• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بہت مدت بعد ایک ڈرامہ سیریل دیکھ رہا ہوں، ڈرامہ کیا ہے، پورے بارہ مسالوں کی چاٹ ہے۔ دین بھی ہے، دنیا بھی، ارب پتیوں کا لائف اسٹائل بھی ہے اور روحانیت میں سکون کا سبق بھی، چلبلی اور بے باک لڑکی بھی ہے اور بھگوان کے اوتار جیسا ہیرو بھی، عبادت گزار ماں بھی ہے اور اُس کا وائن پینے والا فرمانبردار بیٹا بھی، گھر میں ڈانس پریکٹس بھی ہوتی ہے اور تہجد بھی پڑھی جاتی ہے، امریکہ میں live in relationship بھی دکھایا ہے اور فجر کیلئے بیدار ہونے والا نوجوان بھی، مذہب نے جس کی کایا کلپ کر دی ہے۔ ایسے ڈرامے ریکارڈ توڑ رش لیتے ہیں سو اِس کے اسکرپٹ، پروڈکشن، اداکاری، سب میں نمبر پورے ہیں، لیکن۔۔۔

لیکن میرا موضوع وہ پیغام ہے جو اِس قسم کے ڈراموں میں ملفوف ہوتا ہے، اور ہمارا وہ مخمصہ ہے جس سے ہم پاکستانی مسلمان نکل نہیں پا رہے۔ جدید ذہن کو متاثر کرنےکیلئے اِن ڈراموں میں مذہب کے جس ماڈل کا پرچار کیا جاتا ہے، اُس کی عملی تصویر ڈرامے کا وہ مرکزی کردار ہے جو انسان کم اور فرشتہ زیادہ ہے۔ ہم اُس کا نام الف فرض کر لیتے ہیں۔ الف ہاورڈ کا تعلیم یافتہ مگر نماز قرآن پڑھنے والا، باوقار، حیادار، باکردار، دیانتدار، سمجھدار۔ اللہ نبی کے بعد ماں کی اطاعت کرنے والا، سب کے کام آنے والا، بے داغ اور صاف ستھری شخصیت کا مالک، وجیہ اور پُرکشش جس پر لڑکیاں فدا ہوں مگر وہ کسی کی پروا نہ کرے، ماں کے اشارے پر چپ چاپ شادی کی ہامی بھر لے۔ دل میں دنیا کی طمع تو نہ ہو البتہ نوکری شاندار ہو اور گاڑی فارچیونر ہو۔ گھر میں نوکر چاکر بھی ہوں۔ لڑکیوں سے دوستی ہو مگر پاکیزہ، کوئی آئی لو یو کہے تو شرما کے نظریں جھکا لے، مگر ضرورت پڑے تو دَم کرنے کیلئے نامحرم اور بے پردہ لڑکی کا ہاتھ بھی پکڑ لے۔ ظاہر ہے کہ ایسے ’مذہبی ماڈل‘ پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا تاہم اپنی ضرورتوں اور خواہشات کے تابع مذہب کی تعبیر نہیں بدلی جا سکتی۔ اگر کوئی شخص فیشن ایبل کپڑوں کا برینڈ لانچ کرتا ہے تو یہ بالکل جائز کاروبار ہے لیکن جب مولانا طارق جمیل یہ کام کرتے ہیں تو درست نہیں کیونکہ بطور واعظ وہ اسلام کی جس سادگی کا درس دیتے ہیں اُس میں یہ گنجائش نہیں، اُس میں تو پیٹ پر پتھر باندھ کر کام کرنا پڑتا ہے۔ سرورِکائناتﷺ کے گھر مہینوں چولہا نہ جلتا اور کھجور اور پانی پر گزر بسر ہوتی، آپﷺ اپنا جوتا خود گانٹھتے اور کپڑے میں پیوند خود لگاتےتھے۔ ہم ٹی وی ڈراموں میں مذہب کی جو تعبیر دکھا رہے ہیں، دراصل وہ جین زی کو لبھانے کی کوشش ہے۔ اِس ماڈل میں گاڑیاں ہیں، بنگلے ہیں، بیرون ملک کے سفر ہیں، لڑکیوں سے دوستیاں بھی ہیں مگر ساتھ نماز قرآن بھی ہے۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ اِس میں کیا حرج ہے، تکنیکی اعتبار سے شاید کوئی حرج نہ ہو مگر جس دین کی تبلیغ ہم کر رہے ہیں یعنی اسلام، اُس میں ڈاکٹر اسرار کا لائف اسٹائل قابل تحسین ہے مولانا طارق جمیل کا نہیں۔ نہ جانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ یہ Pious capitalism کی ایک شکل ہے یعنی ایسا تقویٰ جسے قسطوں میں خریدا جا سکے۔ ایسی روحانیت جس کا کوئی برانڈ ایمبیسیڈر ہو، جس کی پیکنگ خوبصورت ہو، جس پر قیمت لکھی ہو اور جسے استعمال کرنے کے بعد دل کو یہ اطمینان بھی نصیب ہو کہ ہم نے دنیا چھوڑی نہیں، صرف اُس میں وضو کر لیا ہے۔ یہ وہ سودا ہے جس میں کوئی گھاٹا نہیں، فارچیونر بھی رہے گی، بیرونِ ملک کے سفر بھی، ملازموں کی قطار بھی اور اِن سب کے اوپر جنت کی گارنٹی بھی۔ اگر مذہب اتنا ہی سستا ہوتا تو انبیا کو پیٹ پر پتھر نہ باندھنے پڑتے۔

