پاکستان کے سفیر عدیل ممتاز کھوکھر نے کہا ہے کہ حقائق کا سامنا کرنے پر بھارت جواب دینے کے بجائے موضوع بدل دیتا ہے اور امید کرتا ہے کہ اصل سوالات غائب ہو جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہو گا۔
جنیوا میں عدیل ممتاز کھوکھر نے خطاب کے دوران کہا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ کبھی رہا ہے، بلکہ یہ ایک متنازع علاقہ ہے جسے سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بھی تسلیم کیا گیا ہے، بھارت کے بار بار انکار اور یک طرفہ اقدامات اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آزاد اور غیر جانب دار استصوابِ رائے سے متعلق بھارت بہانے پیش کرتا ہے، اگست 2019ء سے بھارت نے غیر قانونی اقدامات کا ایک سلسلہ متعارف کروایا، بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں قوانین میں تبدیلیاں اور من پسند حلقہ بندیاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں ڈومیسائل غیر کشمیریوں کو جاری کیے گئے ہیں، کشمیریوں کی شناخت بدل کر مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جا سکتا۔
عدیل ممتاز کھوکھر نے کہا کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے ریاستی سرپرستی میں تباہ کیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے کتنے مسلمان اراکینِ پارلیمان منتخب ہوئے؟ صفر۔