• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب میں جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار و اسمگلنگ کیخلاف کارروائیاں، انٹرنیشنل وائلڈ لائف ای یو کا خیرمقدم

پیرس: انٹرنیشنل وائلڈ لائف، تحفظِ جنگلی حیات یورپی یونین نے پنجاب میں مہاجر پرندوں اور جنگلی حیات کے تحفظ، غیر قانونی شکار، تجارت، اسمگلنگ اور جنگلی حیات پر ناجائز قبضے کے خلاف پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب، صوبائی سیکریٹری کیپٹن (ر) طاہر ظفر عباسی اور ڈائریکٹر جنرل کیپٹن (ر) محمد وسیم کی سربراہی وائلڈلائف کرائمز کی بیخ کنی کی جانب سے بلاامتیاز جاری کارروائیاں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سراہا ہے۔

ادارے نے صوبائی محکمہ جنگلی حیات کی قیادت اور افسران کی جانب سے جنگلی حیات کے جرائم کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی جاری رپورٹ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ تحفظِ جنگلی حیات و پارکس پنجاب کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2024ء سے اب تک صوبے بھر میں جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار، تجارت، اسمگلنگ اور قبضے کے خلاف مجموعی طور پر 13 ہزار 730 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ سنگین نوعیت کے جنگلی حیات کے جرائم میں ملوث ایک ہزار 507 ملزمان کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ اسی عرصے کے دوران 12 ہزار 784 مقدمات میں مجموعی طور پر 22 کروڑ 98 لاکھ 79 ہزار 331 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے مرکزی زون، جس میں لاہور، ساہیوال، فیصل آباد اور سرگودھا کے علاقے شامل ہیں، میں مجموعی طور پر 5 ہزار 243 مقدمات درج کیے گئے۔ ان میں سے 4 ہزار 251 مقدمات میں 5 کروڑ 58 لاکھ 87 ہزار 905 روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ 691 ملزمان کے خلاف ایف آئی آرز درج ہوئیں۔

شمالی زون، جس میں راولپنڈی، سالٹ رینج، گجرات، گوجرانوالہ اور میانوالی کے ریجن شامل ہیں، میں جنگلی حیات کے جرائم کے خلاف 5 ہزار 344 مقدمات درج کیے گئے۔

محکمہ کی تفصیلات کے مطابق 5 ہزار 234 مقدمات میں 10 کروڑ 88 لاکھ 90 ہزار 670 روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث 147 ملزمان کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں۔

اسی طرح جنوبی زون، جو بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور ملتان ریجن پر مشتمل ہے، میں مجموعی طور پر 3 ہزار 143 مقدمات درج ہوئے۔ ان میں سے 2 ہزار 998 مقدمات میں 6 کروڑ 51 لاکھ 756 روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ 669 ملزمان کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں۔

محکمہ تحفظِ جنگلی حیات و پارکس پنجاب نے رواں موسمِ شکار کے دوران یکم اگست سے 15 ستمبر تک بٹیر، فالکن اور دیگر جنگلی جانوروں و پرندوں کے غیر قانونی شکار، تجارت، اسمگلنگ اور قبضے کی روک تھام کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔

محکمہ کے مطابق جاری کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 626 ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جبکہ 574 ملزمان پر مجموعی طور پر ایک کروڑ 69 لاکھ 27 ہزار 400 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سنگین نوعیت کے جنگلی حیات کے جرائم میں ملوث 149 ملزمان کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی جا چکی ہیں۔

یہ کارروائیاں وائلڈ لائف ایکٹ 1974ء میں ترمیم شدہ 2025ء اور پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ 2020ء میں ترمیم شدہ 2025ء کے تحت کی جا رہی ہیں۔

انٹرنیشنل وائلڈ لائف، تحفظِ جنگلی حیات یورپی یونین نے پنجاب میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے جاری کارروائیوں کو اہم اقدام قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ مہاجر پرندوں، جنگلی جانوروں اور قدرتی مسکن کے تحفظ کے لیے قانون پر مؤثر عمل درآمد اور غیر قانونی شکار کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہنی چاہیئیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید