السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
اب آیئے ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی طرف
’’حالات وواقعات‘‘ میں منور مرزا نے درست کہاکہ’’مسلّح تنظیمیں مسلم دنیاکی بقا کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘ نصرت عباس داسو نے تعلیمی نظام پر تعمیری مضمون لکھا کہ موجودہ معیارِ تعلیم پر تنقید کے ساتھ کئی اصلاحاتی تجاویز بھی پیش کیں۔ ’’یومِ شہدائے کشمیر‘‘ پر حافظ بلال بشیر بھی اچھی تحریر لائے۔ ڈاکٹر نظیر احمد ابڑو، سندھ زرعی یونی ورسٹی، ٹنڈوجام کی حالتِ زار پر توجّہ مبذول کروارہے تھے۔
’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں، ڈاکٹر سکندر اقبال نے جسم کی چُھپی طاقت، پٹھّوں پر سیر حاصل مضمون تحریرکیا۔ ’’متفرق‘‘ میں ارشد مبین کے جذبۂ ایمانی کا شان دار واقعہ پڑھ کر دل خوش ہوگیا۔ بابر سلیم خان کے مضمون سے بھی معلومات میں اضٖافہ ہوا، خاور نیازی نے تو ’’تیر کمان سے ڈرونز تک‘‘ کی تاریخ ہی بیان کر ڈالی۔ نظیر فاطمہ اور کلثوم پارس کے افسانے سبق آموز تھے اور اب آیئے، اپنے صفحے کی طرف ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہمارا خط ماتھے کے جھومر کی طرح جگمگا رہا تھا۔
شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی کے خیالات سے مَیں متفق ہوں، حُکم ران ملکی قرضہ کیا معاف کروائیں گے، ڈاکٹر عافیہ کوامریکا سے رہائی تو دلوا نہیں سکے، جب کہ امریکا ہماری عدالتوں تک کے فیصلے ماننے سے انکار کردیتا ہے۔اگلے شمارے کے ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں منیر احمد خلیلی نے ایران، امریکا معاہدے پر روشنی ڈالی۔ رابعہ فاطمہ ’’مون سون اور پاکستان کی معیشت‘‘ کے موضوع پر ایک نہایت فکر انگیز مضمون لائیں۔
ڈاکٹر سکندر اقبال نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں علاج معالجے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ منور مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان کواب مذاکرات کی میز پر آجانا چاہیے۔ ایک سو سترہ ممتاز شخصیات نے پاکستان اور بھارت کے وزرائےاعظم کوخط تحریر کیا، اُمید ہے، دونوں ممالک کے رہنما اس سمت پیش رفت کریں گے۔ ڈاکٹر نازش فاطمہ نے موٹاپے کو ایک اجتماعی بیماری قرار دیا۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد صادق اینڈو سونوگرافی سے متعلق بتا رہے تھے کہ تشخیص ہی نہیں، علاج میں بھی مددگار ہے۔ ڈاکٹر حسن چغتائی نے انٹرنیٹ کے بے تحاشا استعمال سے منع کیا، تو طارق بلوچ کا افسانہ ایک بار پھرسمجھ نہیں آیا۔ بابر سلیم خان کی باتوں سے واقعتاً خوشبو آرہی تھی، پرویز شکیل کی باتیں بھی دل میں جگہ بناگئیں۔ اب آیئے ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی طرف، تو اس میں ہمارا اوربےکار ملک کا خط آگے پیچھے جگ مگ کررہے تھے۔ انھوں نے کیا شان دار لطیفہ تحریرکیا، پڑھ کرمزہ آگیا، جب کہ آپ کا جواب بھی لاجواب تھا۔ (سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
