قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اخراجات میں کمی کے لیے اضافی کفایت شعاری اقدامات فوری طور پر نافذ کر دیے۔
اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے 50 فیصد ملازمین دفاتر جبکہ 50 فیصد گھر سے کام کریں گے، گھر سے کام کرنے والے ملازمین کے لیے ٹیلی فون، ای میل اور واٹس ایپ پر دستیابی لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر انہیں 1 گھنٹے کے نوٹس پر دفتر پہنچنا ہو گا۔
اعلامیے کے مطابق گھر سے کام کرنے والے 50 فیصد ملازمین نائٹ الاؤنس اور اوور ٹائم چارجز کے حق دار نہیں ہوں گے، ملازمین کو اسٹیشن چھوڑنے سے قبل مجاز اتھارٹی سے اجازت لینا ہو گی۔
قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ کی سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے، یہ اقدام 3 ماہ کے لیے ہو گا، نئی گاڑیوں کی خریداری پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
رواں مالی سال کے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ اجلاس ترجیحاً ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے۔
اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے اجلاس بھی ورچوئل موڈ میں منعقد کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور اجلاسوں کی تعداد کم سے کم سطح پر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ہر قسم کی پائیدار اشیاء کی خریداری پر پابندی ہو گی، تاہم آئی ٹی کے سامان کی خریداری اس پابندی سے مستثنیٰ ہو گی۔
3 ماہ کے لیے غیر ملکی دوروں اور سرکاری سفری اخراجات پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، تاہم بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کی اسکالر شپس اور مخصوص تربیتی پروگرامز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کے انعقاد پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے فنڈڈ سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز بھی منعقد نہیں کی جائیں گی۔
اعلامیے میں ہدایت کی گئی ہے کہ ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے آڈیٹوریم، کمیٹی رومز اور دیگر سرکاری سہولتیں استعمال کی جائیں، اخراجات کم کرنے کے لیے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ ماحول اپنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اضافی کفایت شعاری اقدامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