منیبہ مختار اعوان، لاہور
شام کا وقت تھا۔ آسمان پر نارنجی اور سنہری رنگ ایسے بکھرے ہوئے تھے، جیسے کسی مصوّر نے محبّت سے شام کو رنگ دیا ہو۔ صُبح کی بارش کی وجہ سے پارک کی نرم سبز گھاس پر شبنم کی نمی ابھی باقی تھی۔ ٹھنڈی ہوا درختوں کی شاخوں سے ٹکراتی تو پتّوں کی سرسراہٹ ایک مدھم موسیقی بن جاتی۔
بچّے قہقہے لگا رہے تھے، کہیں بزرگ آہستہ آہستہ چہل قدمی کر رہے تھے، تو کہیں خواتین آپس میں گپ شپ لگا رہی تھیں۔ منزّہ بھی معمول کی طرح پارک میں آئی ہوئی تھی۔ ہاتھ میں پرس، سر پر خُوب صورت دوپٹا، چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ۔ وہ ہر ایک سے اتنی نرمی سے بات کرتی کہ لوگ بےاختیار کہتے۔ ’’کیسی سلجھی ہوئی، خوش اخلاق لڑکی ہے!‘‘
اِسی دوران سامنے سے ایک کم زورسی بزرگ خاتون چہل قدمی کرتے ہوئے آئیں۔ اُن کے ہاتھ کانپ رہے تھے، سانس پُھولی ہوئی تھی، مگر پھر بھی خُود کو سنبھالے چل رہی تھیں۔ اچانک اُن کا پاؤں راستے میں پڑے ایک چھوٹے پتھر سے ٹکرایا اور وہ بُری طرح زمین پر آ پڑیں۔ پارک میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ کچھ لوگ رُکے… دیکھا… اور آگے بڑھ گئے۔
مگر منزہ فوراً دوڑکراُن کے پاس پہنچی۔ ’’ماں جی! آرام سے… آپ ٹھیک ہیں؟‘‘ اُس نے گھبراہٹ میں اپنا دوپٹا جھاڑا، اُن کے ہاتھ تھامے، پانی کی بوتل کھولی اور انہیں بینچ پر بٹھایا۔ بوڑھی عورت کے ہاتھ ٹھنڈے تھے اور آنکھوں میں بےبسی تیر رہی تھی۔ ’’بیٹی… اللہ تمہیں خوش رکھے… آج اگر تم نہ ہوتیں تو شاید میں اُٹھ بھی نہ پاتی…‘‘ منزّہ نے بڑی محبت سے اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ’’قرآنِ کریم میں پہلو کے ساتھی کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حُکم دیا گیا ہے۔
یہ میرا آپ پر احسان نہیں بلکہ میرا فرض تھا۔ آپ فکر نہ کریں، مَیں آپ کے پاس ہی ہوں۔‘‘یہ منظر دیکھ کر قریب کھڑے لوگ بھی متاثر ہوئے۔ کسی نے سراہتے ہوئے کہا۔ ’’آج کے زمانے میں کون اتنا خیال کرتا ہے!‘‘ منزّہ کے دل میں عجیب سی خوشی بھر گئی۔ اُسے لگا، جیسے وہ واقعی بہت نیک اور رحم دل انسان ہے۔
مگر…اُسی رات جب وہ گھر واپس آئی، تو گھر کی فضا بالکل مختلف تھی۔ کچن کی مدھم، زرد روشنی میں اُس کی ساس، قرشیدہ بیگم دیوار کا سہارا لیے کھڑی تھیں۔ چہرے پرتھکن تھی، ہاتھوں میں کپکپاہٹ۔ سُسر صوفے میں دھنسے بیٹھے تھے۔ ’’بیٹا…!‘‘ سُسر نےخاصی دھیمی آواز میں اُسے پکارا۔ ’’اگر ایک کپ چائے مل جائے تو طبیعت کچھ سنبھل جائے۔
آج قرشیدہ کی طبیعت بھلی نہیں، ورنہ وہ بنا دیتی…‘‘ منزّہ نے پرس ایک طرف رکھتے ہوئے قدرےبےزاری سےجواب دیا۔ ’’آپ کو تو مجھے دیکھتے ہی کوئی نہ کوئی کام یادآجاتا ہے۔ مَیں خُود ابھی باہر سے آئی ہوں، بہت تھکی ہوئی ہوں۔ امّی کچن ہی میں تو ہیں، وہ بنا دیں گی۔‘‘ سُسر یک لخت خاموش ہوگئے، مگر کچن سے باہر آتی قرشیدہ بیگم کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔
وہ بول ہی اُٹھیں۔ ’’ابھی کچھ دیر پہلے برابر والی رضیہ آئی تھی، خُوب تعریفیں کر رہی تھی تمہاری کہ آپ کی بہو بہت اچھی ہے۔ سُنا ہے، تم پارک میں بزرگوں کا بہت خیال رکھتی ہو اور درس بھی دیتی ہو کہ پہلو کے ساتھی کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا چاہیے۔ وہ خاتون تمہاری پہلو کی ساتھی تھیں، کیا ساس، سُسر پہلو کے ساتھی نہیں؟‘‘ اور یہ کہہ کر آہستہ سے مُڑ کر دوبارہ کچن کی طرف چل دیں۔
اُن کے جملے جیسے سیدھے منزّہ کے دل پر جا لگے۔ رات بہت خاموش تھی۔ باہر ہوا درختوں کو دھیرے دھیرے ہلا رہی تھی، مگر اُس کے دل کے اندر تو جیسے ایک طوفان برپا تھا۔ اُسے بار بار پارک والی بوڑھی عورت کا چہرہ یاد آ رہا تھا… پھر اپنی ساس کا جُھکا ہوا وجود…ایک اجنبی عورت کے لیے اُس کے دل میں اتنی ہم دردی تھی… مگر وہ عورت، جو روز اُس کے لیے دُعا کرتی تھی۔
