• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

واشنگٹن: پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن کا UNGA 81 کی کوریج کرنے والے پاکستانی صحافیوں کے اعزاز میں استقبالیہ

 امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن (PAPA) کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کی کوریج کے لیے پاکستان سے امریکا آنے والے سینئر صحافیوں کے اعزاز میں استقبالیہ اور عشایئے کا اہتمام کیا گیا، جس میں پاکستان اور امریکہ میں مقیم صحافیوں، میڈیا نمائندوں اور پاکستانی کمیونٹی کی شخصیات نے شرکت کی۔ 

تقریب میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کارروائی، عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی و سلامتی کی صورتحال، پاکستان کے مؤقف اور صحافت کو درپیش نئے چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اقوامِ متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب دنیا متعدد جنگوں، انسانی بحرانوں، بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، موسمیاتی خطرات، عالمی اداروں پر اعتماد کے بحران اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا سامنا کررہی ہے۔ 

اسی پس منظر میں اس سال جنرل اسمبلی کا موضوع ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایک ایسا اقوامِ متحدہ جو سب کے لیے مؤثر ہو‘‘ رکھا گیا۔  اقوام متحدہ کے مطابق امن و سلامتی، پائیدار ترقی، انسانی حقوق، موسمیاتی تبدیلی، AI اور عالمی اداروں میں اصلاحات 81ویں سیشن کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سمیت دنیا بھر سے آنے والے سربراہانِ مملکت و حکومت اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ تقریب کے شرکاء نے کہا کہ اس مرتبہ کی جنرل اسمبلی کی کوریج محض عالمی رہنماؤں کی تقاریر تک محدود نہیں رہی بلکہ غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران اور اسرائیل سے متعلق کشیدگی، یوکرین سمیت مختلف تنازعات اور عالمی نظام میں آنے والی تبدیلیاں بھی بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے خطاب میں ایران، یوکرین، عالمی اداروں اور مصنوعی ذہانت سمیت متعدد معاملات پر امریکی پالیسی بیان کی۔

پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن کے صدر خرم شہزاد اور جنرل سیکریٹری یوسف چوہدری نے پاکستان سے آنے والے صحافیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات کا مقصد پاکستان اور امریکا میں کام کرنے والے صحافیوں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانا اور پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

تقریب میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ سمیت، انور اقبال ، متین حیدر، کامران راجہ، نیئر علی، شاکر عباسی، راجہ زاہد اختر خانزادہ، شبیر علی، ذوالقرنین، بتول راجپوت، نضیرہ عاظم اور انس سمیت دیگر صحافی شریک ہوئے۔ پاکستان سے آنے والے صحافیوں نے جنرل اسمبلی کے مختلف اجلاسوں اور عالمی رہنماؤں کی سرگرمیوں کی کوریج کے دوران اپنے مشاہدات اور تجربات بھی شرکاء کے ساتھ شیئر کیے۔

گفتگو کے دوران اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ موجودہ دور میں صحافت صرف روایتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل میڈیا اور بالخصوص مصنوعی ذہانت تیزی سے نیوز روم اور صحافتی طریقۂ کار کو تبدیل کررہی ہے۔ 

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ AI صحافیوں کے لیے نئے امکانات پیدا کررہی ہے، تاہم اس کے ساتھ خبر کی صداقت، تحقیق، انسانی ادارتی نگرانی، غلط معلومات اور صحافتی اخلاقیات جیسے چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں۔

اس موقع پر ریپبلکن رہنما مسلم آف امریکا کے سربراہ اور پاکستانی امریکن کمیونٹی کی معروف شخصیت ساجد تارڑ نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔ انہوں نے امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی اور میڈیا کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں صحافیوں کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق مفت تربیتی ورکشاپس کے انعقاد کا اعلان کیا تاکہ پاکستانی صحافی جدید ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے میڈیا ماحول سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہوسکیں۔

تقریب کے دوران مسلم آف امریکا کی جانب سے صحافیوں کی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں تعریفی اسناد بھی پیش کی گئیں، جو ساجد تارڑ نے صحافیوں کو دیں۔

مقررین نے پاکستان اور امریکا کے درمیان عوامی اور پیشہ ورانہ روابط کو فروغ دینے میں بیرونِ ملک پاکستانی صحافیوں اور کمیونٹی تنظیموں کے کردار پر بھی گفتگو کی۔ 

شرکاء کا کہنا تھا کہ امریکہ میں موجود پاکستانی میڈیا نہ صرف پاکستانی کمیونٹی کو اپنے وطن سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ پاکستان سے متعلق معاملات اور پاکستانی نقطۂ نظر کو امریکی معاشرے اور پالیسی حلقوں تک پہنچانے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

تقریب میں موجود صحافیوں نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے عالمی سیاسی ماحول میں صحافی کی بنیادی ذمہ داری خبر کو تصدیق، توازن اور پیشہ ورانہ دیانت کے ساتھ عوام تک پہنچانا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے دور میں جہاں معلومات کی رفتار غیرمعمولی حد تک بڑھ گئی ہے، وہیں درست اور غلط معلومات میں فرق کرنے کی صحافتی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئی ہے۔

تقریب کے اختتام پر پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن کی جانب سے پاکستان سے آئے ہوئے صحافیوں کا شکریہ ادا کیا گیا، جبکہ شرکاء نے پاکستان اور امریکہ کے صحافیوں کے درمیان پیشہ ورانہ روابط، تربیتی پروگراموں اور تجربات کے تبادلے کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔

اقوامِ متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کے دوران تقریباً 130 سربراہانِ مملکت و حکومت کی شرکت متوقع تھی، جبکہ عالمی امن و سلامتی، غزہ، مشرقِ وسطیٰ، موسمیاتی تبدیلی، ترقی اور مصنوعی ذہانت سمیت متعدد عالمی مسائل اعلیٰ سطحی ہفتے کے ایجنڈے کا حصہ رہے۔ 

واشنگٹن میں پاکستانی صحافیوں کے اعزاز میں ہونے والی یہ تقریب اسی عالمی کوریج کے دوران پاکستان اور امریکا میں کام کرنے والے میڈیا نمائندوں کے درمیان رابطے اور تجربات کے تبادلے کا ایک موقع بنی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید