’’یہ کون سی راکٹ سائنس ہے جو آپ کو سمجھ نہیں آ رہی۔‘‘ جب لوگ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ ایک سادہ سی بات ہے، اس کا سمجھنا کوئی ایسا دشوار تو نہیں ہے، تو یہ فقرہ اکثر بولتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر والد صاحبؒ کہا کرتے تھے ’’یہ کون سی ’’بیضاوی‘‘ کی عبارت ہے جو آپ کی آنکھوں میں ترمرے ناچنے لگے ہیں۔" (چودہویں صدی کی ایک گنجلک تفسیرِ قران جسکی اپنی بیسیوں شروحات رقم کی جا چکی ہیں)۔ یہ کوئی برین سرجری نہیں ہے، ہم کوئی کینسر کا علاج نہیں ڈھونڈ رہے، It’s not string theory, ، وغیرہ وغیرہ۔ ایسے بہت سے فقرے ہم سنتے رہتے ہیں جب کسی سادہ ترین بات کو مخاطَب پیچیدگی کا حامل سمجھ رہا ہو۔ اس تمہید کا مقصد فقط یہ بتانا تھا کہ آج کل ہم ایسے موقعوں پر فقط ایک ہی جملہ بولتے ہیں۔ ’’یہ ایک سیدھی بات ہے، آپ کا بجلی کا بل تو نہیں ہے جو آپ ہونقوں کی طرح ادھر اُدھر دیکھ رہے ہیں۔‘‘پی ٹی آئی لانگ مارچ کر رہی ہے، ریاست اپنے گُرز پالش کر رہی ہے، جماعتِ اسلامی پٹرول پر لیوی ،بھتے، کیخلاف جہاد آمادہ ہے، ریاست ان سے مذاکرات کر رہی ہے، سرکار اپوزیشن کے اکٹھے ہونے سے گھبرا رہی ہے کیوں کہ سرکار پرانے بادہ کشوں پر مشتمل ہے جو جانتے ہیں کہ ’’نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں۔‘‘ دو صوبے جو لہو لہو تھے، وہ لہو لہو ہیں۔حالات ہمیں گھور رہے ہیں، لہو روشنائی سے امداد کا طالب ہے۔ ریاست و سیاست کی یہ کروٹیں قلم کی توجہ چاہتی ہیں۔ مگر اب تو کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ان اہم ترین اجتماعی بقا و فنا کے مسائل پر سوچنا اور لکھنا بھی تعیش کے زمرے میں آنے لگا ہے۔ کیفیت وہی میرؔ صاحب والی ہے ’’مصائب اور تھے پر جی کا جانا...عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے۔‘‘ عام آدمی کیلئے جسم اور سانس کا رشتہ استوار رکھنا ایک معرکہ ہو چکا ہے، فضا میں بے بسی ہے، غصہ ہے، ’’اُس کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلا دو‘‘ والی کیفیت ہے۔
بجلی اور پٹرول وہ پھندے بن چکے ہیں جو عوام کی گردنوں میں ڈال کر مسلسل انہیں راہِ حیات پر گھسیٹا جا رہا ہے۔ سرکار بے قرار ہے کہ کہیں بجلی کے بلوں کا پھندا ڈھیلا نہ پڑجائے، سو مسلسل نئے جال بُنتی رہتی ہے۔ اس جون سے لیسکو نے اپنے بلوں کی شکل بدل دی ہے، اس میں سے سب تفصیلات نکال دی گئی ہیں، بس بِل کی رقم لکھی ہے اور جمع کرانے کی آخری تاریخ لکھی ہے۔ ہمارے علاقے کے ایک لیسکو کے افسر فخریہ اپنی ’’کارکردگی‘‘ بتا رہے تھے کہ اب انکے پاس صارفین کی شکایات آدھی رہ گئی ہیں۔ اُسکی وجہ دراصل یہی ہے کہ بِل پر کچھ لکھا ہی نہیں، ایک کیو آر کوڈ ہے جسکی مدد سے آپ بل کی تفصیلات تک پہنچ سکتے ہیں، مگر 50 فی صد لوگوں کے پاس تو سمارٹ فون ہی نہیں ، وہ کیا کریں؟ تو اگر ہاتھوں میں بل تھامے، دفتروں میں بک بک جھک جھک کرتے بابوں اور مائیوں سے نجات حاصل کر لی گئی ہے تو سرکاری پالیسی انتہائی ’’کامیاب‘‘ قرار دی جانی چاہیے۔ ستمبر کے بلوں میں نئے ٹیکس بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔ وزیر صاحب فرما رہے ہیں، ہم بجلی پرائیویٹائز کر رہے ہیں، موصوف فرما رہے ہیں نئی پالیسی کہ تحت ہم سولر صارفین سے اب بجلی نہیں خریدیں گے۔ اور ابھی ان ’’عوام دوست‘‘ بجلی پالیسیوں کی کشید بند نہیں ہوئی، ہزار بادہء ناخوردہ در رگِ تاک است۔ جنگ میں پٹرول دنیا بھر میں مہنگا ہو گیا ہے، بجلی گھروں کو کپے سٹی چارجز تو عالمی معاہدوں کے تحت دینے ہی دینے ہیں۔ یہ انتہائی بودی دلیلیں ہیں۔ یہ دونوں مسائل ایک دستخط سے حل ہو سکتے ہیں۔ یہ نکتہ توجہ طلب ہے۔ آج کل ملکی آٹو پالیسی بن رہی ہے، اس پالیسی کمیٹی میں اولین تجویز یہ تھی کہ الیکٹرک گاڑیوں کی مزید حوصلہ شکنی نہ کی جائے، سات بلین ڈالر کا پٹرول درامدی بل دو بلین سے بھی نیچے آ جائیگا، اور الیکٹرک گاڑیاں بجلی استعمال کرینگی تو کئے سٹی پیمنٹ کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ یعنی عوام کے دو سب سے بڑے مسائل ایک پالیسی سے حل ہو سکتے ہیں، راتوں رات نہیں تو ایک قلیل مدت میں۔
ابھی نئی آٹو پالیسی کا اعلان نہیں ہوا، مگر شنید یہ ہے کہ اس پالیسی کے سامنے مٹھی بھر مفاد پرستوں کا ٹولہ ڈٹ کر کھڑا ہو گیا ہے۔ مٹھی بھر بھی کیا، وہی دو چار گاڑیاں بنانے والے جو ساٹھ سال سے غیر معیاری گاڑیاں بنا رہے ہیں، آج بھی تیس لاکھ کی گاڑی، 70سے 80لاکھ کی بیچ رہے ہیں، جنہوں نے آج تک اس ملک میں کوئی ڈھنگ کی آٹو درآمدی پالیسی نہیں بننے دی، جو آج کُل سات ہزار لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ اس سے بڑی ایلیٹ کیپچر کی مثال نہ دیکھی نہ سنی۔ چار پانچ طاقت ور افراد 25 کروڑ لوگوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ یہ ابھی ایک سیکٹر کا حال ہے۔ آئی ایم ایف اور یو این ڈی پی جیسے عالمی ادارے اس وقت پاکستان کو بدترین ایلیٹ کیپچر کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ کاش، ہم مزید احمق ہوتے اور آنے والی آٹو پالیسی سے کوئی نیک توقع باندھ سکتے۔