سیّد سخاوت علی جوہر، کورنگی، کراچی
لگ رہا ہے دل میں اک پیوست خنجر ہوگیا
کیا گیا وہ دل کا گلشن پھر سے بنجر ہوگیا
جس کو ہم سمجھتے تھے اپنا مہرباں اس دہر میں
دیکھتے ہی دیکھتے وہ شیشہ پتھر ہوگیا
نیکی کرنا اس جہاں میں کام ہے سب سے بُرا
بچتے بچتے مجھ ہی سے وہ کام اکثر ہوگیا
میرا جو ارمان تھا جاں نذر کردوں اپنی مَیں
میرا وہ ارمان پورا تیرے در پر ہوگیا
لاکھ چاہا دامنِ دل کو بچالوں تجھ سے مَیں
میرے دل پہ پھر بھی قابض تیرا پیکر ہوگیا
میرا رتبہ دیکھ کر ہر شخص ہی حیران ہے
یہ تو پستی کا تھا باسی کیسے برتر ہوگیا
تُونے ہر اِک سے کیا ہے پیار اپنا جان کر
اس سخاوت ہی سخاوت میں تو جوؔہر ہوگیا
٭٭٭
ماہم حیا صفدر، فیصل آباد
ابر کو روکتے ہیں، آب طلب کرتے ہیں
دشتِ سادہ ہیں کہ تالاب طلب کرتے ہیں
مسخرے پن کی بھی حد ہوتی ہے کوئی، یعنی
لوگ دریاؤں سے سیلاب طلب کرتے ہیں
اُن کو ہے اپنے نظاروں کی سجاوٹ سے غرض
کھڑکیوں والے تو مہتاب طلب کرتے ہیں
ہم کہ کر لیتے ہیں سوراخ سفینے میں خُود
ہم کہ خُود بحر میں گرداب طلب کرتے ہیں
ان کو مغموم تنفس میں سُکوں ملتا ہے
اہلِ دل خُود دلِ بےتاب طلب کرتے ہیں
کل تلک سبز نظاروں میں نمایاں تھے میاں
ہم جو اب دیدۂ خوں ناب طلب کرتے ہیں
اس میں اب زرد زمانوں کا دھواں اُڑتا ہے
آپ جس دل سے تب و تاب طلب کرتے ہیں
ہاتھ ملتے ہیں حیاؔ آنکھ کی عریانی پر
ہم جو ہر شب سے نیا خواب طلب کرتے ہیں
ناقابلِ اشاعت نگارشات وران کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ڈائجسٹ‘‘
٭ متاعِ جاں، مددگار (روزینہ خورشید) ٭ خمارِگندم (جاوید جواد حسین، گلشن اقبال ٹاؤن، کراچی) ٭ اعتبار کی قیمت (عبدالرشید سولنگی) ٭ بیٹیاں، کہاں کھوگئی (ثناء توفیق خان، ماڈل کالونی، کراچی) ٭ گم شدہ، بکھرا بچپن، آخری خط، یومِ آزادی، سو لفظوں کی کہانی (صبا احمد، کراچی) ٭ والد کے نام پیغام (شری مُرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور) ٭ تپتے راستے کا میٹھا آم، تلاشنا ہے وطن کو (منیبہ مختار اعوان) ٭ آزمائش (طوبیٰ احسن، لاہور) ٭ فطرت (زاہد حفیظ شیخ، لاہور) ٭ ہری ڈالی کا نوحہ (رانا محمّد شاہد، بورےوالا) ٭ بدرگاہ قاضی الحاجات، اقوال (محمّد صفدرخان ساغر، راہولی، گوجرانوالہ) ٭ شفق کا گواہ (شگفتہ جہاں، لالہ زار، کراچی) ٭جنگل میں آگ، متفرق (قاسم عباس، ٹورنٹو، کینیڈا)۔
ناقابلِ اشاعت کلام اور اُن کے تخلیق کار
نعتِ رسول مقبولؐ (فیصل کانپوری) ٭مَیں کون ہوں؟ (ارم فاطمہ سڈنی، آسٹریلیا) ٭تم سُکوں سے ہو (جمیل ادیب سیّد، کراچی) ٭قطعہ (سید ذوالفقار حسین نقوی، نیو رضویہ سوسائٹی، کراچی) ٭کھانوں کا ٹھیلا، عشق (صبا احمد، کراچی) ٭مٹی کی کہانی (خیرالنساء بلوچ)۔