| |
Home Page
جمعرات 29 ذوالحج 1438ھ 21 ستمبر 2017ء
یاسر پیر زادہ
ذرا ہٹ کے
September 20, 2017
غلامی

’’اِس دنیا میں ہر اُس شخص کی رہائی کا امکان موجود ہے جو کسی قیدخانے میں بند ہے... مگر اُس شخص کی رہائی کا کوئی امکان نہیں جسے یہ علم ہی نہیں کہ وہ قید میں ہے۔‘‘ ایک زمانہ تھا جب امریکہ میں غلامی عام تھی، غلاموں کو مال اسباب کی طرح بیچا اور خریدا جا سکتا تھا، چونکہ گوروں کے نزدیک یہ انسان ہی نہیں تھے سو اِن کے حقوق کا کوئی تصور ہی نہیں...
September 17, 2017
ناکام لوگوں کے لئے ایک کالم

کیا آپ نے ناکام لوگوں سے متعلق کبھی کوئی کتاب پڑھی ہے؟ ایسی کتاب جس میں اُن لوگوں کی کہانیاں ہوں جو محنت، ایمانداری، اخلاق اور وفاداری وغیرہ کے ذریں اصولوں کے تابع زندگی گزارتے ہیں مگر اس کے باوجود ناکام ٹھہرتے ہیں! کم ازکم میری نظر سے ایسی کوئی کتاب آج تک نہیں گزری۔ کبھی موقع ملے تو کتابوں کی دکان میں گھومتے ہوئے سیلف ہیلپ کے...
September 13, 2017
بڑھتی ہوئی آبادی

کسی پروفیسر سے پوچھ لیں، علاقے کے مولوی صاحب سے فتویٰ لے لیں، سیاست دانوں کی تقاریر سُن لیں، اکڑی ہوئی گردن والے بیورو کریٹ کی رائے لے لیں، کسی کالج کے لونڈے سے سوال کر لیں یا پھر راہ چلتی کسی خاتون کو روک کر دریافت کریں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ شاید ہی اِن میں سے کسی کا جواب ہو ’’بڑھتی ہوئی آبادی!‘‘ (عین ممکن ہے کہ...
September 10, 2017
ڈسپلن

مجھے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ تقریب یوں شروع ہوگی، میرا خیال تھا کہ پہلے تمام لوگ اپنی نشستوں پر براجمان ہوجائیں گے پھر مہمان خصوصی تشریف لائیں گے، انہیں سیلوٹ کیا جائے گا اوراس کے بعد باقاعدہ آغاز ہوگا، دعوت نامے پر جو عبارت لکھی تھی اُس سے تو میں یہی سمجھ سکا تھا۔ مگرایسا نہیں ہوا۔ جب تمام وزرا، افسران، غیرملکی سفیر اور دیگر...
September 06, 2017
فیس بکی دانشوری

اللہ بھلا کرے ٹیکنالوجی کا جس نے ہر بی اے پاس کو دانشور اور ہر آئی ٹی بلونگڑے کو سائنس دان بنا دیا ہے۔ دانش تو ہمارے پاس پہلے بھی تھوک (اس ’’تھوک‘‘ کو دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں) کے حساب سے تھی فرق صرف اتنا ہوا ہے کہ اب یہ دانش سوشل میڈیا کی مرہون منت عریاں ہو کر ناچ رہی ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی اس عریاں لفظ کو غلط سمجھ کر الٹا (یا سیدھا)...
August 30, 2017
بٹوارے کا کلائمیکس

چلئے ہو گیا بٹوارہ، ا ب آگے چلئے۔ پر نہیں، ہر سال اگست کے مہینے میں آزادی مناتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے بقراط کہیں نہ کہیں یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ کیا واقعی ہندوستان کی تقسیم درست تھی! اور جس لمحے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے اُس سے اگلے ہی لمحے دونوں ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی حالت زار کا تقابل شروع ہو جاتا ہے کیونکہ یہی ایک...
August 27, 2017
اتفاق سے ایسا ہوا کہ

’’زندگی بے معنویت سے عبارت ہے‘‘۔ ایسا ماننا تھا البرٹ کامیو کا۔ یہ صاحب کون ہیں، کیا بیچتے تھے، یہ جاننے کے لئے آپ گوگل کر سکتے ہیں۔ خاکسار کی دوڑ چونکہ وجاہت مسعود تک ہے سو اُن سے ایک جہالت آمیز سوال کر ڈالا کہ قبلہ ذرا رہنمائی فرما دیجئے کہ انگریزی میں تو Albert Camusلکھا ہے ہم اسے اردو میں کیسے لکھیں گے؟ تو درویش نے سر اٹھایا اور...
August 23, 2017
بٹوارہ

