چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر کی زیر صدارت جامعہ بیت العتیق لاہور میں دفاع حرمین شریفین اور دینی جماعتوں کے کردار پر سیمینار ہوا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ ابتسام الہٰی ظہیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کی مدد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ مکہ معاہدہ موجود نہ ہوتا پھر بھی سعودی عرب کی مدد کرتے۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی بدامنی ناقابلِ قبول ہے۔
امیر جماعت اہلحدیث پاکستان مولانا عبدالغفار روپڑی کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے کے لیے عوام کی حمایت بھی ضروری ہے۔
صدر جمعیت اہل حدیث علامہ ہشام الہٰی ظہیر کا کہنا تھا کہ یہ امت مسلمہ کی بقا کی جنگ ہے۔ اگر سعودی عرب کو ضرورت پیش آئی تو پاکستان کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں ہو گی۔
مرکزی جماعت اہل حدیث کے امیر علامہ زبیر احمد ظہیر کا کہنا تھا کہ مکہ اور مدینہ کی توہین اور گستاخی برداشت نہیں کرسکتے۔
سیمینارسے مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما ڈاکٹرمطیع اللہ باجوہ، مرکزی مسلم لیگ کے رہنما مولانا امیر حمزہ، جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات حافظ غضنفر عزیز، جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے مہتمم حافظ مسعود عالم اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے سعودی عرب کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا اور کہا حرمین شریفین کا دفاع کرنا دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ پاکستان مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حفاظت کرے۔