• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شروع شروع میں تو ہمیں گمان گزرا کہ شاید ہمارا حلقہء احباب ہی قنوطیت کا مارا ہوا ہے، سو ہم نے اس سے باہر نکل کر بھی آزمایا مگر کوئی امید افزا بات ہی نہیں کرتا، درجنوں لوگوںسےگفتگو ہوتی ہے، ہر سماجی سطح کے افراد ملتے ہیں، ہر معاشی حیثیت کے لوگوں سے مکالمہ ہوتا ہے، ہر سیاسی جماعت سے وابستہ احباب کو کریدتے ہیں، اس امید پر کہ آنیوالے کل کے بارے کوئی خوش گمانی کی کرن کسی درز سے پھوٹتی دکھائی دے، سیاہ آسمان پر کہیں دھندلا سا کوئی ستارہ ٹمٹماتا نظر آ جائے، کہیں کوئی جگنو جھلملا جائے، مگر کوئی روشن بات سننے کی حسرت ہی رہ گئی۔ "گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا...یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا۔"

دودھ اور شہد کی نہریں تو یہاں کبھی بھی نہیں بہتی رہیں لیکن لوگوں میں بہتر دنوں کی ایک آس سی ہوا کرتی تھی، وہ آس ٹوٹتی جا رہی ہے۔ یہ آشوب ناک صورت ہے، یہ آخری مرحلہ ہوا کرتا ہے، مرگِ امید کے بعد تو راکھ کا ڈھیر ہی رہ جاتا ہے۔

بہتر مستقبل کی امید حال کے ستم جھیلنے کی قوت فراہم کرتی ہے، یہ آسرا بھی چِھن جائے تو کچھ بھی نہیں بچتا۔ ایک صاحب نے اس بڑھتی ہوئی تیرگی کے اسباب کی نسبت سے دل چسپ تبصرہ کیا، فرمانے لگے، جب پچھلے سال مئی میں ہم نے بھارت کو چار روزہ جنگ میں دھول چٹائی تو عوام کی شادمانی دیدنی تھی، پاک-بھارت جنگوں کی طویل تاریخ میں یہ ہماری پہلی واضح کامیابی تھی جسے عالمی سطح پر دوست دشمن نے تسلیم کیا، لوگوں کو نفسیاتی سطح پر یوں لگا کہ پاکستان ایک نئے سفر پر روانہ ہو رہا ہے، دلدر دور ہونے لگے ہیں، اس کامیابی کے ثمرات اب یقیناً کسی نہ کسی شکل میں "فاتح" عوام تک بھی پہنچیں گے۔ جوں جوں دن گزرتے گئے، فتح کا نشہ اترتا گیا، تلخ حقیقتیں اپنی جگہ منجمد رہیں، بلکہ اور بھی بھیانک صورت اختیار کر گئیں۔

ہم لوگوں سے پوچھتے ہیں تو وہ ہم سے جوابی سوال کرتے ہیں کہ آپ فرمائیں ہم کس شعبے سے بہتری کی امید لگائیں؟ ہمارا تعلیمی نظام تباہ حال ہے، سب جانتے ہیں۔ تعلیم جو کسی بھی قوم کے مستقبل کی کنجی ہوا کرتی ہے، اس کیلئے ہمارے اصحابِ حکم نے کیا منصوبہ بنا رکھا ہے جس سے ہم اپنے کل کے بارے رجائیت پسندی کا مظاہرہ کر سکیں؟سرکاری سکولوں کالجوں کو اگلے دس سال، بیس سال میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کے قابل بنانے کا کون سا منصوبہ اس وقت نافذ ہے، یا زیرِ غور ہی ہے۔ تعلیم کا شعبہ نجی کاروباری اداروں کے سپرد کیا جا چکا ہے اور ان مہنگے تعلیمی اداروں تک کم از کم اسّی فی صد عوام کی رسائی ہی ممکن نہیں۔ اس تعلیمی صورتحال سے کیا امید باندھی جا سکتی ہے؟

