• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

توشہ خانہ کے قواعد مزید سخت، وفاقی حکومت نے نئے رولز نافذ کر دیے

توشہ خانہ کے قواعد مزید سخت کر دیے گئے، وفاقی حکومت نے نئے رولز نافذ کر دیے۔ کابینہ ڈویژن نے توشہ خانہ منیجمنٹ اینڈ ریگولیشن رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ 

اسلام آباد سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم اور صدر کے سوا تحائف وصول کرنے پر حوصلہ شکنی ہوگی، توشہ خانہ میں موجود اور موصول ہونے والے تمام تحائف کی نیلامی ہوگی۔ 

نوٹیفکیشن کے مطابق نیلامی کی رقم پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی تعلیم پر خرچ ہوگی، ہر مالی سال توشہ خانہ میں موصول تمام تحائف کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا۔

تمام تحائف کھلی عوامی نیلامی میں فروخت ہوں گے، ثقافتی، تاریخی اور سفارتی حساس تحائف نیلام نہیں ہوں گے، نیلامی سال میں 2 بار ترجیحاً اور کم ازکم ایک بار ضرور ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری عہدیداران اور ان کےخاندان نیلامی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، سیٹ کی صورت میں تحائف کو الگ الگ فروخت نہیں کیا جائے گا۔

نیلامی کی براہ راست میڈیا کوریج ہوگی، تحائف سے متعلق فیصلوں کیلئے سیکریٹری کابینہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم ہوگی، کمیٹی میں خزانہ، خارجہ، قانون اور ثقافت ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹریز شامل ہوں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی فیصلہ کرے گی کون سے تحائف نیلام اور کون سے تاریخی حیثیت رکھتے ہیں، سفارتی آداب پر تحفہ لینا ناگزیر ہو تو توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ملنے والا تحفہ 30 دن کے اندر جمع کرانا لازم ہوگا، بیرون ملک دورے کی صورت میں واپسی کے 30 دن میں تحفہ جمع کرانا ہوگا، الگ جہاز سے آنے والے تحفے کے لیے 60 دن کی مہلت ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 1 سے 4 کے ملازمین نقد انعام رکھ سکیں گے، مقررہ مدت میں تحفہ جمع نہ کرانے پر عدالت میں شکایت درج ہوگی، تحائف کی مارکیٹ ویلیو ایف بی آر اور نجی تخمینہ کار طے کریں گے۔ دونوں قیمتوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق پر تیسرے تخمینہ کار کی رائے حتمی ہوگی، اے آئی کو بھی حوالہ قیمت کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ 

ہتھیاروں کی قیمت پی او ایف واہ طے کرے گی، تحائف کی حفاظت گریڈ 20 کے افسر کے سپرد ہوگی، توشہ خانہ اسٹور روم میں سی سی ٹی وی اور تالہ بندی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تمام تحائف کا ریکارڈ اور تصویر ویب پورٹل پر شائع کی جائے گی، تحفہ دینے والی شخصیت اور ملک کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا۔

قومی خبریں سے مزید