• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم تو خیر سادھو سے آدمی ہیں ۔ کیا پتہ یہ من و تو کے سلسلے کیا ہوتے ہیں مگر ہمارے ایک دوست بڑی مقبول شخصیت ہیں ۔ اگرچہ انکی عمر اس وقت ساٹھ برس سے تجاوز کر چکی ہے مگر انکے نام قیامت کے نامے آتے ہیں ۔ وہ خوشبو میں بسے ہوئے یہ خطوط اپنی میز پر کسی فائل کور کے ارد گرد کچھ یوں رکھتے ہیں کہ انکے نہ چاہتے ہوئے بھی نظر انہی ناموں پر پڑتی ہے۔ ہم تو چونکہ سادھو سے آدمی ہیں اسلئے ہمیں تو نہیں لیکن ان کے جو دوست صنف نازک کی تحریر پہچاننے کے ضمن میں اسپیشلسٹ واقع ہوئے ہیں ، وہ ان سے راز دارانہ انداز میں ایک آدھ سوال کر کے سب کچھ اگلوا لیتے ہیں۔ ان لمحوں میں ہمارے اس دوست کے کان سرخ ہو جاتے ہیں ۔ چہرے پر حیا کی سرخی دوڑ جاتی ہے اور یہ جھکی نظروں کیساتھ جیب سے رومال نکال کر اسکا پلو اپنی اُنگلی کے گرد لپیٹنے لگتے ہیں ۔ ان کا نام عبد الغفور ہے۔ یہ عبدالغفور صاحب بڑے شرمیلے ہیں !ہم نے تو عرض کیا نا کہ ہماری تو یہ فیلڈ ہی نہیں ۔ چنانچہ عبدالغفور صاحب رقابت کے تمام خطروں سے بے نیاز ہو کر بن مانگے ہم پر مائل بہ کرم ہو جاتے ہیں۔ یعنی ہم ان سے کچھ پوچھیں وہ ہمیں خود ہی بتا دیتے ہیں کہ آج انکے نام کتنے مہ وشوں کے نامے آئے ہیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ از راہ کرم گا ہےگا ہے ان میں سے کچھ اقتباسات بھی ہمیں سناتے رہتے ہیں اور یوں ہم ایسے شریف آدمی کو گمراہ کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔دراصل انکے نام جو خط آتے ہیں ان میں بڑے مخرب الاخلاق فقرے درج ہوتے ہیںاور عبد الغفور صاحب سارے خطوں میں سے چن چن کر ہمیں یہی فقرے سناتے ہیں مثلاً چلیے ہٹئے ہم آپ سے نہیں بولتے ہم آپ سے ناراض ہیں ۔ یا آج ایک ہفتہ ہو چلا ہے، راہ دیکھتے دیکھتے میرے بال سفید ہو گئے ہیں لیکن انکے اور ہمارے ایک مشترکہ دوست جو عبد الغفور صاحب کی مقبولیت کی وجہ سے اندر ہی اندر حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں ، طرح طرح کی باتیں کر کے اور بہانے سے ان خطوط میں کیڑے ڈال کر اپنی یہ آگ ٹھنڈی کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ مثلاً وہ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ عبدالغفور صاحب کمرے میں سے جاتے ہوئے یہ خطوط واپس اپنی جیب میں رکھنا بھول گئے تو انہوں نے جلدی جلدی یہ خط پھاڑ ڈالے ۔ ایک خط کا متن کچھ یوں تھا۔ محترم عبدالغفور صاحب ! میں نے آپ کو لکھا تھا کہ بانو بازار میں میں نے دوپٹے رنگنے کو دیے ہوئے ہیں۔ ذرا زحمت کر کے کسی روز گھر چھوڑ جائیں ، میں نے رسید بھیجی تھی۔ ایک دن میں آپ کو خط مل گیا ہو گا مگر آج دو روز ہو گئے ہیں دوپٹے نہیں پہنچے۔ نواسی کی شادی میں چند روز رہ گئے ہیں ! اس روز آپ بازار سے جو سبزی لے کر آئے تھے وہ بھی گلی سڑی ہوئی تھی۔ چلئے ہٹئے، ہم آپ سے نہیں بولتے ۔ ہم آپ سے ناراض ہیں ! ہمارے اس حاسد دوست کے مطابق دوسرے خط کا متن یہ تھا۔" محترم عبدالغفور صاحب ! آپ کو لکھا تھا کہ ہیئت کلر کے دو پیکٹ بھجوا دیںآج ایک ہفتہ ہو چلا ہے، راہ دیکھتے دیکھتے میرے بال سفید ہو گئے ہیں !"اور کچھ اس قسم کی باتیں ہمارے یہ حاسد دوست باقی خطوں کے بارے میں بھی کرتے ہیں، لیکن ہمارا ایمان عبدالغفور پر ہے، وہ بزرگ آدمی ہیں ، بھلا وہ کا ہے کو خود پر الزام تراشی کریں گے!عبد الغفور صاحب کے بیان پر ایمان لانے کی وجہ صرف یہی نہیں جو ہم نے ابھی بیان کی ہے بلکہ اس کی دو وجوہ اور بھی ہیں۔ ایک تو یہ کہ موصوف کا ذوق جمالیات ابنائے زمانہ سے نہ صرف جدا گانہ ہے بلکہ بہت صاف ستھرا اور صالح بھی ہے وہ بناوٹ کو بالکل پسند نہیں کرتے ۔ چنانچہ میک اپ کو بھی نا پسند کرتے ہیں۔ شو، شا کے پیچھے نہیں جاتے بلکہ سادگی پر مرتے ہیں۔ چنانچہ ہم نے ایک روز اپنی آنکھوں سے انکے کمرے کی طرف ایک حور شمائل کو جاتے دیکھا جس نے پرانی طرز کا ٹوپی والا برقع اوڑھا ہوا تھا اور پاؤں میں ہوائی چپل تھی۔ عبدالغفور صاحب اسکے قدموں کی چاپ پہچان کر کمرے سے باہر نکل آئے۔ اسکی بہت عزت و تکریم کی ، اس کے راستے میں آنکھیں بچھائیں اور جب اسے رخصت کیا تو آنکھوں میں آنسو تھے جس کی وجہ سے انکی آنکھوں کا سارا سرمہ بہ نکلا۔ اس موقع پر انہوں نے ہمیں اپنا یہ شعر بھی سنایا:

