امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینا پڑے گا، پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کی بات ہونی چاہیے۔
منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ بڑے بڑے جاگیردار ٹیکس نہیں دیتے، اس لیے حکومت اضافی پیسے جمع کرتی ہے، آئی ایم ایف کا وفد بھی پاکستان آیا ہوا ہے اور بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے ہوئے ہیں، حکومت یقین دہانی کرا رہی ہے کہ پالیسی ریٹ کم نہیں کریں گے، اصل میں آپ بینکوں کے مافیا کو سپورٹ کرتے ہیں۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ دونوں طرف سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے اور کوئی جواب دینے کو تیار نہیں، صرف ریلیف پیکیج سے تاثر بنانے کی کوشش درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کے علاوہ کوئی پارٹی پیٹرول کی قیمت اور لیوی پر بات نہیں کرتی، ہم اپنا مارچ ملتان سے ہی شروع کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ہمارے لوگ یرغمال بنا لیے گئے، ہر جگہ بات کی کہ کسی طرح انہیں ریسکیو کرایا جائے، بلوچستان کے سارے حالات بھی سب کے سامنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ وہ بند گلی میں ہے تو اسے وہاں سے نکلنا چاہیے، فارم 47 والے ہیں لیکن ہیں تو حکومت میں۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بامعنی مذاکرات کیے جانے چاہئیں، احتجاج پی ٹی آئی کا بھی حق ہے، پرامن احتجاج سے کسی کو نہیں روکا جا سکتا، مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