ہمارے ہاں دو مشغلے بہت مقبول ہیں ۔ ان میں سے ایک رستہ پوچھنا اور دوسرا رستہ دکھانا ہے۔ تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نہ کسی سے رستہ پوچھتے ہیں اور نہ کسی کو رستہ دکھاتے ہیں۔ یعنی خود بھی بھٹکے ہیں ، دوسروں کو بھی بھٹکتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ہمارا واسطہ ان ہر دو قسم کے "منزل آشناؤں" اور منزل "نا آشناؤں "سے ہے، لیکن منزل نا آشنا افراد کو چھوڑیں ، یہ منزل آشنا لوگ بھی اپنی جگہ بڑے دلچسپ لوگ ہیں کہ ہم رستہ پوچھنے والوں کو یہ رستہ کم اور ہاتھ زیادہ دکھاتے ہیں ۔
یہ ابھی چند روز پہلے کی بات ہے مزنگ چونگی کے چوک میں ہم نے ایک "رہنما " سے ایک تعمیراتی دفتر کا پتہ پوچھا۔ اس نے بڑے سکون سے ہماری بات سنی اور پھر منزل کا پتہ بتاتے ہوئے کہا" آپ یہاں سے سیدھا فیروز پور روڈ کی طرف نکل جائیں ۔آگے نالہ آئے گا ۔ آپ نالے سے بائیں ہاتھ شادمان کالونی کی طرف مڑ جائیں۔ کچھ دیر اسی سڑک پر چلنے کے بعد چوک آئے گا، آپ چوک سے بائیں ہاتھ مڑ کر جیل روڈ والا کراسنگ بھی عبور کر جائیں اور پھر بائیں ہاتھ واقع لارنس روڈ پر ہو جائیں۔ آپ کوئنیز روڈ پر پہنچ جائیں گے۔ کوئینز روڈ پر آپ بائیں ہاتھ چلنا شروع کر دیں ۔ تھوڑی دیر بعد مزنگ چونگی آ جائے گا اور پھر اسی چوک میں پہنچ جائیں گے۔ وہ سامنے بورڈ دیکھ رہے ہیں؟ یہی وہ دفتر ہے۔" ظاہر ہے اس رہنمائی پر اپنے رہنما سے ہم خاصے ناراض ہوئے اور اس ناراضی کے عالم میں کہا"اگر دفتر سامنے ہے تو وہاں تک اتنا لمبا چکر کاٹ کر جانے کی کیا ضرورت ہے؟"
بڑے سکون سے بولے "کوئی ضرورت نہیں ۔ آپ اگر چاہیں تو دو قدم چل کر اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔ میں روکنے والا کون ہوں؟ ویسے راستہ یہ بھی صحیح ہے جو میں نے ابھی آپ کو بتایا ہے ۔"
سو بعض رہنما رستہ تو صحیح بتاتے ہیں ، بس ذرا "پینڈا"زیادہ طے کراتے ہیں جو اس معاملے میں اتنے صاحب اسلوب واقع ہوئے ہیں کہ ان کا اسلوب رہنمائی یا درہ جاتا ہے، رستہ بھول جاتا ہے۔
ایک بار ماڈل ٹاؤن سے کوٹ لکھپت جانے کیلئے ایک ایسے ہی رہنما کی خدمات حاصل کیں ، تو انہوں نے کہا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ۔ آپ اس وقت اے بلاک میں کھڑے ہیں۔ یہاں سے ایک راستہ فیروز پور روڈ لے جاتا ہے۔ دوسرا راستہ اے بلاک ہی سے بلکہ اسی سڑک سے سیدھا فیروز پور روڈ کی طرف نکلتا ہے۔ ایک تیسرا راستہ "چینیاں دئے" ہسپتال کی طرف سے ہے۔ آپ یوں کریں اس سڑک سے سیدھا نکل جائیں ، سامنے فیروز پور روڈ آ جائے گی ، لیکن یہ سڑک ٹھیک نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہ رستہ مناسب نہ رہے گا۔ اس کے بجائے آپ پاکستانی چوک کی طرف سے جائیں۔
یہ صاف ستھرا راستہ ہے لیکن آپ کو یہ خاصا دور پڑے گا۔ بس ٹھیک ہے، آپ ان دونوں رستوں کا خیال دل سے نکال دیں ان کے بجائے چینیاں دے ہسپتال کی طرف سے نکل جائیں ۔ یہ رستہ مناسب رہے گا، لیکن ذرا ٹھہر جائیں۔ اس سڑک پر گندگی بہت ہے، آپ کو ناک پر رومال رکھ کر گزرنا پڑے گا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا، میں کنفیوژ ہو گیا ہوں ۔ کیا آپ کو کوٹ لکھ پت آج ہی جانا ہے، اگر کل جاسکیں تو میں آج رات اس مسئلے پرغور وفکر کر کے کل آپ کو صحیح طور پر گائیڈ کر سکوں گا۔"
ان دو رہنماؤں کے علاوہ کچھ عرصہ پیشتر ہمارا پالا ایک اور "رہنما "سے بھی پڑا تھا۔ وہ نہ تو لمبا پینڈا طے کراتا تھا اور نہ کنفیوژ تھا بلکہ خاصا" کوئک" تھا۔ اس نے ہمیں کہا "آپ الفلاح بلڈنگ جانا چاہتے ہیں ۔ ٹھیک ہے میری منزل بھی وہی ہے۔ آپ میرے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھ جائیں ۔ ہم اس کے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھ گئے لیکن اس نے جو راستہ اختیار کیا وہ الفلاح بلڈنگ تو کیا ، فلاح کا راستہ بھی نہیں تھا ۔ نتیجتاً خود بھی گرا ہمیں بھی گرایا۔
لیکن یہ راستہ پوچھنے کا شوق ایسا ہے کہ ہم آج بھی گاہے گاہے یہ شوق پورا کرتے ہیں یعنی :
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
لیکن پرابلم یہ ہے کہ" راہبر" اپنی "پہچان" ہونے ہی نہیں دیتے۔ جب کبھی ان دو رہنماؤں کی شناخت پریڈ کا موقع آتا ہے ، ان کے کرخت چہرے نرم ولطیف چہروں میں بدل جاتے ہیں۔ ہر راہرو ایک بار پھر ریشہ خطمی ہو کر ان سے راستہ پوچھنے لگتا ہے۔