• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بین الاقوامی شہرت یافتہ ،آذری نژاد برطانوی گلوکار، نغمہ نگار، کثیر ساز نواز اور موسیقار، سمیع یوسف کو مسلم دنیا کا سب سے بڑا ’’راک اسٹار‘‘ کہا جاتا ہے۔اُن کی دل میں اُتر جانے والی آواز، مسحورکُن فن نے اُنہیں روحانی موسیقی کی دنیا میں ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے۔ وہ فن کی دنیا میں ایک ایسے پُل کی مانند ہیں، جو مشرق اور مغرب کو باہم ملاتا ہے۔ اُن کی موسیقی محض تفریح نہیں، بلکہ ایک پُرامن اور روحانی سفر ہے، جو نسلوں اور سرحدوں کی قید سے آزاد ہوکر دلوں کو جوڑتا ہے۔

سمیع یوسف اپنی فنی صلاحیتوں اور منفرد طرزِ موسیقی سے دف، طبلہ، اورنَے جیسے روایتی مشرقی آلات کو پیانو، وائلن اور جدید سنتھیسائزر (Synthesizer) کے ساتھ بڑی خُوب صُورتی سے ہم آہنگ کرتے ہیں، جس سے ایک ایسا عالم گیر نغمہ تخلیق ہوتا ہے، جو ہر زبان اور مذہب کے افراد کو متاثر کرتا ہے۔

اُن کی بیش تر موسیقی اور شاعری صوفیائے کرام کی تعلیمات پر مبنی ہے، جس میں امن، محبّت، اور انسان دوستی کا آفاقی پیغام موجودہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہیں بین الاقوامی میڈیا میں’’اسلامی موسیقی کے سب سے بڑے راک اسٹار‘‘ اور ’’مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے پاپ اسٹار‘‘ کے اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ان کا یہ منفرد امتزاج نہ صرف نوجوان نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑتا ہے، بلکہ مغربی دنیا کے سامعین کو بھی اسلامی موسیقی اور ثقافت کی گہرائی اور خُوب صُورتی سے روشناس کرواتا ہے۔

سمیع یوسف کی عوامی شخصیت میں گہری انکساری اور خلوص نمایاں ہے، جو سامعین کے دِلوں کو چھو لیتا ہے۔ وہ خود کو پاپ موسیقی کی ایک افسانوی شخصیت کے بجائے ایمان اور ثقافتی ورثے کے ایک عاجز ترجمان اور ایک ایسے فن کار کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو روحانی سفر پر گام زن ہے اور اپنے فن کو امن، محبّت، ہم دردی اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے استعمال کرتا ہے، یہی اُن کی شخصیت کے بنیادی عناصر ہیں۔

اُن کے کنسرٹس، انٹرویوز، گفتگو اور رویّہ ایک ایسے انسان کو ظاہر کرتا ہے، جو اختلافات کم کرکے موسیقی کی عالمی زبان کے ذریعے باہمی فہم و شعور کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ انتہائی منفرد فنِ موسیقی کے حامل گلوکار، سمیع یوسف کی موسیقی کی رُوح اُن کے انقلابی روحانی انداز میں مضمر ہے۔ یہ اُن کی اپنی وضع کردہ اصطلاح ہے، جو موسیقی کی مختلف روایات کے حسین امتزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔

درحقیقت، اُن کی ہر تخلیق میں روحانیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اپنے نغموں میں روایتی اسلامی موسیقی سمیت عرب و ترک اور فارسی کلاسیکی موسیقی سے گہرا اثر لیتے ہیں اور روایتی سازوں اور مخصوص آوازو اسالیب کا استعمال کرتے ہوئے دلوں کو چُھولینے والے اپنے نغموں میں مغربی کلاسیک کے ساتھ جدیدآرکسٹرا، جدید پروڈکشن تیکنیک اور پاپ موسیقی کے عناصر کو بھی خاص مہارت سے شامل کرتے ہیں، جس سے اُن کی موسیقی عالمی سامعین کے لیے مزید قابلِ قبول بن جاتی ہے۔

اُن کے بیش ترنغمات خدا سے محبّت، اخلاقی اقدار، سماجی انصاف اور انسانی وحدت جیسے فکر انگیزموضوعات پر مبنی ہیں اور اُن میں اکثر مختلف مذاہب اور فلسفوں کے حوالہ جات بھی شامل ہیں اور یہی منفرد امتزاج، راک اسٹارسمیع یوسف کو روایتی موسیقی کی حد بندیوں سے ماورا کر دیتا ہے۔ اُن کا مدُھرفن ایک ایسی صوتی کائنات تشکیل دیتا ہے، جہاں قدیم اور جدید آرکسٹرا دُھنوں سے ہم آہنگ ہوکر ایک ایسا اچھوتا انداز تخلیق کرتے ہیں، جو ہمیشہ کے لیے تازہ اور جدید محسوس ہوتا ہے۔ سمیع یوسف کا فن اس امرکی زندہ مثال ہے کہ موسیقی نہ صرف گہری روحانی سچّائیوں کو بیان کر سکتی ہے بلکہ عالمی اتحاد کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔

21جولائی 1980ءکو ایران کے دارالحکومت، تہران میں ایک آذربائیجان گھرانے میں پیدا ہونے والے سمیع یوسف کے دادا اور دادی کا تعلق ’’باکو‘‘ سے تھا، جہاں سے وہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد بالشویکوں کے قبضے کے بعد اپنی جان بچانے کے لیے ہم سایہ ملک، ایران منتقل ہوئے، لیکن 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلابِ کے بعد انہیں ایک اور ہجرت کاسامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں انتہائی کم سِنی میں سمیع یوسف1980ء کی دہائی میں اپنے والدین کے ساتھ ایلنگ، مغربی لندن منتقل ہوگئے۔

وہاں انہوں نے’’رائل اکیڈمی آف میوزک‘‘ میں موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں، مزید تعلیم کے حصول کے لیے’’سالفرڈ یونی ورسٹی، شمال مغربی انگلینڈ‘‘ میں داخلہ لے لیا۔ سمیع یوسف نےجولائی 2003ء میں اپنے پہلے میوزک البم المعلم (Al-Muʽallim) کی ریلیز سے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی، جس کے بعد انھوں نے2020ء تک اپنے آٹھ اسٹوڈیو البمز، پانچ لائیو البمز اور ایک کمپائلیشن البم جاری کیا۔ اُن کے زیادہ تر اسٹوڈیو البمز Andante Records کے تحت جاری ہوئے، جب کہ ابتدائی دو البمز Awakening Records نے ریلیز کیے اور2016ء تک اُن کے34ملین سے زائد میوزک البمز فروخت ہوچکے تھے۔

سمیع یوسف کی انتہائی کم عمری ہی سے موسیقی میں غیرمعمولی دل چسپی کے سبب ایلنگ میں دست یاب موسیقی کی مختلف اصناف، خصوصاً مغربی کلاسیکی موسیقی اور مشرقِ وسطیٰ کی موسیقی نے اُن کے فن پر گہرا اثر ڈالا۔ اس دوران انہوں نے مغربی ساز، پیانو اور وائلن کے ساتھ ساتھ روایتی مشرقی موسیقی کے آلات، عود، ستار اور تنبک بجانے میں بھی مہارت حاصل کرلی۔16برس کی عُمر میں سمیع یوسف کو ایک روحانی بے داری کا تجربہ ہوا، جس کے بعد وہ راسخ العقیدہ مسلمان کے طور پر اُبھرے۔

تاہم، اُن کے موسیقی کے سفر کا باقاعدہ آغاز2003ء میں ہوا۔ اگرچہ وہ قانون کے شعبے میں اپنا کیریئر بنانے پر غور کررہے تھے، لیکن2003 ء میں اُن کا تیار کردہ البم عالمی سطح پر تیزی سے کام یاب ہوا تو انھوں نے پیشہ ورانہ موسیقی اپنانے کا فیصلہ کرلیا۔اُن کے البم کا نمایاں نغمہ المعلم (Al-Mu’allim) مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا اور جنوب مشرقی ایشیا میں مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچ گیا اور مصر اور ترکی میں مسلسل بارہ ہفتوں تک میوزک چارٹس پر سرِفہرست رہا۔

دنیا بھر میں اس نغمے کی لاکھوں نقول فروخت ہوئیں اور اس نے متنوّع سامعین تک رسائی حاصل کی۔ ان کے اس البم کے آخری ٹریک التجا (Supplication) کو گولڈن گلوب ایوارڈ کے لیے نام زد فلم’’The Kite Runner‘‘میں استعمال کیا گیا۔ 2005ء میں اپنے دوسرے البم ’’میری امّت‘‘( My Ummah) کی ریلیز کے بعد سمیع یوسف کو عالمی سطح پر مزید شہرت حاصل ہوئی۔ اُن کا یہ البم مشرقی اور مغربی موسیقی کے امتزاج پر مشتمل تھا، جس میں مختلف قسم کے ساز استعمال کیے گئے تھے۔