ج: ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی طرف تو آپ ایسے آتے ہیں، جیسے آتے ہی مُکّا جڑ دیں گے۔ اور پھر اپنا اور اپنے ’’محبوب‘‘ کا خط دیکھ کر ایک دم شانت ہوجاتے ہیں۔
انتہائی شان دار، دل آویز جواب
آپ پورے ہفتے کی ڈاک کھنگالتی ہیں اور پھر ہر خط پڑھ کر،نہ صرف ہیڈنگ (سُرخیوں) کے ساتھ شایع کرتی بلکہ فرداً فرداً جوابات بھی دیتی ہیں۔ آج کے اس نفسانفسی کے دَور میں یہ بس آپ کا ہی طرّۂ امتیاز ہے۔ تازہ ’’سنڈے میگزین‘‘ میں نجمی صاحب نے ’’گنبدِ خضرا‘‘سے متعلق تاریخی واقعات بیان کیے، تو پڑھ کر دل جھوم گیا۔
منیر احمد خلیلی ترکی کے عروج وزوال کی داستان کے ساتھ آئے۔ ’’بھارتی آبی جارحیت‘‘ کے موضوع پر رحمان فارس کی تفصیلی اور بہت ہی معلوماتی’’ رپورٹ‘‘ پڑھ کر لطف آگیا۔ خصوصاً انھوں نے جاوید اختر کے اشعار ؎ ’’پنچھی، ندیا، پون کے جھونکے… کوئی سرحد نہ انہیں روکے… سرحد انسانوں کے لیے ہے… سوچو ہم نے اور تم نے…کیا پایا انساں ہوکے؟‘‘ کیا ہی شان دار، دل آویز جواب دیا۔
؎ ’’جو وقت آیا تو جاں دیں گے اور سر دیں گے…مگر تمہیں نہ کبھی اپنے بحر و بر دیں گے…اُنہیں بتانا کہ ہم کربلا کے فاتح ہیں…جو کہہ رہے ہیں کہ ہم پانی بند کردیں گے۔‘‘ واہ واہ، بھلا اس جذبے اور ان اشعار کا کوئی مول ہوسکتا ہے۔ آپ کے تمام ٹیم ممبرز، لکھاری اپنی صحافتی وعلمی ذمےداریاں بُحسن وخوبی نبھا رہے ہیں، ہماری طرف سے دلی ستائش قبول فرمائیں۔ (شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، تحصیل کوٹ ادّو، ضلع مظفرگڑھ)
ج: جزاک اللہ خیراً کثیرا۔
کے ڈی اے کے مالی مسائل اور اُن کا حل
مَیں آپ کا بہت ممنون، شُکرگزار ہوں کہ آپ وقتاً فوقتاً میرے مضامین اپنے نام وَرمیگزین میں شائع کردیتی ہیں۔ مَیں نے ایک آرٹیکل کے ڈی اے کے مالی مسائل اور ان کے حل کے سلسلے میں ارسال کیا تھا۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ کے ڈی اے کراچی کے ترقیاتی کاموں کا ذمّےدار ادارہ ہے، لیکن گزشتہ کئی برس سے شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ اس وقت ادارے کا اسٹاف تقریباً 2500 افراد پر مشتمل ہے، جب کہ تقریباً 2200 ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن بھی ادا کی جاتی ہے، تو ترقیاتی کام تو ایک طرف، ادارے کے پاس ملازمین کی تن خواہوں اور پینشن تک کی رقم نہیں ہوتی۔
