سفارتکاری اگر محض کاغذوں، معاہدوں اور رسمی مصافحوں کا نام ہوتی تو شاید سفارتکاروں کی رخصتی فقط ایک دفتری نوٹیفکیشن تک محدود رہتی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ حقیقی سفارتکاری دراصل دلوں کو جوڑنے، اعتماد کےبندھن استوار کرنے اور قوموں کے درمیان محبت کے پُل تعمیر کرنے کا ہنر ہے۔ کچھ سفارتکار اپنی میعاد مکمل کر کے خاموشی سے لوٹ جاتے ہیں، لیکن کچھ اپنی فرض شناسی، شفقت اور حسنِ اخلاق کے ایسے اَنمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جنہیں وقت کی گرد کبھی دھندلا نہیں سکتی۔ انقرہ سے سفیرِ پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید کی وطن واپسی بھی محض ایک سفارتی تقرری کا اختتام نہیں، بلکہ پاک ترک اخوت کی تاریخ میں ایک درخشاں اور یادگار دور کی باوقار تکمیل ہے۔ڈاکٹر یوسف جنید کا ترکیہ کے ساتھ تعلق کسی مختصر یا رسمی قیام کا مرہونِ منت نہیں۔ وہ تقریباً چار برس انقرہ میں پاکستان کے سفیر رہنے سے قبل، قریباً ایک دہائی تک استنبول میں پاکستان کے قونصل جنرل رہے۔ کسی بھی سفارت کارکیلئے کسی برادر ملک میں ڈیڑھ دہائی کے قریب وقت گزارنا ایک غیر معمولی اعزاز ہے۔ اس عرصے نے انہیں ترکیہ کے سیاسی، سرکاری، کاروباری اور میڈیا حلقوں میں گہرے روابط قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہی تجربہ انقرہ میں انکے سفارتی کردار کیلئے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوا۔استنبول کے تاریخی کوچوں سے لے کر انقرہ کے ایوانِ اقتدار تک، انہوں نے ترکیہ کو صرف ایک میزبان ملک کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے اپنا دوسرا گھر جانا۔اس طویل اور پُرخلوص قیام نے انہیں ترک معاشرت، سیاست، تجارت، ابلاغ اور عوامی مزاج کو گہرائی سے سمجھنے کا وہ نایاب ادراک عطا کیا جو کم ہی کسی سفیر کو نصیب ہوتا ہے۔ استنبول میں بننے والے گہرے روابط انقرہ میں سفارتکاری کی مضبوط بنیاد بنے، جہاں انہوں نے دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کو رسمی نوعیت سے نکال کر ایک جذباتی اور تزویراتی بندھن میں بدل دیا۔کسی سفیر کی کامرانی کا پیمانہ صرف مشترکہ اعلانات یا فائلوں کے انبار نہیں ہوتے، بلکہ اس کا اصل جوہر باہمی اعتماد اور انسانی قدروں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب کوئی سفیر میزبان ملک کے بااثر ترین حلقوں میں اپنا ایسا احترام قائم کر لے کہ تعلقات پروٹوکول کی زنجیروں سے آزاد ہو کر اخلاص میں ڈھل جائے، تو وہ اپنے ملک کیلئے مستقل اثاثہ بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر یوسف جنید نے ترکیہ میں اسی باوقار طرزِ سفارت کو شعار بنایا۔
ان کے دور میں سفارتخانہ پاکستان، انقرہ میں منعقد ہونیوالے قومی تہواروں (23 مارچ ،14 اگست اور مینگو فسیٹویل وغیرہ ) کی تقریبات محض روایتی سفارتی اجتماعات نہیں رہیں بلکہ پاک ترک یگانگت کا شاندار مظہر بن گئیں۔ ترک نائب صدر جودت یلماز، کابینہ کے ارکان،اعلیٰ بھرپور عسکری قیادت، ارکانِ پارلیمان اور ممتاز شخصیات کی ان تقریبات میں پُرجوش اور مسلسل شرکت محض پروٹوکول کا حصہ نہ تھی، بلکہ یہ ڈاکٹر یوسف جنید کے ذاتی وقار، اخلاص اور پرکشش شخصیت کا اعتراف تھی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سفارتکاری میں باوقار خاموشی اور مخلصانہ روابط لفظوں کی کثرت سے کہیں زیادہ وزنی ہوتے ہیں۔