جس نے کبھی اُس پر کوئی ظلم نہیں ڈھایا، نہ ہی کبھی کوئی بدکلامی کی، اُن کے ساتھ اُس کا لہجہ اتنا سخت کیوں تھا؟ اُس کی آنکھوں سے بےاختیار آنسو بہنے لگے۔ اُسے قرآن کی وہ آیت یاد آئی، جس میں ’’پہلو کے ساتھی‘‘ کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حُکم تھا۔ اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ نیکی صرف لوگوں کے سامنے نرم لہجہ رکھنے کا نام نہیں… اصل نیکی تو گھر کے ان لوگوں کے ساتھ اچھا ہونا ہے، جو ہماری تلخی، غصّے اور بےرخی کے باوجود ہمیں اپنا سمجھتے ہیں۔
اگلی صُبح سورج کی روشنی جب کھڑکی سے اندر آئی تو منزّہ خاموشی سے کچن میں گئی۔ اُس نے چائے ہی نہیں، پورا ناشتا تیار کیا۔ ٹرے سجائی اور ساس کے کمرے میں جا کر دھیمی آواز میں بولی۔ امّی جی! ناشتا کرلیں… اورمجھےمعاف کر دیں … مَیں قرآن کا درست فہم حاصل نہ کرسکی اور میرا لہجہ اُن لوگوں کے لیے سخت ہو گیا، جو میرے میٹھے بولوں کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ساس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ اگلے ہی لمحے ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ انہوں نے ٹرے ایک طرف رکھی اور منزّہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔
اور… اُس دن پہلی بار منزّہ کو سکینتِ قلب کا احساس ہوا۔ کیوں کہ آج اُس نے لوگوں کی نظروں میں معتبر ہونے، واہ واہ سمیٹنے کے لیے کوئی دکھاوے کی نیکی نہیں کی تھی، آج اُس نے خالص خوفِ خدا رکھتے ہوئےاُن لوگوں کا دل سے احساس کیا تھا، جو اُس کےاِخلاص و ہم دردی کےسب سے زیادہ مستحق تھے۔
ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ڈائجسٹ‘‘
٭سو لفظی کہانی، بھولی، روزنامچہ، قربانی، ریل گاڑی (صبا احمد، کراچی) ٭مجھے اس طرح نواز دے (ماریہ حسّان) ٭خدمت یا قربت، ابو کی سائیکل (رانا محمّد شاہد، بورے والا ) ٭شفق کا گواہ، ایثار کی خوشبو (شگفتہ جہاں، کراچی) ٭فادرز ڈے(شہزادہ بشیر محمد نقش بندی، میرپور خاص) ٭کھوکھلی جڑ (جاوید جواد حسین، گلشنِ اقبال ٹاؤن، کراچی)٭خط (محمد شاکر لبانہ، بستی اللہ بخش،جندوپیر)٭کانچ کی عمارت (ایس ناز گل، کراچی) یادِ ماضی (طوبیٰ احسن، لاہور)۔
برائے صفحہ ’’متفرق‘‘
٭چڑیل، والد ،قول و فعل، چِٹھی، سوئی گیس، کتاب (شری مُرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور) ٭ ساندل بار اسپورٹس میلہ (شیخ عبدالنعیم، سیدوالہ)٭بند آنکھوں کے پیچھے (رحمت عزیزخان چترالی) ٭علامہ ہشام الٰہی ظہیر (عمران سلفی) ٭وقت کی قدروقیمت (صبااحمد، کراچی) ٭ہراسمنٹ، لڑکوں کا لڑکیوں کودھوکا (اقراء الیاس علی خان، نارتھ کراچی، کراچی)٭روحانی ترقّی اور نمک (محمّد کاشف، کراچی) ٭مَیں شیطان ہوں (ڈاکٹر افشاں طاہر، گلشنِ اقبال، کراچی) ٭ بابائے ہومیوپیتھی(بابرسلیم خان، سلامت پورہ، لاہور) ٭ قانون، رِٹس، حُکم نامہ جات،خفقان،نفسیات(محمّد صفدر خان ساغز، راہوالی، گوجرانوالہ) ٭پاکستان کے لیے ویٹو پاور (صغیرعلی صدیقی، کراچی) ٭عالمی یومِ ہیپاٹائٹس (محمّد ریاض ایڈووکیٹ) ٭ مثنوی (ارسلان اللہ خان، حیدرآباد) ٭کراچی: روشنیوں سے مسائل کے شہر تک کا سفر (محمّد رمضان مغل، کراچی)٭ ہیپاٹائٹس کاعالمی یوم( ڈاکٹر شاہد ایم شاہد، واہ کینٹ)٭ شبیہ (زریں اختر) ٭ ماہِ صفر سے منسوب غلط تصورات، دوست (رانا اعجاز حسین چوہان)٭ قومی خزانے کو اربوں کا نقصان (زاہد رؤف کمبوہ، گوجرہ) ٭ امیرالعظیم کی وفات (حنا شاہ)۔