اس البم کی چار ملین سے زائد نقول فروخت ہونے پراسے موسیقی کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے، خاص طور پر اسے نوجوانوں میں بے حد پزیرائی ملی، جو سمیع یوسف کے نغمات کے موضوعات سے گہری وابستگی محسوس کرتے ہیں۔سمیع یوسف کا تیسرا باضابطہ البم ’’جہاں کہیں بھی تم ہو‘‘ مارچ2010ء میں ریلیز ہوا۔ فن موسیقی پرمعروف امریکی جریدے’’Rolling Stone‘‘نے اس البم کو ’’خُوب صُورتی سے تیار کردہ شاہ کار‘‘ قرار دیا۔

اس البم کے ساتھ سمیع یوسف نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر اور موسیقی میں ایک نئے باب کا آغاز کیا، جب کہ اُن کا چوتھا البم ’’سلام‘‘ دسمبر2012ء میں جاری ہوا۔ ریلیز کے صرف چار ماہ کے اندر اس البم نے جنوب مشرقی ایشیا میں پلاٹینیم کا درجہ حاصل کرلیا اور مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا البم بن گیا۔

اُنھوں نے اس البم میں شامل نغمہ ’’اپنی پُکار سُنو‘‘ (Hear Your Call) قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی صُورتِ حال کی طرف توجّہ دلانے کے لیے تخلیق کیا تھا۔2014 ء میں اُن کا البم ’’مرکز‘‘ (The Centre) ریلیز ہوا، جو 13گیتوں پر مشتمل ہے۔ اس میں سمیع یوسف نے اپنے سننے والوں کو روحانی مرکز کی تلاش کی ترغیب دی ہے۔ صوفیانہ موسیقی کے اس نئے اندازمیں کثیر الثقافتی اثرات شامل ہیں اور اس میں روایتی و جدید مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا اور یورپی شاعری، ساز اور دُھنیں استعمال کی گئی ہیں۔

چھٹا البم ’’راہ کے نغمے‘‘ (Songs of (The Way جنوری 2015 ء میں جاری ہوا۔ جس کے تمام بول معروف ایرانی،امریکی فلسفی اور مذہبی عالم سیّد حسین نصر کی شاعری پر مبنی ہیں، جو اُن کی دو کتابوں’’Poems of the Way‘‘اور’’The Pilgrimage of Life‘‘سے لیے گئے ہیں۔اس میں ایک فارسی اور ایک عربی نغمے کے علاوہ باقی تمام انگریزی زبان میں ہیں، جب کہ روایتی موسیقی اور شاعری پر گہری تحقیق پر مبنی اُن کاساتواں البم ’’برکہ‘‘ (Barakah) فروری2016ء میں Andante Records نے جاری ہوا۔ سمیع یوسف کے مطابق، اس نئے البم کا مقصددنیا میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے جواب میں ہم آہنگی اور توازن کی طرف واپسی کی دعوت ہے۔

البم ریلیز ہونے کے بعد2016ء میں سمیع یوسف نےدبئی اوپیرا میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا،جب کہ2017ء میں انھوں نے نئی دہلی، بھارت میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔2018ء میں،انھوں نے ایک نیا ای پی (EP) SAMi کے نام سےجاری کیا۔ یہ ایک سائیڈ پراجیکٹ تھا ،جو ان کی برطانوی موسیقی کی جڑیں دریافت کرنے کی خواہش سے جنم لے کر سامنے آیا۔

اس نغمے کے مجموعے میں سادہ اور قابلِ رسائی دُھنیں اور براہِ راست اندازِ تحریر شامل ہے، جس میں لندن میں بچپن گزارنے کے دوران ان پر اثر انداز ہونے والی مغربی موسیقی کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ SAMi نے ریلیز کے بعد اچھی خاصی پزیرائی حاصل کی اور یہ کئی آئی ٹیونز چارٹس میں سرِفہرست رہا۔ تاہم، حیرت انگیز طور پر اس پراجیکٹ کی تجارتی نوعیت پر انھیں کسی قسم کی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ 2019ء میں اُنھوں نے باکو، آذربائیجان میں A Timeless Presence کے عنوان سے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جس میں نو نئے نغمے پیش کیے، جو آذربائیجانی ثقافت پر مبنی تھے۔

نومبر2020ء میں اُنھوں نے اپنے ذاتی اسٹوڈیو سے ایک آن لائن کنسرٹ میں نغمہ’’ الفقیر‘‘ (Al Faqir)اور ننانوے اسمائے الحسنیٰ پیش کیے۔ انھوں نے اپنے نمایاں غیرمُلکی دوروں اور کنسرٹس کے لیے ڈنمارک کے فارم ایرینا، جرمنی کے گروگاہالے اور نیدرلینڈز کے ڈی ڈولن میں فن کا مظاہرہ کیا اور اس دوران اپنے آئندہ البم’’Wherever You Are‘‘کا تعارف کروایا۔اپنے آبائی وطن آذربائیجان میں پہلی بار 2006ء میں، دوسری بار 2015اور تیسری بار 22 مارچ2017 ء کو باکو میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جب کہ 2013ء میں استنبول کے ’’تقسیم اسکوائر‘‘ پر اُن کی پرفارمینس دیکھنے کے لیے تقریباً2لاکھ 50ہزار شائقین موجود تھے۔

واضح رہے، عالمی راک اسٹار سمیع یوسف نے دنیا کے چار برّاعظموں میں مختلف کنسرٹس کیے، جن کے مشہور مقامات میں ویمبلے ایرینا، لندن، شرائن آڈیٹوریم، لاس اینجیلس، ویلوڈروم، کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقا اور کنسرٹ گیبو، ایمسٹرڈم وغیرہ شامل ہیں۔ سمیع یوسف انگریزی کے ساتھ عربی، ترکی، فارسی، آذربائیجانی، ملائی اور اردو زبانوں میں بھی گاتے ہیں اور اُن کے ساتھ کلاسیکل اور جدید سازندوں کی ایک متنوع ٹیم موجود ہوتی ہے۔

سمیع یوسف امریکا کے دارالحکومت، واشنگٹن ڈی سی میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرچکے ہیں، جب کہ انھوں نے دسمبر2016ء میں جب پہلی باردبئی میں پرفارم کیا،تو وہاں اپنا مقبول نغمہ حمد و ثناء (Glorification) پیش کیا۔ یہ نغمہ متحدہ عرب امارات کے وزیرِ اعظم اور دبئی کے حکم ران، شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی شاعری سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا تھا۔

سمیع یوسف، سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھی خاصے متحرک رہے۔ وہ دنیا بھر کےمستحق افراد کے لیے خیراتی کنسرٹس میں پرفارم کرنے، فلاحی نغمے جاری کرنے اور مختلف تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے غربت اور انسانی تکالیف کے خاتمے کے لیے بھی کام کرتے رہے۔ 2010ء میں پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے موقعے پرمتاثرین سے ہم دردی کے لیےفوری طور پر ایک فلاحی نغمہ ’’اپنی پُکار سُنو‘‘ (Hear Your Call )جاری کیا، جسے انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں پیش کیا گیا۔

اس نغمے کی ریلیز کا مقصد اقوامِ متحدہ کے تعاون سے چلنے والی فلاحی تنظیم Save the Children کے اشتراک سے سیلاب سے متاثرہ بے گھر پاکستانیوں کے لیے امدادی فنڈز جمع کرنا تھا۔2014ء میں سمیع یوسف کی غیر معمولی فلاحی خدمات کے اعتراف میں انہیں اقوامِ متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے لیے اقوامِ متحدہ کا عالمی سفیر مقرر کیا گیا۔2005ء میں وہ شادی کے بندھن میں بندھے اور اُن کی اہلیہ، جرمن نژاد مسلمان ہیں۔

سمیع یوسف کو اُن کے فنی خدمات کے اعتراف میں متعدد عالمی اعزازات اور انعامات سے بھی نوازا گیا۔ 2009ء میں، یونی ورسٹی آف روہیمپٹن، لندن نے موسیقی کے شعبے میں اُن کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔ اسی سال قطری تنظیم Silatech نے انہیں دنیا میں اپنا پہلا عالمی سفیرمقرر کیا۔ 2006ء میں امریکی ٹائم میگزین نے انھیں اسلامی دنیا کا سب سے بڑا راک اسٹار تسلیم کیا اور اسی برس برطانوی اخباردی گارڈین نے انہیں مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا میوزک اسٹار اور 2007ء میں قطری نیوز چینل الجزیرہ نے ’’اسلامی پاپ کا بادشاہ‘‘ قرار دیا، جب کہ2009 ءمیں انھیں بی بی سی کی 30مشہور برطانوی شخصیات میں شامل کیا گیا۔

اس کے علاوہ برطانیہ میں سب سے زیادہ نمایاں مسلم موسیقار اور گلوکار سمجھے جانے والے سمیع یوسف کا نام2010ءسے ہر سال ’’دنیا کے500بااثر ترین مسلمانوں‘‘ کی فہرست میں بھی شامل ہوتا آ رہا ہے۔

(مضمون نگار، سابق افسرِ تعلقات عامہ، ای او بی آئی، ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ، پاکستان ہیں)