• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم لوگوں کو’ناشکری‘کی سزا تو ملنا ہی تھی ، بھلے وقتوں میں چور ہوا کرتے تھے ہم نے انکی قدر نہیں کی ۔ چنانچہ وہ معاشرے سے غائب ہو گئے ۔ اب ایک طویل عرصے سے ڈاکو سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں ۔ وہ جس گھر میں داخل ہونا چاہیں کھلے بندوں داخل ہو جاتے ہیں ، کسی بھی پر ہجوم سڑک پر کسی کو لوٹنا چاہیں اسے پستول دکھا کر لوٹ لیتے ہیں۔ ایک وقت تھا انکی جگہ چور ہوا کرتے تھے۔ وہ بے چارے دبے پاؤں گھر میں داخل ہوتے ۔ ڈرے ڈرے سے مودب اتنے کہ چوری آدھی رات کے بعد کرتے تاکہ اہل خانہ کے معمولات ڈسٹرب نہ ہوں ۔ انکی پوری کوشش ہوتی کہ معمولی سا کھڑاک بھی نہ ہونے پائے تا کہ کسی کی نیند میں خلل بھی نہ پڑے۔ اگر کبھی غلطی سے ایسا ہو جاتا تو وہ درد دل رکھنے والا چور فوراً منہ سے بلی کی آواز نکالتا تا کہ اہل خانہ مطمئن ہو کر سوئے رہیں ۔ چور جب کسی گھر میں داخل ہوتے تو انکے تن پر صرف لنگوٹی ہوتی اور جسم پر انہوں نے تیل ملا ہوتا تھا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کس درجہ امن پسند لوگ تھے ۔ وہ یہ چاہتے ہی نہیں تھے کہ اہل خانہ سے ان کا آمنا سامنا ہو اور یوں کسی بدمزگی کا امکان پیدا ہو۔

چنانچہ اس پر امن ماحول میں وہ اپنا کام کرتے، صبح جب گھر والے جاگتے تو ان میں سے کسی کو پتہ چلتا کہ اس کے کوٹ کی جیب میں سے بارہ روپے غائب ہیں۔ ایک گھڑی جو مبلغ نوے روپے میں خریدی گئی تھی وہ نہیں مل رہی صحن کے مٹکے کی ٹونٹی غائب ہے بلکہ اس کے پاس دھری بالٹی اور ڈونگا بھی نظر نہیں آ رہے۔ صاحب خانہ کی دھوتی بھی جو کہیں سوتے میں اُتر گئی تھی موصوف ساتھ لے گئے ہیں۔ ہاں اگر کسی غیر محتاط صاحب خانہ نے زیور یا نقدی سر عام رکھی ہوئی تھی تو یہ اسکی قسمت!

اس دور میں چوروں کی طرح ایک بے ضرر مخلوق اور بھی ہوا کرتی تھی جنہیں جیب کترے کہا جاتا تھا۔ یہ صاحب فن لوگ تھے ۔ اتنی مہارت سے جیب کاٹتے کہ آج کی ایلیٹ کلاس کے جیب تراش جو گزشتہ برس ہا برس سے قوم کی جیب کاٹ رہے ہیں انکے سامنے طفل مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ماڈرن جیب تراشوں کی ہر واردات اور انکے ہر طریق واردات سے قوم واقف ہے۔ بس اپنی کمزوری اور بے بسی کی وجہ سے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ جبکہ ہمارے دور کے عوامی جیب تراش اپنی دو انگلیاں اپنے ہدف کی جیب میں ڈالتے تھے اور جو کچھ اندر ہوتا تھا وہ ایک ماہر سرجن کی طرح باہر نکال لیتے تھے ۔ انہیں بعض اوقات بلیڈ بھی استعمال کرنا پڑتا تھا۔ مجال ہے اس عمل کے دوران ان کے محسن کو کوئی ٹک لگے یا جیب کے علاوہ اس کے ملبوس کا کوئی دوسرا حصہ بلیڈ کی زد میں آ کر خراب ہو۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اتنے نازک آپریشن کے باوجود ان کے ہاتھ کبھی تیس بتیس روپے لگتے اور کبھی بجلی کا بل ہاتھ آتا اور اگر وہ غلطی سے کسی شاعر کی جیب پر ہاتھ ڈال بیٹھتے تھے تو اندر سے چند تصویر بتاں اور چند حسینوں کے خطوط کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوتا تھا۔ اس طبقے کے افراد اخلاقیات کے بھی بہت پابند تھے۔