حکومتِ سندھ ہرماہ40 کروڑکی گرانٹ دیتی ہے، تو بمشکل ادائی ہوپاتی ہے، یہاں تک کہ کئی سال قبل ریٹائر ہونے والےاسٹاف کواب تک فنڈز اور گریجویٹی کی رقم نہیں ملی۔ ادارے کا سابق ڈائریکٹر ہونے کے سبب مَیں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اس مالی وانتظامی بحران کی کئی وجوہ ہیں، اور ان ہی کے حل کے لیے مَیں نے ایک پلان، مذکورہ آرٹیکل میں تجویز کیا تھا۔ بڑی بات نہیں کرتا، لیکن اگر اس پلان پر عمل ہوجائے تو کے ڈی اے اور حکومتِ سندھ کو کوئی اضافی خرچہ کیے بغیر اربوں کا فائدہ ہو سکتا ہے۔
مَیں سمجھتا ہوں کہ حکومتی مسائل اور کوتاہیاں اجاگر کرنے کے ضمن میں آپ کو کافی غوروخوض کرنا پڑتا ہوگا، کئی مجبوریاں بھی آڑے آتی ہوں گی۔ بہرحال بیٹا! آپ سے توقع رکھتا ہوں کہ عوامی مفاد کے پیشِ نظر آپ میرے مضمون کو جلدازجلد کوئی کونا، گوشہ ضرور عنایت کریں گی تاکہ عوام اور حکومت کو کچھ فائدہ حاصل ہوسکے کہ ہم جو چراغِ آخر شب ہیں، چاہتے ہیں کہ ہمارے طفیل مُلک و قوم کا جو بھلا ہو سکتا ہے، ضرور ہو۔ مَیں اس سلسلے میں آپ کی کاوشوں کا بھی تہہ دل سے معترف ہوں۔ اللہ رب العزت آپ کی ہمّت، حوصلے اور صلاحیتوں میں مزید اضافہ فرمائے۔ (رستم علی خان، سابق ڈائریکٹر کےڈی اے، گرین اسٹریٹ، کے ڈی اے آفیسرز سوسائٹی، نزد نیشنل اسٹڈیم، گلشنِ اقبال، کراچی)
ج: سر!عوامی مفاد کے کسی بھی مضمون کی اشاعت کے ضمن میں ادارےکی طرف سے کوئی مجبوری حائل نہیں، الحمدُللہ، فری ہینڈ ہے، اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ صفحات کی کمی، جگہ کی تنگی کاہے۔ بہرحال، آپ کا مضمون ، اس خط کی اشاعت سے قبل ہی شایع کیا جا چُکا ہے۔
سیاست دانوں کے خاکوں سے گریز
اس بار میگزین کےآغازہی میں منور مرزا مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کے ساتھ موجود تھے۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے احسن اقبال کا خاکہ پیش کیا، اِس سے قبل یوسف رضا گیلانی صاحب کا خاکہ لکھا تھا۔ بھئی، ہم اِن وزیروں، مشیروں کو تو روز ہی اخبارات، ٹی وی چینلز پر پڑھتے، سُنتے اور لڑتے جھگڑتے دیکھتے رہتے ہیں۔
براہِ مہربانی اِن سیاست دانوں کے خاکے لکھنے سے تو گریز ہی فرمائیں کہ اِن سے ہم تو پہلے ہی عاجز آئے بیٹھے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر جلال عارف کی باغِ جناح سے متعلق ’’رپورٹ‘‘ پڑھ کر دُکھ ہوا، بی بی مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ اِس طرف بھی کچھ توجہ دیں، مہربانی ہوگی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں اپنے علاقے فیڈرل بی ایریا سے معین قریشی کی’’ یادش بخیر‘‘ پڑھ کر خوشی ہوئی۔
اس دفعہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ایک تبدیلی دیکھی کہ کراچی کا کوئی خط شامل نہیں تھا، اور یہ تبدیلی پسند آئی۔ اگلے جریدے میں رحمان فارس ڈھائی صفحات کے ساتھ موجود تھے اور ’’بھارتی آبی جارحیت‘‘ کے موضوع پر ایک شان دار نگارش تحریر کی۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا کو بھی پڑھ لیا، اور ہمیشہ کی طرح پڑھ کر بہت اچھا لگا۔
