• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کشمیری وفد کا جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ، مسئلہ کشمیر کے فوری حل پر زور

---جنگ فوٹو
---جنگ فوٹو 

‎جنیوا میں موجود کشمیری وفد نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کشمیر تنازع کے فوری حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔

‎‎اس احتجاجی مظاہرے میں یورپ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں مقیم کشمیری اور پاکستانی تارکینِ وطن نے شرکت اور خطاب کیا۔

‎‎مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد بھارتی حکومت نے PSA اور UAPA جیسے سخت قوانین کو زیادہ شدت اور تسلسل کے ساتھ استعمال کیا تاکہ خطے میں ہر قسم کی اختلافی آواز کو دبایا جا سکے۔

‎اِن کا کہنا تھا کہ ان قوانین کے ذریعے ناصرف سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی بڑی تعداد کو حراست میں لیا گیا بلکہ پی ایس اے کے تحت قیدیوں کو دور دراز علاقوں کی جیلوں میں منتقل کرنے کا راستہ بھی ہموار کیا گیا جہاں انہیں اپنے خاندانوں تک رسائی بھی حاصل نہیں۔

‎‎اُنہوں نے مزید کہا کہ ’اس طرح کے اقدامات نے خطے کی اکثریتی آبادی میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے، جو بی جے پی کی سخت گیر حکمرانی کے تحت خود کو مسلسل اجنبی، بے اختیار، غیر محفوظ اور حاشیے پر محسوس کر رہی ہے۔‘

‎‎مقررین نے کہا کہ ’2019ء میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے، خصوصاً پہلگام حملے کے بعد جسے بھارتی حکومت نے کشمیریوں، بالخصوص نوجوانوں کے خلاف اجتماعی سزا کے جواز کے طور پر استعمال کیا۔‘

‎‎اُنہوں نے نشاندہی کی کہ پہلگام واقعے کے بعد ہزاروں شہریوں جن میں زیادہ تر نوجوان لڑکے شامل ہیں کو احتیاطی حراست میں لیا گیا اور وہ اب بھی دور دراز جیلوں میں قید ہیں جہاں انہیں اپنے خاندانوں تک بہت کم یا بالکل رسائی حاصل نہیں۔

‎‎انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو بھی بھارت کے جارحانہ رویے اور عام کشمیریوں کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھانے پر مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 

ان کے مطابق من مانی گرفتاریاں جاری ہیں، عوامی اجتماعات پر پابندی برقرار ہے، اور ہزاروں افراد جن میں کم عمر افراد اور سیکڑوں سیاسی رہنما بھی شامل ہیں اب بھی احتیاطی حراست میں ہیں۔

‎‎مقررین کا کہنا تھا کہ خطے میں نافذ کالے قوانین کو کشمیری آبادی کے خلاف غلط طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

‎‎انہوں نے کشمیری رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی مسلسل اور غیر قانونی حراست پر بھی شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان کی طویل قید دراصل نوآبادیاتی دور کا ایک ہتھکنڈا ہے جس کا مقصد سیاسی اختلاف کو دبانا اور کشمیری تحریک کو قیادت سے محروم کرنا ہے۔

‎مقررین نے بھارتی حکومت کو اس کے خفیہ منصوبوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جن کا مقصد خطے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا اور مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔ 

اَن کا کہنا تھا کہ کشمیر میں باہر سے لوگوں کو غیر قانونی طور پر آباد کرکے آبادی کا توازن تبدیل کرنے کا منصوبہ اسی بڑی سازش کا حصہ ہے۔

‎اُنہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی جانب سے غیر ریاستی باشندوں کو شہریت دینا، وادی میں سَینک کالونیوں کی تعمیر اور کشمیری پنڈتوں کے لیے علیحدہ ٹاؤن شپ قائم کرنے کی کوششیں کشمیریوں کی شناخت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

‎مقررین نے ان اقدامات کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور فوری اقدامات کے ذریعے کشمیری عوام کی شناخت کے تحفظ، ان کی سیاسی آزادیوں کی حفاظت اور حقِ خودارادیت کے اصول کو یقینی بنائے۔

‎اُنہوں نے اس دیرینہ تنازع کو جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری خصوصاً اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ 2019ء کے بعد متعارف کرائی گئی آئینی تبدیلیوں کو واپس لے، قابض افواج کو دی گئی وسیع استثنیٰ فراہم کرنے والے تمام کالے قوانین ختم کرے اور 5 اگست 2019ء سے پہلے اور بعد میں گرفتار کیے گئے تمام سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کرے، جن میں مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان اور آسیہ اندرابی سمیت دیگر شامل ہیں۔

‎‎اُنہوں نے طاقتور عالمی حکومتوں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ مداخلت کریں اور بھارت، پاکستان اور کشمیری عوام کے نمائندوں کے درمیان بامعنی مذاکرات کی حوصلہ افزائی کر کے دیرپا حل تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ خطے میں امن اور استحکام قائم ہو سکے۔

‎اُنہوں نے تنازع کشمیر کو خطے میں مسلسل خونریزی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیادی وجہ اور نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا دارومدار مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر نا ممکن ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید