ترکیہ کی جدید سیاسی تاریخ میں ایسے رہنما کم ہی ابھرے ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو محض برداشت کرنے کے بجائے اسکا رُخ اپنے قومی وقار اور عوامی امنگوں کی جانب موڑ دیا ہو۔ رجب طیب ایردوان کا23 سالہ سفر محض اقتدار کی داستان نہیں، بلکہ ایک خوددار قوم کے ازسرنو جی اٹھنے اور اپنے کھوئے ہوئے تشخص کی بازیابی کا کرشمہ ہے۔ جب نومبر 2002ءمیں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) نے اقتدار سنبھالا، اس وقت ملک سیاسی عدم استحکام اور کمزور مخلوط حکومتوں کی لپیٹ میں تھا، جبکہ معیشت مفلوج اور ریاستی فیصلے عوامی امنگوں سے بے خبر اشرافیہ کے زیرِ اثر تھے۔ اسی مایوس کن دور میں اناطولیہ کے عوام کی پکار بن کر ایک ایسا مدبر سامنے آیا جس نے سیاست کو ایوانوں کی بند کوٹھڑیوں سے نکال کر براہِ راست عوامی خدمت اور رابطے کی روشنی عطا کی۔ ایردوان کے طویل اور مثالی سفر کی سب سے بڑی قوت عوام اور انکے درمیان قائم غیر متزلزل ربط ہے۔ استنبول کے میئر کی حیثیت سے انہوں نے شہریوں کو سہولتوں کی فراہمی کا جو عملی تجربہ حاصل کیا، وہی آگے چلکر ملکی سیاست کا رخ متعین کرنے والا ثابت ہوا۔ انہوں نے سیاست میں ریاست کو حاکم کے بجائے خادم کے روپ میں پیش کیا۔ انہوں نے قومی خودمختاری، دفاع اور عالمی وقار جیسے بڑے تصورات کو عام آدمی کے روزمرہ مسائل، ہسپتالوں، ٹرانسپورٹ اور باوقار رہائش کے ساتھ جوڑ دیا، جس سے عوام کو یہ احساس ہوا کہ ملکی ترقی کا فائدہ براہِ راست انکے گھر تک پہنچ رہا ہے۔
یہ عوامی تعلق اور قائدانہ جرأت اس وقت پوری آب و تاب کے ساتھ تاریخ کے اوراق پر نقش ہوئی جب 15جولائی 2016ء کی رات جمہوریت پر شب خون مارنے کی سازش کی گئی۔ غدار عناصر اور گولن تحریک نے بندوق اور ٹینکوں کے زور پر عوامی مینڈیٹ چھیننا چاہا، مگر ایردوان کی ایک صدا پر لاکھوں غیر مسلح شہری سڑکوں پر نکل آئے اور ٹینکوں کا راستہ روک کر بغاوت کچل دی۔ یہ واقعہ محض ایک ناکام بغاوت نہیں تھا بلکہ ایک نئی قومی بیداری کا نقطہ آغاز تھا۔ اسکے بعد 2017ء کے ریفرنڈم اور 2018ء کے انتخابات کے بعد فرسودہ پارلیمانی نظام کو خیرباد کہہ کر صدارتی نظام نافذ کیا گیا، جس نے انتظامی فیصلوں کو تیز رفتاری اور غیر معمولی استحکام بخشا۔ ایردوان دور کا سب سے درخشاں اور انقلابی کارنامہ دفاعی خود انحصاری ہے۔ دو دہائیاں قبل اپنی سلامتی کیلئے غیروں کی عنایات پر انحصار کرنیوالا ملک آج اپنی دفاعی ضروریات کا 80فیصد سے زائد خود تیار کر رہا ہے۔ 2002ءمیں دفاعی و ہوا بازی کی برآمدات محض 248 ملین ڈالر تھیں، جو لائی 2026 تک سالانہ بنیادوں پر 12ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو گئیں۔ ترک جدید ڈرونز، جدید ترین جنگی بحری جہاز، بکتر بند گاڑیاں، میزائل، ریڈار اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز نے ترکیہ کو دنیا کے صفِ اول کے دفاعی برآمد کنندگان میں شامل کر دیا۔
