ابھی کل ہی ہم نے شفیق الرحمن کی تازہ کتاب ’’دجلہ‘‘ ختم کی ہے جس کی ایک کہانی میں انہوں نے جعفر زٹلی کی ایک پیروڈی اس کے حوالے سے استعمال کی ہے۔ یہ پیروڈی الف لیلوی کہانیوں کی ہے۔ یہ پیروڈی ہمیں اس لئے یاد آئی ہے کہ اس کا ’’ہیرو‘‘ بھی ایک بیل ہی ہے۔ ذیل میں یہ پیروڈی آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
ایک باغ میں کچھ لوگ پکنک کیلئے آئے ہوئے ہیں۔ دفعتاً ایک بیل بھاگتا بھاگتا آتا ہے جس کے تعاقب میں ایک بوڑھا لگا ہوا ہے۔ باغیچے کو دیکھ کر تھکا ہوا بوڑھا ایک طرف بیٹھ کر پسینہ پونچھنے لگتا ہے اور بیل اس کے قطع میں گھاس چرنا شروع کر دیتا ہے۔ لوگوں نے بوڑھے سے علیک سلیک کی کوشش کی ، لیکن اس نے منہ پھیر لیا۔ پھر کھانے کی دعوت دی اس پر بھی خاموش رہا۔ آخر انہوں نے پوچھا کہ معاملہ کیا ہے۔ اس نےمنہ بسورتے ہوئے جواب دیا کہ اس کی کہانی اس قدر غمناک ہے کہ خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔
سب نے اصرار کیا تو بوڑھے نے بتایا کہ ایک بادشاہ کے تین بیٹے تھے ۔ تینوں وزیر کی حسین و جمیل لڑکی پر عاشق تھے لیکن لڑکی اتنی رحم دل تھی کہ کسی ایک سے شادی کر کے بقیہ دو شہزادوں کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی۔ چنانچہ وہ تینوں لگا تار شادی کے طلبگار رہے اور لڑکی خاموش رہی۔ اتفاق سے تینوں شہزادے، وجاہت تعلیم ، توانائی ، شہ سواری اور فنون سپہ گری میں ایک دوسرے کے ہمسر تھے ۔ جب انہوں نے کام کاج چھوڑ کر آہ و بکا میں وقت ضائع کرنا شروع کر دیا تو بادشاہ نے وزیر کو بلایا اور حکم دیا کہ اب شادی کا فیصلہ فوراً ہو جانا چاہیے لیکن لڑکی بدستور خاموش رہی ۔ ادھر شہزادوں کی حالت اور خستہ ہوتی گئی ۔ آخر بادشاہ کو طیش آیا اور اس نے وزیر کو خبر دار کیا کہ اگر کل شام تک فیصلہ نہ ہوا تو ایک نیا وزیر اس سے چارج لے لے گا ۔ وزیر شہزادوں کو شہر سے باہر لے گیا۔ ان کا تحریری اور زبانی امتحان لیا۔ تینوں برابر نکلے پھر نیزہ بازی کرائی ، چھلانگیں لگوائیں ، دریا میں تیرایا ، سارے جتن کیے لیکن اگلی سہ پہر تک تینوں کے نمبر یکساں تھے۔ کچھ اور ٹیسٹ بھی لیے مگر معاملہ وہیں کا وہیں ۔ جب سورج ڈوبنے لگا تو وزیر بہت گھبرایا۔ پریشانی میں ادھر ادھر دیکھا تو ایک بچھڑ ا نظر آیا جو گھاس چر رہا تھا ۔ وزیر نے بوکھلا کر نعرہ لگایا ” جو اس بچھڑے کو پکڑ لے ، وہ جیت گیا ۔“
تینوں شہزادے سرپٹ بھاگے ، ادھر بچھڑے نے ڈر کر زقند بھری اور تعاقب شروع ہو گیا ۔ آگے اکیلا کھیت تھا جس میں ایک کا پاؤں پھسلا اور وہ پیچھے رہ گیا۔ پھر جنگل آیا ۔ اس میں بچھڑے نے دونوں شہزادوں کو خوب چکر دیے۔ اونچی اونچی جھاڑیوں میں ایک شہزادہ کسی اور رُخ میں نکل گیا اور اب ایک شہزادہ رہ گیا جو پوری مستعدی سے تعاقب کر رہا تھا۔ ادھر بچھڑا تھا کہ قریب نہ آنے دیتا تھا ۔ وہ دن اور آج کا دن ... مدتیں گزر چکی ہیں ۔ وہ بچھڑا پورا بیل بن چکا ہے اور آپ کے سامنے گھاس چر رہا ہے۔ میری بھی عمر بڑھتی جا رہی ہے لیکن تعاقب جاری ہے۔“
سب نے دیکھا کہ بیل گھاس چرنے کے بعد تازہ دم ہو کر بھاگنے کی تیاری کر رہا تھا ! اچھا تو خدا حافظ بوڑھے نے نعرہ لگایا اور بیل کے پیچھے ہولیا۔
یہ حکایت پڑھ کر ہمارا دھیان فوری طور پر اس طرف گیا کہ گزشتہ تینتیس برس سے جو لوگ بھی ایک خوبرو پر عاشق ہیں اور یہ خوابوں کی وہ منزل ہے جس تک وہ پہنچنا چاہتے تھے خدا جانے ان تینتیس برسوں میں کتنے شہزادے اس شہزادی کا خواب دیکھتے دیکھتے مرکھپ گئے یا رستوں میں بھٹک گئے ہیں، لیکن اس سے کہیں زیادہ ٹریجڈی یہ ہے کہ ان کی منزل شہزادی تھی ، مگر ان کی عمریں ہر موسم میں ایک بیل کا تعاقب کرتے گزر گئیں !!