مجھے یاد ہے جب میری شادی ہوئی اور بارات اپنی منزل مقصود پر پہنچی تو میرے بھانجے نے دیکھا کہ ان کے محلے کا ایک جیب تراش بھی باراتی کے روپ میں مہمانوں کے درمیان موجود ہے۔ میرا بھانجا اس کے پاس گیا اور آہستہ سے اس کے کان میں کہا یار! یہ میرے ماموں کی بارات ہے ۔ اس پر اس نے نہایت ندامت سے سوری کہا اور چپکے سے مہمانوں کے ہجوم میں سے نکل گیا ۔ اب ایسے وضعدار لوگ کہاں ، چنانچہ چور اور جیب تراش اپنے فن کی ناقدری کی وجہ سے ڈاکو بنتے چلے جا رہے ہیں ۔ جبکہ ڈکیتی کے پیشے کی کوئی اخلاقیات ہی نہیں ہے ۔ نہ یہ کوئی فن ہے اور نہ یہ کسی بہادر آدمی کا کام ہے کہ اسلحہ کے زور پر نہتے بچوں عورتوں اور بڑوں کو یر غمال بنا کر گھر لوٹنا شروع کر دے اور اگر کسی یرغمالی پر مزاحمت کا شک بھی گزرے تو اسے گولیوں سے بھون دیا جائے ۔ یہ تو بزدلوں اور بے ہنروں کا رویہ ہے۔

ایک وقت تھا کہ چوروں اور جیب تراشوں کے علاوہ ہمارے معاشرے میں نوسر باز بھی ہوتے تھے۔ یہ عموماً نوٹ دُگنے کرنے کا ڈرامہ رچاتے تھے اور اس چکر میں جو ہاتھ لگتا تھا وہ لیکر رفو چکر ہو جاتے تھے ۔ یہ پیشہ بہت تخلیقی نوعیت کا تھا۔ نوسر باز اتنی ذہانت سے اپنی واردات کا تانا بانا بنتے کہ اچھے خاصے معقول اور پڑھے لکھے لوگ انکی باتوں میں آکر اپنی جیب خالی کرا بیٹھتے تھے ، بعد میں ان نوسر بازوں کی جگہ فنانس کمپنیوں کے ڈائریکٹرز نے لے لی ۔ اگر چہ اب جینوئن ، قسم کے نوسر باز بھی ناقدری زمانہ کی وجہ سے مایوس ہو رہے ہیں۔ تاہم پھر بھی اس نسل کے کچھ دانے ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ ان کے مقابلے میں ڈاکوؤں کے پاس بیچنے کے لیے کیا ہے؟ ان سے پستول چھین لو تو ان کا سارا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ہاں جرائم کا شعبہ بھی زوال کا شکار ہو چکا ہے ۔ اس میں کند ذہن ، بزدل اور سفاک لوگ ڈاکوؤں کی صورت میں داخل ہو گئے ہیں۔ انکی جگہ جیب تراشوں اور نوسر بازوں کو آگے لانے کی ضرورت ہے مگر یہ کام حکومتی سر پرستی کے بغیر ممکن نہیں ۔ چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ ڈاکوؤں کی سرپرستی کی بجائے ان فنکاروں کے سر پر ہاتھ رکھے جن کی نسل نا پید ہوتی جا رہی ہے کہ انکی حفاظت اسی طرح ضروری ہے جس طرح جنگلی حیات کی حفاظت ضروری سمجھی جاتی ہے۔

تازہ ترین