہیں دے گا۔
تاہم، وہ آج بھی امریکا ہی کو اپنا لیڈر مانتا ہے، کیوں کہ گزشتہ ماہ یورپی ممالک نے 6.1 بلین ڈالرز یوکرین کو امداد کی مد میں دیئے، جب کہ نیٹو نے، جس کی قیادت امریکا کے پاس ہے، یوکرین کو رُوس سے جنگ لڑنے کے لیے ہتھیاروں اور معاشی امداد کے طور پر 2026ء میں 70 ارب ڈالرز دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ان اعدادو شمار ہی سے پتا چلتا ہے کہ امریکا اور نیٹو میں شامل ممالک رُوس کو اب بھی اپنا اوّلین دُشمن سمجھتے ہیں۔
حالاتِ حاضرہ پر نظر دوڑانے سےپتا چلتا ہے کہ اگر رُوس یوکرین کو نقصان پہنچا رہا ہے، تو امریکا اور نیٹو کی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے یوکرین بھی رُوس پر کاری ضربیں لگا رہا ہے اور گزشتہ پانچ برس سے جاری اس جنگ میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور ڈھائی لاکھ سے زائد زخمی ہو چُکے ہیں۔ دوسری جانب یوکرین جنگ کے ہمہ گیر اثرات ہیں کہ اس کے سبب جہاں یورپ توانائی کے بُحران کا شکار ہوا، وہیں دُنیا بھر میں منہگائی میں بھی اضافہ ہوا۔
پاکستان سمیت دُنیا کے دیگر ممالک میں گندم، خوردنی تیل اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ علاوہ ازیں، ایران، امریکا جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے خطّے میں تیل کی قیمت میں ہوش رُبا اضافہ کردیا، جس سے پاکستان جیسے کم زور معیشت کے حامل ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
یقیناً یورپ اس وقت مخمصے کا شکار ہے، کیوں کہ اب اُسے امریکا پر انحصار اور تزویراتی خود مختاری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کا سلامتی کا بنیادی ماڈل یہ رہا ہے کہ امریکا دفاعی چھتری فراہم کرے، جب کہ یورپ اپنی معاشی طاقت، سفارت کاری اور سیاست سے اُس کی مدد کرے۔
اس کی وجہ بظاہر یہ دکھائی دیتی ہے کہ دوسری عالمی جنگ سے قبل یورپ کے کئی ممالک جیسا کہ فرانس، برطانیہ، پرتگال اور اسپین وغیرہ خود سُپر پاور تھے اوران کی اپنی نوآبادیات تھیں، جہاں وہ بلاشرکتِ غیرے حکومت کرتے تھے۔ ہر چند کہ مغرب کو دوسری عالمی جنگ میں فتح نصیب ہوئی لیکن وہ معاشی و دفاعی طور پر امریکا کا دستِ نگر ہوگیا۔
دوسری طرف خُود یورپ ہی میں سے رُوس ایک عالمی طاقت بن کراُبھرا۔ یاد رہے، یورپ اور رُوس کا سیاسی نظام ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہے لیکن فریقین مذہباً عیسائی ہیں اور ان دونوں ہی نے اپنے عروج کے دَور میں اسلامی سلطنتوں سے جنگیں لڑیں اور خلافتِ عثمانیہ کا شیرازہ بکھیرنے میں جتنا ہاتھ فرانس اور برطانیہ کا تھا، اتنا ہی رُوس کا بھی۔
حتیٰ کہ مسلمانوں کو شکست دینے کے سبب رُوسی پیٹر دی گریٹ اور ملکۂ کیتھرین کو یورپ اپنا ہیرو قرار دیتا ہے اور ان کی جنگوں کو ’’صلیبی جنگوں‘‘ کا درجہ دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، افغانستان پر حملہ اور اس سے قبل وسط ایشیا کی مسلم ریاستوں کا اپنا غلام بنائے رکھنا بھی رُوسی جارحیت کی ایک زندہ مثال ہے۔
سوویت یونین کے زیرِنگیں ان مسلم ممالک میں مذہبی آزادی تھی اور نہ سماجی لیکن یورپی محقّقین اس ظلم وجبرکاکہیں ذکر نہیں کرتے، جب کہ یورپی تصانیف میں مسلمانوں کے خلاف رُوسی فتوحات سے متعلق قصائد ضرور موجود ہیں۔ تاہم، سرد جنگ سے لے کر اب تک یورپ اور رُوس ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور اول الذّکر فریق کو فریقِ ثانی سے اپنے تحفّظ کے لیے ہمیشہ دوسری عالمی طاقت یعنی امریکا کی ضرورت رہی۔