یعنی غریب کے پاس یہ امید بھی باقی نہیں رہی کہ اس کی اگلی نسلوں کے حالات بدل سکتے ہیں۔ اربابِ حکم ہمارے تعلیمی نصاب اور امتحانی نظام کی بہتری بارے کوئی ایسا منصوبہ بنا رہے ہیں کہ ہم کم از کم اپنے بچوں کو اپنا نصاب پڑھا سکیں، خود امتحان لیں سکیں، اور ہماری ڈگریاں عالمی سطح پر مستند تسلیم کی جائیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو امید کس سہارے زندہ رہے؟ چلیے تعلیم تو ہمارے ہاں "تعیش" میں شامل ہوتی جا رہی ہے، تارِ نفس برقرار رکھنے کی بات کرتے ہیں۔ زندہ رہنے کی شرائط بھی سخت تر ہوتی جاتی ہیں۔ مہنگائی کم ہونے یا عام آدمی کی آمدن بڑھنے کی امید کس بنا پر قائم کی جائے۔ بجلی کے نظام سے کیا امید لگائی جائے؟ حکومتیں کپے سٹی چارجز کے نام پر عوام کی زندگی تیرہ و تاریک کرنے پر مصر ہیں۔ آج تک ہماری نظر سے کوئی ایسا منصوبہ نہیں گزرا جس کا اختتام ان چارجز سے نجات پر ہو گا۔ اور اگر یہ پیسے عوام کی جیب سے تا ابد نکالنے کا منصوبہ ہے تو اس میں "امید" کی کرن کیسے تلاش کی جائے؟ خلیج میں جنگ جاری رہے یا بند ہو، پٹرول کے ایک لٹر پر عوام کو لیوی کے نام پر136 روپے کی تُھوک لگتی رہے گی۔ کیا یہ امید افزا صورتِ احوال ہے؟ ہم نے آج سے پہلے کسی دور میں عوام کو بجلی اور پٹرول کے شکنجے میں یوں کسا ہوا نہیں دیکھا۔ "گلیوں میں پھرا کرتے تھے دو چار دوانے...ہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا۔"

ہمارے ایک دوست ہیں رضوان اشرف صاحب، مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں، کل ان سے ملاقات ہوئی تو انتہائی تشویش ناک لہجے میں استفسار کرنے لگے کہ "کیا بنے گا؟" ہم سمجھے کے مین سٹریم میڈیاسے اشتہارات ڈجیٹل میڈیا کی طرف منتقل ہو جانے سے سکڑتی ہوئی آمدن سے پریشان ہیں۔ پھر انہوں نے وضاحت کی کہ بلوچستان اور پختونخوا میں امن و امان کا مسئلہ کیسے حل ہو گا؟ کیا موجودہ پالیسی سے بہتری پیدا ہوئی ہے، یا آگے امید لگائی جا سکتی ہے؟ ان کا اصرار تھا کہ ان صوبوں میں امن وامان مزید بگڑ رہا ہے۔ ہمیں حوصلہ نہیں ہوا کہ ہم ان سے کوئی "مثبت" بات کرنے کی فرمائش کرتے۔ یہاں تک کالم لکھا تھا کہ ایک دردِ دل رکھنے والے صحافی حافظ عمران صاحب کا وائس میسج موصول ہوا۔ کہہ رہے ہیں کہ پنشنرز کا بجٹ بڑھتے بڑھتے 1100 ارب روپے سے بھی بڑھ گیا ہے، ہم کب تک ریت میں سر دیے رہیں گے، اس خوف ناک مسئلے کو حل کرنے کا کوئی حکومتی منصوبہ کبھی سننے میں نہیں آیا۔ اس میسج کا کوئی مثبت جواب نہیں سوجھ رہا۔

چین تو عجوبہ ہے، روانڈا اور ایتھی اوپیا سے ویت نام اور برازیل تک کتنی ہی مثالیں ہیں جہاں قوموں نے منزل کا تعین کیا، راستہ چنا اور چل پڑے۔ سفر سے امید زندہ رہتی ہے، اگر سفر آغاز ہی نہ ہو تو امید کیسی؟

تازہ ترین