وقت رخصت ہم چپ رہے عبدالغفور

آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل

یہ شعر سنکر خود ہماری آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے ۔ تاہم اس روز انکے سارے دعوے سچے ثابت ہو گئے ۔ کیونکہ اب تو ہماری حیثیت چشم دید گواہ کی ہو گئی تھی۔ جب کہ ہمارے اس حاسد دوست کا کہنا تھا کہ اسے گواہ کو چشم دید گواہ نہیں، وعدہ معاف گواہ کہتے ہیں۔اپنے حاسد دوست کو جھٹلانے اور عبدالغفور صاحب کے بیان پر ایمان لانے کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ گو یہ نامے اور سلسلے عبدالغفور صاحب کی کمزوری ہیں ، مگر ان کا ضمیر اس پر خوش نہیں ہے بلکہ وہ اکثر اسکی خلش محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ ان لمحوں میں وہ اپنے تمام رومانس ایک ایک کر کے سناتے ہیں اور اس دوران کانوں کو ہاتھ لگاتے اور تو بہ استغفار کرتے چلے جاتے ہیں ۔ ہم نے ایسے موقع پر خوف خدا کے باعث ان پر کپکپی طاری ہوتی بھی دیکھی ہے۔ مگر برا ہوا اس حسد کا کہ ہمارے متذکرہ حاسد دوست اس مثبت پہلو میں سے بھی منفی پہلو نکال لیتے ہیں اور ایسے مواقع پر پوری بدلحاظی سے کام لیتے ہوئے آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں اور عبدالغفور صاحب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں" یہ تم گناہوں کا اقرار کر رہے ہو یا بڑیں ہانک رہے ہو ؟"

تازہ ترین