ایک ہی گاؤں میں رہتے تھے، شہروں میں بھی مکان ساتھ ساتھ تھے، برسوں کا یارانہ تھا، زندگیاں جڑی ہوئی تھیں، دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے، ایک ہی کنوئیں سے پانی بھرتے تھے، زبان بھی ایک تھی اور بولی بھی، لباس بھی قریب قریب ایک جیسا تھا، کچھ فرق تھا پر خاص نہیں، مذہب البتہ ایک نہیں تھا اسی لئے عموماً آپس میں شادیاں نہیں کرتے تھے لیکن مائیں...
August 20, 2017
آئن اسٹائن کے قصبے سے ہٹلر کے برلن تک

یہ ’’کاپوت‘‘ ہے، برلن سے قریب پینتالیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع ایک قصبہ، ہم یہاں ایک جھیل کے کنارے کھڑے ہیں، جھیل کے اردگرد درختوں کے جھنڈ ہیں جو جنگل کا سماں پیش کر رہے ہیں، تا حد نگاہ پھیلی اِس جھیل میں مرغابیاں تیر رہی ہیں، کہیں کہیں لوگ کشتی رانی کر رہے ہیں، آئن اسٹائن کی کشتی بھی یہیں ہوا کرتی تھی، یہ کشتی اس کے ایک امیر دوست...
August 16, 2017
فرانز کافکا کے شہر میں

پراگ کے ہوٹل میں چیک ان کیا تو جناب قمر راٹھور ہم سے پہلے کمرے میں موجود تھے، موصوف نے پینٹ کوٹ پہنا ہوا تھا اور خم دار ہیٹ کے ساتھ سیاہ فریم کا چشمہ لگا رکھا تھا، ہو بہو کافکا لگ رہے تھے۔ آپ کٹر کشمیری ہیں، تعلق گوجرانوالہ سے ہے، جمہوریت پسند ہیں، رشتے میں کزن ہیں مگر محبت بھائیوں کی طرح کرتے ہیں، یاروں کے یار ہیں، یہی وجہ ہے کہ...
August 13, 2017
پتھر کا شہر

ویانا سے بوداپیسٹ کے پونے تین گھنٹے کے سفر میں جب مکرمی اجمل شاہ دین چار کیلے، دو سیب، ایک چپس اور ایک مونگ پھلی کا پیکٹ کھانے کے بعد دوکپ چائے پی چکے تو فرمانے لگے کہ بوداپیسٹ میں کوئی اچھا سا ترک ریستوران ڈھونڈ کرکھانا کھایا جائے گا۔ اگلا ارشاد یہ ہوا کہ میں نے بوداپیسٹ میں ہونے والے فلم فیسٹیول، میلوں، ٹھیلوں، آرٹ کی نمائش،...
August 09, 2017
ویانا۔ایک خواب

لڑکپن میں شفیق الرحمٰن کا افسانہ ’’ڈینیوب‘‘ پڑھا تھا، افسانہ کیا تھا ایک خواب انگیز داستان تھی، شفیق الرحمٰن نے ویانا کی رومان پرور فضاؤں کا ذکر کچھ اس انداز میں کیا کہ دیکھے بغیر اس شہر سے محبت ہو گئی۔ ان دیکھی محبت خطرناک ہوتی ہے، امیدوں پر پوری نہ اترے تو انسان بہت مایوس ہوتا ہے، ایسی ان دیکھی محبت دل میں لئے ہم میونخ سے...
August 06, 2017
میڈ اِن جرمنی

شام ہونے کو تھی، ہماری کار فیری میں داخل ہوئی اور جھیل کو پار کرتے ہوئے پرلے کنارے پر جا لگی، جھیل پرسکون تھی، پانی نے سبز رنگ کی چادر اوڑھ رکھی تھی، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، آفتاب کو بادلوں نے گھیر رکھا تھا اور اس کی کرنیں باہر آنے کو مچل رہی تھیں، قید سے رہائی پانے والی روشنی جب جھیل کے سبز پانی پر پڑتی تو دور قوس قزح بن جاتی۔...
August 02, 2017
فرینکفرٹ کی رات

جہاز کے پہیوں نے ابوظہبی کے ہوائی اڈوں کو چھوا تو میری جان میں جان آئی، لاہور سے اڑان بھرتے وقت جہاز کے انجن سے ایک عجیب و غریب آواز آنی شروع ہوئی تو مجھے یوں لگا جیسے کسی گاڑی کا سائلنسر آواز دے رہا ہو، دل کو تسلی دی کہ جہاز میں ایسا کچھ نہیں ہوتا اور پھر یہ تسلی ابوظہبی کے ہوائی اڈے پر اترنے تک ساتھ رہی۔ ہم جیسے ملکوں کے مقابلے...