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ میں کون ہوتا ہوں یہ طے کرنے والا کہ اسلام کا کون سا ماڈل اصلی ہے اور کون سا نقلی؟ کیا یہ فیصلہ میرے دائرہِ اختیار میں ہے؟ اگر کوئی نوجوان فجر بھی پڑھتا ہے اور جِم بھی جاتا ہے، قرآن بھی کھولتا ہے اور نیٹ فلکس بھی، تو کیا میں اُس کے ایمان کی رسید مانگنے کا حق رکھتا ہوں؟ مذہب کی تعبیر ہر عہد میں بدلی ہے۔ جو لوگ آج ہمیں راسخ العقیدہ نظر آتے ہیں، اپنے زمانے میں وہ بدعتی کہلائے تھے۔ امام غزالی پر فلسفے کی آمیزش کا الزام لگا، ابنِ عربی پر کفر کے فتوے لگے، مغل دربار کی خطاطی اور مصوری کو مولوی نے کبھی جائز نہ کہا مگر آج وہی مصوری اسلامی آرٹ کے عجائب گھروں کی زینت ہے۔ تو پھر الف کے ساتھ اتنی سختی کیوں؟ یہ سوال میرا اپنا نہیں، یہ مقدمہ محقق اور اسکالر شہاب احمد نے اپنی کتاب

What Is Islam?

The Importance of Being Islamic

میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ شہاب کہتا ہے کہ اگر اسلام صرف وہ ہے جو فقہ اور شریعت کی کتابوں میں لکھا ہے تو پھر اُس ہزار سالہ تہذیب کا کیا کریں جو بلقان سے بنگال تک پھیلی ہوئی تھی اور جس میں حافظ کی شراب کی شاعری بھی تھی، ابنِ سینا کا فلسفہ بھی اور خانقاہوں کی موسیقی بھی؟ کیا ہم یہ کہہ دیں کہ حافظ مسلمان نہیں تھے؟ کیا مثنویِ رومی غیر اسلامی ہے؟ شہاب احمد کہتے ہیں کہ صدیوں تک مسلمانوں نے اپنی زندگی اِن تضادات کے ساتھ گزاری اور اُنھیں تضاد سمجھا ہی نہیں۔اب اگر شہاب احمد کی بات مان لی جائے تو الف بھی اُسی وسیع دائرے کا ایک نقطہ ہے۔ تہجد اور ڈانس پریکٹس ایک ہی گھر میں، تو کیا ہوا؟ حافظ کے ہاں بھی تو مے خانہ اور محراب ایک ہی غزل میں آ جاتے تھے۔

مگر اِس تمام معاملے میں ایک باریک فرق ہے۔ حافظ کا تضاد ایک تخلیقی کشمکش تھی جس کے نتیجے میں شاعری جنم لے رہی تھی۔ وہ تضاد مہنگا تھا، اُس کی قیمت بدنامی تھی، فتوے تھے، جلا وطنی تھی۔ ہمارے ڈراموں کا تضاد سستا ہے۔ وہ کسی کشمکش سے نہیں، مارکیٹ ریسرچ سے پیدا ہوا ہے۔ اُسکے پیچھے کوئی صوفی نہیں بیٹھا، ایک چینل کا مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ بیٹھا ہے جسے معلوم ہے کہ اٹھارہ سے پینتیس سال کا شہری ناظر کیا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ گناہ بھی دیکھنا چاہتاہے اور توبہ بھی، دولت بھی اور درویشی بھی، اور یہ سب ایک ہی گھنٹے میں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتہارات کے ساتھ۔ دوسرا مسئلہ اِن ڈراموں میں عورت کا ہے۔ اِن ڈراموں میں مرد کے پاس ہمیشہ ایک راستہ کھلا رہتا ہے۔وہ کسی نیکوکار دوست کی تبلیغ کے نتیجے میں دین کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور دین بھی وہ جو طالبان کا ہے۔ توبہ قبول ہو جاتی ہے۔ ماضی دھل جاتا ہے۔ جبکہ لڑکی اگر ایک بار پھسل گئی تو اُس کے لیے توبہ کا وہ پریمیم پیکیج دستیاب نہیں۔ مرد کا ماضی ایک قصہ ہے، عورت کا ماضی ایک داغ ہے۔ عورت گناہ کرتی ہے تو عبادت گزار دادی ٹھنڈی سانس بھر کر کہتی ہے کہ آج کل کی لڑکیوں کی تربیت ہی ٹھیک نہیں ہوتی۔ یہ ہے وہ پیغام جو غیر محسوس طریقے سے دیا جاتا ہے، انگریزی میں اِسے Boys will be boys کہتے ہیں۔ لیکن جیسے سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے ویسے سارے ڈرامے بھی ایک جیسے نہیں، یقین نہ آئے تو مصطفیٰ آفریدی کا ’تن من نیل و نیل دیکھ لیں‘۔ آپ کو پاکستانی ہونے پر فخر ہوگا۔

تازہ ترین