تاہم یوکرین جنگ نے صورتِ حال بدل دی۔ یورپ یوکرین پر رُوسی حملے کو دوسری عالمی جنگ کےبعد اپنے اوپر سب سے بڑا حملہ قرار دیتا ہے، جب کہ اب امریکا کا مطالبہ ہے کہ اپنے دفاع کے معاملے میں یورپی ممالک اس کے مساوی اخراجات کریں اور اب اس پر عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یورپی ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ شروع کردیا ہےاوراسی لیے نیٹو کی ایک نئی صُورت سامنےآنے کے امکانات ہیں اور نیا ماڈل یہ ہوسکتا ہے کہ یورپ اور امریکا مل کر یورپ اور دوسرے خطّوں میں اپنے مفادات کی حفاظت کریں۔
گرچہ یورپ کے پاس سرمایہ، ٹیکنالوجی اور صنعتیں ہیں لیکن ابھی اس کے پاس ایسا جامع نظام نہیں ہے کہ جس سے وہ امریکا کی طرح سُپرپاور بن سکے اور اس کی وجہ یہ ہےکہ یورپی یونین28 ممالک پر مشتمل اتحاد ہے اور ہر مُلک کے اپنے مفادات ہیں۔ تاہم، انہیں رُوس کے خطرے نے متّحد کر رکھا ہے لیکن ’’بریگزٹ‘‘ کی صُورت میں یورپی یونین کو ایک بڑا دھچکا لگ چُکا ہے۔
اگر ماضیٔ قریب پر نظر دوڑائی جائے، تو خلافتِ عثمانیہ کے انتشار اور مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں نئی بننے والی ریاستوں نے بھی یورپ کی اہمیت میں خاصا اضافہ کیا، کیوں کہ آزاد ہونے والی ریاستیں یورپی ممالک ہی کی نو آبادیات تھیں اور آج بھی ان ممالک میں انگریزی زبان ہی کا راج ہے۔ آج بھی ان ممالک سے تعلق رکھنے والا غریب سے غریب تر شخص اپنے بچّوں کو انگلش میڈیم اسکولز میں پڑھانے کی شدید خواہش رکھتا ہے اور یہ مائنڈ سیٹ صدیوں سے چلا آرہا ہے۔
بہرکیف، دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا اور یورپ نے مشرقِ وسطیٰ میں بھی اپنا اثرورسوخ بڑھایا اور اس خطّے کے دفاع میں امریکا جب کہ معیشت، سیاست اور سفارت کاری میں یورپ کا کردار نمایاں رہا اور اسرائیل کا قیام، بیت المقدس پر اسرائیلی قبضہ، تیل کا نکلنا اور مشرقِ وسطیٰ کی جدید شکل وہ تمام مظاہر ہیں کہ جن میں یورپ کی چھاپ واضح دکھائی دیتی ہے، جب کہ حیرت کا مقام ہے کہ دُنیا بَھر کے مسلمان امریکا پرتو خوب لعن طعن کرتے ہیں لیکن اُن یورپی ممالک کو فراموش کردیتے ہیں کہ جنہوں نے انہیں صدیوں غلام بنائے رکھا۔
موجودہ عالمی سیاست کا جائزہ لیاجائے، تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایران، امریکا جنگ میں یورپ کی کوئی یک ساں خارجہ پالیسی نہیں، حالاں کہ اس سے قبل 2015ء میں یورپ نے ایران کی نیوکلیئر ڈِیل میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم، یہ کہنا بھی دُرست ہوگا کہ امریکا، رُوس اور چین کے مقابلے میں اُس وقت کے ایرانی صدر، حسن رُوحانی نے یورپ کو اعتماد میں لینے کو ترجیح دی تھی اور اسی لیے صرف دو سال کے عرصے میں نیوکلیئرڈِیل طے پاگئی، جس کی خوشیاں مغرب اور تہران دونوں میں منائی گئیں۔
تب ایران کو یورینیم افزودگی کا سلسلہ ختم کرنے پر 40ارب ڈالرز ملے، جس کی اُس وقت اس کی معیشت کو اشد ضرورت تھی۔ اس موقعے پر صدر روحانی نے سخت گیر عناصر اور اصلاح پسندوں کے درمیان مفاہمت کے ذریعے ایران کو جنگ سے بچا لیا تھا۔
چاہے کتنے ہی سازشی نظریات کیوں نہ پیش کیے جائیں، درحقیقت ایران سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ کی ترقّی یورپ ہی کے رہینِ منّت ہے اور پھر اس خطّے کا موجودہ نقشہ بھی یورپ ہی کاتیارکردہ ہے۔ علاوہ ازیں، عرب، اسرائیل جنگوں اور لبنان، شام، عراق اور ایران کے معاملات میں بھی یورپ کا کردار ہمیشہ بہت اہم رہا ہے۔ مزیدبرآں، آبی گزرگاہوں کی دفاعی و اقتصادی اہمیت کا سبب بھی یورپ ہی ہے۔
آبنائے ہُرمز، آبنائے ملاکا، نہرِ سوئز اور دیگر بحری گزرگاہوں نے یورپ کی بحری موجودگی کے سبب ہی اہمیت اختیار کی، کیوں کہ ان گزرگاہوں پر اپنے فوجی کنٹرول کی وجہ ہی سے یورپ کے لیے عالمی پانیوں پر راج اور اپنی افواج ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنا ممکن ہوا۔
یاد رہے، آج بھی دفاعی و اقتصادی ماہرین اس اَمر پر متفق ہیں کہ جو مُلک دُنیا کے سمندروں پر راج کرتا ہے، درحقیقت وہی سُپر پاور ہوتا ہے اور آج دُنیا بَھر کے سمندروں میں موجود امریکا کے سات بحری بیڑے اس امر کا واضح ثبوت ہیں۔
یورپ آج اس لیے کوئی فیصلہ کُن خارجہ پالیسی نہیں بنا پا رہا کہ وہ مختلف ممالک کا مجموعہ ہے اور ان کے مفادات اور عوامی سوچ ایک دوسرے سےمختلف ہے۔ مثال کےطور پر فرانس یورپ کی تزویراتی خُودمختاری کا خواہش مند ہے۔ پولینڈ رُوس کے خلاف انتہائی سخت مؤقف رکھتا ہے۔ جرمنی دفاعی طور پر زیادہ فعال ہورہا ہے۔
اٹلی اور بعض دوسرے ممالک دفاعی اخراجات میں بتدریج اضافہ چاہتے ہیں، جب کہ جنوبی یورپ کے ممالک کے لیے مشرقی یورپ کے ساتھ بحیرۂ روم، مشرقِ وسطیٰ، تارکینِ وطن کا مسئلہ اور توانائی بھی اہمیت کی حامل ہے۔ یاد رہے، ان تمام ممالک میں جمہوریت ہے اور یہاں عوام کا دباؤ کافی شدید ہوتا ہے اور پھر ایک عام آدمی کے لیے منہگائی، تارکینِ وطن کی آمد، ٹیکس، روزگار اور توانائی جیسے مسائل سبھی اہمیت رکھتے ہیں، جب کہ امریکا کو درپیش مسائل اس قدر شدید نوعیت کے حامل نہیں ہیں۔
یورپ کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے تجارت، تارکینِ وطن کی آمدورفت، دہشت گردی، اسرائیل، عرب کشیدگی، ایران اور بحرِروم وغیرہ سبھی اہم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکا مشرقِ وسطیٰ میں زیادہ فعال ہوتا ہے، تو یورپی ممالک کے لیے یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ ہم کس حد تک امریکا کا ساتھ دے سکتے ہیں اور امریکا اس بات سے بخوبی واقف ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران، امریکا جنگ کے دوران یورپ اور امریکا نے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دیئے، جو صرف میڈیا کے لیے تھے، جب کہ اس کے برعکس یورپ نے نیٹو اور دیگر معاہدوں کے تحت امریکا اور اسرائیل کی بھرپور امداد جاری رکھی۔ اس دوران یورپی ممالک نے ایران پرعاید پابندیاں ہٹائیں، نہ اسرائیل کا ساتھ چھوڑا اور نہ ہی آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو جائز قرار دیا اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ایران کی شدید مخالفت کی اور ساتھ ہی عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مسلسل مذمت بھی کرتے رہے۔
یورپ کو اب بھی امریکا کی ضرورت ہے اور امریکا کو یورپ کی لیکن غالباً چین کےایک نئی عالمی طاقت کے طور پر اُبھرنے کے سبب دونوں کی تزویراتی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی جارہی ہیں۔ امریکا کی ہمیشہ سے توجّہ چینی ہند اور عالمی بحری طاقت کے حصول پر رہی ہے۔ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ جنوب مشرقی ایشیا ہی امریکا کا اصل ’’زون آف انفلوئینس‘‘ ہے۔
امریکا دوسری عالمی جنگ کے موقعے پر چرچل کی درخواست پر یورپ کے معاملات میں دخیل ہوا اور پھر اس نے تقریباً پورے یورپ پر فوجی برتری حاصل کرلی۔ تاہم، یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکا کی ترجیح انڈو چائنا ہے، تو کیا یورپی مفادات میں اس کی دِل چسپی کم ہونے سے نیٹو امریکا کی قیادت کے بغیر قائم رہے گی؟
اس سوال کا ایک ممکنہ جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ یورپ اپنی ضروریات کے مطابق نیٹو کو مضبوط کرے گا، لیکن پھر بھی اُسے معاشی طور پر امریکا کی ضرورت رہے گی اور یوں نیٹو کم زور ہونے کی بجائے مزید مضبوط ہو جائے گا۔ اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یورپ اور امریکا کے اوّلین حریف، رُوس اور چین مستقبل قریب میں کم زور ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