’’ڈائجسٹ‘‘ میں ثناء توفیق خان تو ہم سب ہی کو کھینچ کھانچ کر ماضی میں لے گئیں۔ گزرا ہوا وقت، اپنا بچپن کھوجنا بہت اچھا لگا، حالاں کہ کوئی لمبی چوڑی داستان نہیں تھی، بس ایک چھوٹی سی تحریر تھی، شاباش ثناء توفیق خان۔ اور ہاں، آج سلیم راجا بھی ایک بار پھر موجود تھے، اُن کا خط پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ نیز، آپ کا جواب بھی اچھا تھا۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
ج: آپ کے تحفّظات، رحمان فارس تک پہنچ گئے ہیں۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں تبدیلی دانستہ قطعاً نہیں، کراچی کے خطوط قطار میں موجود نہیں ہوں گے، توصفحے میں شامل بھی نہ ہوسکے مگر آپ کو یہ تبدیلی کیوں پسند آئی، سمجھ سے بالاتر ہے۔
سو سنار کی، ایک لوہار کی
واہ! کیا بات ہے، مدینہ منورہ کی، روضۂ اقدس پرگنبد کی تعمیر سے متعلق جو معلومات فراہم کی گئیں، وہ میرے لیے یک سر نئی تھیں۔ آج تک یہی سمجھتا رہا کہ روضۂ اقدس پر پہلی مرتبہ گنبد کی تعمیر عثمانی خلیفہ نے کروائی تھی۔ ’’عالمی اسلامی کانفرنس‘‘ میں علماء کی تعداد کا ذکر بھی معلومات میں اضافے کا باعث بنا۔
علامہ شبیر احمد عثمانی کی علمی قابلیت، سبحان اللہ۔ بے حد شکریہ، نجمی صاحب،اتنی اہم معلومات گوش گزار کرنے کا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں ترکی کے ماضی و حال کی تفصیل بھی لائقِ مطالعہ تھی، لیکن عثمانی خلفاء نے جس عقیدت و محبت و اخلاص سے مسجدِ نبویؐ کی توسیع کا کام کیا ، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ واہ بھائی فارس! جتنا بہترین ’’سندھ طاس معاہدے‘‘ پر لکھا، آپ نے تو بس قلم ہی توڑ دیا۔
خصوصاً آخر میں جو اشعار لکھ کر ہمارا لہو گرمایا، زبردست۔ وہ کیا کہتے ہیں، سو سنار کی، ایک لوہار کی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں سید ذوالفقار حسین نقوی کا ’’تکیہ کلام‘‘ اور ثناء توفیق خان کی ’’ایک آٹو گراف بک‘‘ ہلکی پُھلکی، دل چسپ تحریریں تھیں۔ اپنا وقت یاد آگیا، جب ہم بھی کبھی آٹوگراف لیا کرتے تھے اور ہمارے پاس سب سے یادگار آٹو گراف مشہور کھلاڑی ظہیر عباس کا ہوتا تھا، اب تو جانے ہماری وہ آٹو گراف بُک بھی کہاں ہوگی۔ (سعید احمد خانزادہ، سکرنڈ)
ج: درحقیقت ہم سب ہی ناسٹیلجیا کے مارے ہوئے ہیں۔
جولائی کا تیسرا شمارہ مون سون کے جوبن پر آیا اور اس موضوع پر’’سنڈے اسپیشل‘‘ کے تحت رابعہ فاطمہ کی موسمیاتی تبدیلیوں سےمتعلق نگارش بےحد معلوماتی ثابت ہوئی۔ المیہ یہ ہے کہ ابرِ رحمت کو ترسےعوام کے لیے مون سون کے یہ ایام رحمت سے زیادہ زحمت بن جاتے ہیں اور اِس کی وجہ صرف انتظامی غفلت ہے۔ ویسے یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ موسمیاتی تغیرات نے مون سون کاروایتی نظام بالکل غیریقینی کردیا ہے۔