پاکستان اور ترکیہ کے مابین محبت اور یکجہتی کا رشتہ صدیوںسے استوار ہے۔ تحریکِ خلافت سے لیکر ہر عالمی و علاقائی آزمائش تک، دونوں قوموں کے دل ہمیشہ ایکساتھ دھڑکے ہیں۔ تاہم ہر نئے سفیر کا امتحان یہ ہوتا ہے کہ وہ بدلتے عالمی منظرنامے اور جیو پولیٹیکل چیلنجز کے درمیان اس رشتے کو نئے تقاضوں سے کیسے ہم آہنگ کرتا ہے۔ڈاکٹر یوسف جنید نے اس چیلنج کو بخوبی نبھایا۔ انہوں نے سیاسی اور دفاعی تعاون سے لیکر اقتصادی و تجارتی شعبوں تک، ہر سطح پر دونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ سفارتکاری کو وزارتِ خارجہ کی راہداریوں سے آگے بڑھا کر ترک تھنک ٹینکس، یونیورسٹیز، میڈیا اور کاروباری برادری تک وسعت دی۔ایک باکمال سفیر جہاں میزبان ملک کے سامنے اپنے وطن کا باوقار چہرہ ہوتا ہے، وہیں پردیس میں بسنے والے اپنے شہریوں کیلئے ایک شفیق سائبان بھی ہوتا ہے۔ ترکیہ میں مقیم پاکستانی برادری، چاہے وہ روزگار کے سلسلے میں مقیم محنت کش ہوں، تاجر ہوں یا تعلیمی سفر پر گامزن طلبا، ہر ایک کیلئے سفارتخانے کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے۔ ڈاکٹر یوسف جنید نے ترکیہ میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ روابط کو بھی اپنی سفارتی ذمہ داریوں کا حصہ بنایا۔ اس طرح ان کی سفارتکاری کے دو اہم پہلو سامنے آتے ہیں: ایک طرف ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے ریاستی اور ادارہ جاتی تعلقات، اور دوسری طرف ترکیہ میں موجود پاکستانیوں کے ساتھ مضبوط رابطہ۔
سفارتی زندگی کا یہ بے رحم اصول ہے کہ ہر آغاز کا ایک انجام ہوتا ہے مدت ختم ہوتی ہے، چہرے بدلتے ہیں، فائلیں نئے ہاتھوں میں جاتی ہیں اور گاڑیوں کے پرچم تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مگر کچھ الوداع ایسے ہوتے ہیں جو دلوں پر اداسی کا گہرا عکس چھوڑ جاتے ہیں۔اب جبکہ ڈاکٹر یوسف جنید انقرہ سے رخصت ہو رہے ہیں، تو ان کے سینے میں نصف دہائی سے زائد کی رفاقت، دوستی کے ان گنت لمحے اور اناطولیہ کی وہ خوشبو ہمراہ ہے جو انکی سفارتی حیات کا خوبصورت ترین باب رہی۔ وہ ایک ایسے ملک کو الوداع کہہ رہے ہیں جہاں انہوں نے صرف سفارتکاری نہیں کی بلکہ پاکستان کی محبت کے گہرے بیج بوئے۔عہدہ ختم ہو جاتا ہے، لیکن احترام اور محبت پر کھڑی کی گئی عمارت کبھی نہیں گرتی۔ میزبان ملک میں سفیر کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ جب وہ رخصت ہو تو میزبان اسکی خدمات پر فخر محسوس کریں اور اسکے اپنے ہم وطن آنکھوں میں تشکر اور محبت کے موتی لیے اسے الوداع کہیں۔ انقرہ سے انکی رخصتی یقیناً ایک معمول کی سفارتی تبدیلی ہے، لیکن اس میں ایک جذباتی پہلو بھی ہے۔ وہ ایک ایسے ملک سے واپس جا رہے ہیں جہاں انہوں نے اپنی سفارتی زندگی کا ایک طویل حصہ گزارا، جہاں دوست بنائے، تعلقات قائم کیے اور پاکستان کیلئے محبت کے کئی نئے دروازے کھولے۔ الوداع، سفیرِ محترم ڈاکٹر یوسف جنید!آپ کی سفارتی مدت مکمل ہو سکتی ہے، لیکن پاک ترک برادرانہ تعلقات کی تاریخ میں خلوص، وقار اور بے لوث خدمت سے رقم کیا گیا آپ کا باب ہمیشہ زندہ اور تابندہ رہے گا۔