ترقی کا یہ سفر ملک گیر انفراسٹرکچر کی شاندار نشاۃِثانیہ کی صورت میں بھی سامنے آیا۔ جدید شاہراہوں کا جال، پل، سرنگیں، بین الاقوامی ہوائی اڈے اور جدید ترین سٹی ہسپتال تعمیر کیے گئے۔ فروری 2023ءکے زلزلہ متاثرین کیلئے پائیدار اور محفوظ رہائشی گھروں کی بروقت فراہمی نے یہ واضح کر دیا کہ حکومت بحران کے وقت اپنے شہریوں کا سہارا بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
خارجہ پالیسی کے محاذ پر صدر ایردوان نے ترکیہ کو ایک متحرک، کثیر الجہت اور خود مختار کردار بخشا ہے۔ بلقان، مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور قفقاز میں ترکیہ کا اثر و رسوخ بے مثال ہے۔ 2020ءکی جنگِ قارا باغ میں برادر ملک آذربائیجان کی غیر متزلزل سیاسی و دفاعی حمایت اس اتحاد کی شاندار مثال تھی۔ اسی طرح پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچایا گیا۔ مئی 2025ءمیں پاک بھارت عسکری کشیدگی کے وقت میں ترکیہ نے تمام تر مصلحتوں سے بالاتر ہو کر پاکستان کی ہر ممکن عملی مدد کی اور پاکستانی عوام کے دل جیت لیے۔
شام کے طویل بحران میں، بالخصوص دسمبر 2024 ءمیں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد، ترکیہ خطے میں ایک کلیدی اور ناگزیر امن ضامن بن کر ابھرا ہے۔ دوسری طرف براعظم افریقہ میں ترکیہ کی غیر معمولی سفارتی، تجارتی اور دفاعی موجودگی اور ترک ائیرلائنز کے وسیع روابط نے ترکیہ کو ایک سچی خیرخواہ طاقت کے طور پر متعارف کرایا۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جب صدر ایردوان فلسطین، کشمیر، پناہ گزینوں اور مسلم دنیا کے مسائل پر بے باک خطاب کرتے ہیں، تو دراصل وہ مظلوموں اور عالمی ضمیر کی توانا آواز بن کر ابھرتے ہیں۔اگرچہ عالمی معاشی بحرانوں اور علاقائی تنازعات کے اثرات سے اندرونِ ملک مہنگائی کا دباؤ رہا، مگر اب افراط زر کی رفتار بتدریج تھم رہی ہے اور معاشی استحکام کی نشانیاں واضح ہو رہی ہیں۔ 2024ءکے بلدیاتی انتخابات میں اگرچہ اپوزیشن جماعت (CHP) نے بعض بڑے شہروں میں کامیابی حاصل کی، لیکن قومی سطح پر آق پارٹی کا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ اور عوامی اثر اب بھی ترک سیاست کا مرکزی ستون ہے۔ اپوزیشن کی اندرونی دھڑے بندی اور قیادت کا فقدان یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا تجربہ صرف ایردوان ہی کے پاس ہے۔
آئندہ انتخابات کا سوال، خواہ وہ طے شدہ شیڈول کے مطابق 2028ءمیں ہوں یا پارلیمان کے 360ارکان کی حمایت سے اس سے قبل ، جیسا کہ صدارتی مشیرِ اعلیٰ مہمت اُچوم نے 16اپریل 2028کاعندیہ دیا ہے، ایردوان انتخابی میدان میں ہمیشہ ایک آزمودہ اور فتح مند رہنما کی حیثیت سے اترے ہیں۔ انہوں نے23برسوں میں محض انتخابات جیتنے کی روایتی سیاست نہیں کی بلکہ ترکیہ کی ریاست، دفاع، معیشت اور عالمی شناخت کو نئی جہت عطا کی ہے۔ترک عوام جانتے ہیں کہ معاشی چیلنجز پر قابو پانا ہو، دفاع کی ناقابلِ تسخیر فصیل قائم رکھنی ہو یا عالمی سطح پر پرچم سربلند رکھنا ہو، سب سے قابلِ اعتماد قیادت رجب طیب ایردوان کی ہے۔