برٹش پاکستانی کنسلٹنٹ گائناکولوجسٹ اور روبوٹک سرجن ڈاکٹر عامر رضا نے برطانیہ میں سنگل پورٹ روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری متعارف کرا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
نشتَر میڈیکل کالج، ملتان سے فارغ التحصیل ڈاکٹر عامر رضا اور لندن کے کرام ویل اسپتال میں ان کی ٹیم نے سنگل پورٹ روبوٹک سرجری کو نسبتاً سادہ نوعیت کے غیر سرطانی گائناکولوجیکل آپریشنز سے آگے بڑھا کر اینڈومیٹریوسس کے انتہائی پیچیدہ آپریشنز تک پہنچا دیا ہے، اس طرح یہ پروگرام جدید روبوٹک سرجری، تربیت اور سرجیکل مشاہدے کے ایک اہم بین الاقوامی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔
روایتی ملٹی پورٹ روبوٹک سرجری کے برعکس جس میں عام طور پر پیٹ پر کئی چیرے لگانے پڑتے ہیں، سنگل پورٹ روبوٹک سرجری میں کیمرہ اور متعدد روبوٹک آلات پیٹ میں بنائے گئے صرف ایک راستے سے داخل ہو کر کام کرتے ہیں۔
ڈاکٹر عامر رضا کو برطانوی میڈیا میں انہیں سنگل پورٹ روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے پر سراہا جارہا ہے، وہ آپریشن تھیٹر جہاں ڈاکٹر رضا اور ان کی ٹیم سنگل پورٹ روبوٹک طریقے سے پیچیدہ آپریشنز انجام دیتی ہے، اب بین الاقوامی تربیت اور سرجیکل مشاہدے کا مرکز بھی بن چکا ہے، یہاں برطانیہ اور یورپ کے علاوہ امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک سے بھی سرجن آتے ہیں۔
ڈاکٹر عامر رضا کا جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہنا تھا کہ برطانیہ اور بیرونِ ملک سے 100 سے زائد سرجن ہمارے مرکز کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ سنگل پورٹ روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری کے بارے میں سیکھ سکیں، سرجن اور کنسلٹنٹس لندن آتے ہیں، ہمیں پیچیدہ سنگل پورٹ روبوٹک آپریشنز کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں۔
ڈاکٹر رضا نے ایک اور اہم اعزاز بھی حاصل کیا ہے، وہ برطانیہ میں روبوٹک سرجری اور جدید اینڈومیٹریوسس کیئر کے پہلے ماسٹر سرجن بن گئے ہیں، انہیں روبوٹک سرجری اور پیچیدہ اینڈومیٹریوسس کے علاج میں ان کے نمایاں کام کے اعتراف میں دو باوقار ماسٹر سرجن ایکریڈیٹیشنز دی گئی ہیں، اس کے ساتھ وہ یورپ کے واحد کنسلٹنٹ بن گئے ہیں جن کے پاس اس نوعیت کی دو ماسٹر سرجن ایکریڈیٹیشنز ہیں۔
ڈاکٹر رضا نے اینڈومیٹریوسس کے علاج کے لیے جدید ڈا ونچی روبوٹک سرجری کی قیادت کرتے ہوئے ایک اور ریکارڈ قائم کیا تھا، اینڈومیٹریوسس ایک ایسی بیماری ہے جو خواتین کی صحت اور زرخیزی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
اس وقت ڈاکٹر رضا نے سرجنوں کی ایک ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے لندن کے چیلسی اینڈ ویسٹ منسٹر اسپتال میں صرف دو دن کے دوران پیچیدہ گائناکولوجیکل آپریشنز کی زیادہ سے زیادہ تعداد انجام دی تھی، اس دوران نہ صرف جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا بلکہ ایک ہی دن میں 12 بڑے آپریشنز بھی کیے گئے۔
ڈاکٹر رضا نے جیو نیوز کو بتایا کہ اینڈومیٹریوسس ایک ایسی بیماری ہے جس میں خواتین کو پیٹ میں اور ماہواری کے دوران درد کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ اس کا زرخیزی اور معیارِ زندگی پر بھی گہرا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ بیماری صرف پیلوک کے اعضا تک محدود نہیں رہتی بلکہ آنتوں، مثانے، پیشاب کی نالی، اعصاب اور بعض پیچیدہ کیسز میں ڈایافرام کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ یہ بیماری کم عمری سے ہی خواتین کو متاثر کر سکتی ہے اور دنیا بھر میں کروڑوں خواتین اس کا شکار ہیں، ڈاکٹر رضا نے کہا کہ ہمارا کام اینڈومیٹریوسس کی انتہائی مشکل اقسام کا علاج بھی شامل کرتا ہے، جن میں آنتوں، پیشاب کی نالی اور ڈایافرام کو متاثر کرنے والی پیچیدہ بیماری کے ساتھ ساتھ روبوٹک ہسٹریکٹومی، مائیومیکٹومی اور دیگر جدید گائناکولوجیکل طریقۂ کار شامل ہیں۔
پاکستان میں ابتدائی طبی تربیت حاصل کرنے والے ڈاکٹر عامر رضا گزشتہ 25 سال سے زائد عرصے سے برطانیہ میں کام کر رہے ہیں اور جدید اینڈومیٹریوسس کے علاج، کم سے کم چیرا لگانے والی سرجری اور روبوٹک سرجری کے شعبوں میں بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔
اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا بیشتر حصہ برطانیہ میں گزارنے کے باوجود ڈاکٹر رضا پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلق برقرار رکھے ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ روبوٹک سرجری، مصنوعی ذہانت، سرجیکل تعلیم اور جدید خواتین کی صحت کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو انفرادی اسپتالوں یا ممالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے بین الاقوامی سطح پر شیئر کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میں مریضوں اور نئے ڈاکٹروں کی مدد کے لیے باقاعدگی سے پاکستان جاتا ہوں پاکستان نے مجھے تعلیم، شناخت اور وہ وسائل فراہم کیے جن کی مدد سے میں برطانیہ کے صحت کے نظام میں اپنا کردار ادا کر سکا، میں پاکستان میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسی ٹیکنالوجی اور طریقۂ کار کو پاکستان منتقل کرنے کے لیے کام کروں گا، جہاں جدید طبی سہولیات کی شدید ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اسے اپنا مشن بنایا ہے کہ سرجنوں کی اگلی نسل کو تربیت دوں، اینڈومیٹریوسس اور خواتین کی صحت سے متعلق دیگر نظر انداز کیے جانے والے مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کروں، اور پاکستان، برطانیہ اور بین الاقوامی سطح پر طبی ماہرین کے درمیان تعاون کو مضبوط بناؤں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عامر رضا کی قیادت میں روبوٹک سرجری کا پروگرام اب کامیابی سے 400 سے زائد آپریشنز مکمل کر چکا ہے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے یہ پروگرام برطانیہ میں خواتین کے امراضِ نسواں کے طبی علاج کے طریقۂ کار کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