ڈاکٹر سکندر اقبال نےمعمول سےہٹ کر ’’صحت مند زندگی کا اسلامی تصور‘‘ کے عنوان سے ایک انتہائی معلوماتی، منفرد مضمون نذرِقارئین کیا۔ میرے خیال میں تواگر ہم احکاماتِ الہٰی کی روشنی میں زندگی بسرکریں تو کبھی بیمارہی نہ ہوں۔ منور مرزا نے پاک بھارت تنازعات کے حل کے لیے 117 ممتاز شخصیات کے خطوط کا ذکر کیا، جودونوں ممالک کے وزرائے اعظم کولکھے گئے، اصل بات یہ ہے کہ کشمیر اور ایک دو بنیادی تنازعات حل ہوجائیں تو پیش رفت خود بخود ہوجائے گی۔
پروفیسر وارث میر کی شخصیت پر اُن کی دختر، ہما میر نے بہت عُمدہ لکھا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں زینت منظور اور مریم شہزاد نے اہم موضوعات کا انتخاب کیا۔ مریم کی بات اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے کہ اولاد کی تربیت صرف ماں کی ذمّے داری نہیں ہوتی، مگر ہمارے سماج میں اکثر مائیں، بچّوں کو باپ سے اتنا دُور رکھتی ہیں کہ پھر اُن کے کہے کی کوئی ویلیو ہی نہیں رہتی اور یہ بات خود میرے اپنے مشاہدے میں ہے۔ نام وَر مسلمان سائنس دان، ابن الہیثم کی خدمات پر محمّد آصف قریشی نے اچھا لکھا۔
آج یورپ اور دنیا بھر میں جو ترقی نظر آرہی ہے، یہ اُن مسلمان سائنس دانوں ہی کی مرہونِ منّت ہے، جنہوں نے تحقیق و تصنیف کے میدان میں دنیا کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ کافی عرصے بعد طارق بلوچ صحرائی کا افسانہ بھی پڑھنے کو ملا۔ روحانیت اُن کے ہرافسانے کی بُنت میں شامل رہتی ہے اور’’چھتری‘‘ بھی ایسا ہی ایک افسانہ تھا۔
واقعتاً جب انسان کی رُوح کا رابطہ نیلی چھتری والے سے بحال ہوجاتا ہے، تو پھر وہ ہر طرح کی آسودگی کی چھتری تلے آجاتا ہے۔ باقی رہی ایک سطر چھوڑ کر لکھنے کی بات، تو ہماری ایک صفحے ہی کی تو تحریر ہوتی ہے، اس میں بھلا کیا ایڈیٹنگ ہوگی۔ محمّد سلیم راجا کافی ہفتوں سے نظر نہیں آرہے، اُن سے گزارش ہے کہ وہ اس محفل کے اصل راجا ہیں، پلیز، آئیں اور اپنی سیٹ سنبھالیں۔ (رانا محمد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)
ج: یہ فیصلہ آپ کو نہیں، ہمیں کرنا ہے کہ ایک صفحے سے کیا اورکتنی ایڈیٹنگ ہوگی۔ ذرا اپنی آج ہی کی اصل تحریر سے اِس ایڈٹِڈ تحریر کا موازنہ کر کے دیکھ لیں۔
* آج پورے تین سال بعد حاضرہوں۔ 2023 ء میں آپ کو ایک ای میل کی تھی، جس میں اپنے بچپن اور سنڈے میگزین سے وابستہ یادیں شیئر کیں، تو آپ نے جواب میں میرے پاپا کے لیے دُعا بھی کی۔ بلاشبہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی کہ یہ ہماری سچّی نیّت سے جُڑی ہوتی ہے اور نیتیں تو اللہ پاک خُوب جانتا ہے۔ آپ کی سخت محنت بھی رنگ لائی، آج صحافت کی دنیا میں ایک نام و مقام ہے اورآپ سب کی فیورٹ ایڈیٹر بھی ہیں۔
مَیں اُسی وقت میل کرنا چاہتی تھی، لیکن ڈگری کا آخری سال شروع ہوا تو مصروف ہوگئی۔ پھر عملی زندگی میں قدم رکھا۔ ہاؤس جاب، انٹرن شپ اورجاب ملنے کی تگ ودو، وقت گزرنے کاپتاہی نہ چلا، لیکن مَیں نے میگزین اور اخبار پڑھنا کبھی نہیں چھوڑا۔ آج بھی روزانہ اخبار آنے کا انتظار کرتی ہوں۔ بس فرق یہ ہے کہ پہلے کہانیاں، افسانے پڑھتی تھی، اب نوکریوں کے اشتہار دیکھتی ہوں۔ یہ بھی وقت، عُمر اور زندگی کے تقاضے ہیں۔
چلیں، اب تین سال پیچھے چلتے ہیں۔ میری بےصبری وبےتابی کا یہ عالم تھا، ایک ہفتے ای میل کرکے اگلے اتوار ہی سےمیگزین چیک کرنے لگی۔ جیسے ہی ہاکر گیٹ سے اخبار اچھالتا، اُچک لیتی اور جلدی سے بس آخری صفحے میں اپنا نام ڈھونڈتی۔ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا، یہاں تک کہ اپریل سے اگست کا مہینہ آگیا۔ وہ اگست کا تیسرا ہفتہ تھا،جوں ہی آخری صفحہ کھولا، دل میں سوچا، اگر اس بار بھی میل شامل نہیں ہوئی، تو سمجھ جاؤں گی کہ پسند ہی نہیں آئی۔ مگر…اُس دن صرف ایک ای میل شائع ہوئی تھی۔ نام دیکھا تو خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا کہ وہ میرا ہی نام ہے۔ لیکن یہ کیا، مجھے کچھ صاف نظر نہیں آرہا تھا، سب کچھ دھندلا سا تھا۔ آنکھیں صاف کیں توصاف نظرآیا۔ خوامخواہ ہی آنسو آرہے تھے۔ آپ کا جواب میرے لیے کسی اعزازسےکم نہ تھا۔
آپ سوچیں گی، کیسی پاگل لڑکی ہے، لیکن مَیں ایسی ہی ایموشنل ہوں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پرخوش ہو جاتی ہوں۔ میل پڑھنے کے بعد پورے گھر میں سب کو دکھاتی پھری۔ پھر اُس میگزین کو بہت سنبھال کر کسی متاعِ کُل کی طرح رکھ لیا۔ لیکن جس کا جدا ہونا قسمت میں ہو، اُس کا کھونا یقینی ہے۔ ایک دن میری خالہ گھرآئیں اور اُن کو دکھانے کے لیے الماری ٹٹولی تو میگزین غائب ۔ بہت دُکھ ہوا، لیکن مَیں نے ہار نہیں مانی۔ آن لائن ایڈیشن سےاسکرین شاٹ لے کر پرنٹ کروالیا۔اس کتھا کے ساتھ اجازت،آپ اورآپ کی پوری ٹیم کے لیے دل سے دُعائیں۔ (سیدہ فاطمہ، حیدرآباد، سندھ)
ج: اب بتاؤ، اتنے سال بعد آئی ہو، اور پھر اُسی طمطراق سے، میل پڑھ کے جی خوش ہوگیا۔ بات یہ ہے فاطمہ، جب حالات یہ ہوں کہ بڑے بڑے نام وَر لکھاریوں، صحافت سے وابستہ افراد کی تحریریں پڑھ کے بھی سر پیٹنے کوجی چاہے اور پھر اچانک ایک عام قاری کی کوئی خُوب صُورت تحریرپڑھنےکومل جائے، توہماری خوشی کاکوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہتا۔ بےاختیاردل سے نکلتا ہے۔ ’’پلیز، اب آتے جاتے ہی رہنا۔‘‘
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk