• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماریہ عرفان (جوڈیشل لالہ زار کالونی، لاہور)

فلکِ نیلگوں نے شب کی سیاہ چادر پر ستاروں کے اَن گنت چراغ روشن کر رکھے تھے، مگر ڈلاس اسٹیڈیم کی فلڈ لائٹس اس رات کسی دوسرے ہی آفتاب کا گمان دے رہی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا، جیسے روشنی نے اندھیرے سے صلح کر کے زمین پر ایک نئی دنیا آباد کردی ہو۔

سبز مخملیں میدان اپنے دامن میں ایک ایسی تاریخ سمیٹے خاموش کھڑا تھا، جس کی اگلی سطر ابھی لکھی جانی تھی۔ پرتگال اور اسپین کے پرچم ہوا کے دوش پر لہرا رہے تھے، ہزاروں تماشائیوں کی دھڑکنیں ایک ہی ردھم میں بندھی تھیں اور ہر نگاہ اس سبز میدان پر یوں جمی تھی، جیسے وقت نے خُود کو اسی لمحے میں مقیّد کرلیا ہو۔

مختلف زبانیں، مختلف نسلیں اور مختلف رنگ ایک ہی جذبے میں ڈھل چُکے تھے۔ کوئی اپنے ننّھے بچّے کو کندھوں پر بٹھائے وہ منظر دِکھا رہا تھا، کوئی اپنے چہرے پر قومی پرچم سجائے فتح کی دُعا مانگ رہا تھا، تو کوئی اپنے پسندیدہ کھلاڑی کی جرسی سینے سے لگائے خاموشی سے آنے والے لمحوں کا منتظر تھا۔ اُس رات ڈلاس اسٹیڈیم صرف ایک میدان نہیں تھا، پوری دنیا کے خوابوں کا سنگم بن چُکا تھا۔

ریفری کی سیٹی بجی تو مقابلے نے سانس لینا شروع کردی۔ اسپین اپنی مخصوص برق رفتاری، مختصر پاسز اور منظّم حکمتِ عملی کے ساتھ کھیل کی رفتار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہا تھا، جب کہ پرتگال صبر، نظم اور جوابی حملوں کے سہارے موقعے کی تلاش میں تھا۔ ہر کام یاب ٹیکل پر تالیوں کا شور بلند ہوتا، ہر شان دار بچاؤ پر ہزاروں سانسیں سینوں میں تھم جاتیں۔

وہ جب بھی گیند کے قریب آتا، اسٹیڈیم میں ایک عجیب سی بےقراری دوڑ جاتی۔ نظریں اُس کے ہر قدم کا تعاقب کرتیں، جیسے برسوں کی عظمت ایک بار پھر کوئی یادگار لمحہ رقم کرنے والی ہو کہ فٹ بال صرف خوابوں کا کھیل نہیں، حقیقت کا امتحان بھی ہے۔

وقت گزرتا رہا، مقابلہ سخت سے سخت تر ہوتا گیا، دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے تمام تر توانائیاں صرف کر رہی تھیں۔ اور پھراختتامی لمحات میں اسپین کے متبادل کھلاڑی میکل میرینو نے فیصلہ کُن گول کردیا۔ ایک سمت خوشی کی لہر دوڑ گئی، دوسری جانب خاموشی نے دِلوں کو اپنی آغوش میں لے لیا، مگر میدان میں موجود ہرشخص جانتا تھا کہ اُس رات صرف ایک ٹیم نہیں کھیلی تھی، بلکہ جذبے، استقامت اور کھیل کے وقار نے بھی اپنا بہترین رُوپ دکھایا تھا۔

مَیں بھی انہی ہزاروں چہروں میں ایک گم نام سا چہرہ تھا۔ عُمر ابھی سترہ برس تھی، مگر خواب برسوں پرانے۔ نہ کسی معروف اکیڈمی کی تربیت نصیب ہوئی، نہ کسی کوچ کی سرپرستی، نہ وسائل، نہ سفارش۔ کتنی ہی بار مقامی کلبز کے دروازوں سے مایوس لوٹا، کتنی ہی بار یہ سُننے کو ملا کہ’’صلاحیت سے پہلے سہارا چاہیے‘‘، مگر دل نے ہار ماننا قبول نہ کیا۔ رونالڈو کا وہ یادگار لمحہ ابھی تک ذہن کے دریچوں میں تازہ تھا، جب اس کی جست، اس کاعزم اور اعتماد دیکھ کر یوں محسوس ہوا تھا، جیسے خواب بھی پرواز کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ آج بھی نظریں اِسی اُمید سے اس کے ہر لمسِ گیند کا تعاقب کررہی تھیں، مگر زندگی ہر روز کرامات نہیں دکھاتی۔

میکل میرینو کے آخری لمحے کے گول کے ساتھ پرتگال کا سفر رُک گیا، لیکن اُسی لمحے ایک اور حقیقت دل میں اُتر گئی۔ عظیم لوگ صرف اپنی فتوحات سے نہیں، اپنی شکستوں سے بھی نسلوں کو حوصلہ دے جاتے ہیں۔ رونالڈو کی پُرسکون نگاہوں میں کوئی شکوہ نہ تھا، صرف اپنی پوری کوشش کرلینے کا اطمینان تھا۔ تب پہلی بار محسوس ہوا کہ اگر ارادہ زندہ رہے تو ہار بھی انسان کو توڑنے کے بجائے تراش دیتی ہے۔ یہی احساس میرے اندر امید کی ایک نئی شمع جلا گیا۔

اختتامی سیٹی بجتے ہی اسٹیڈیم کی فضا نے ایک نیا رنگ اوڑھ لیا۔ ایک سمت اسپین کے کھلاڑی ایک دوسرے سے بغل گیر تھے، سُرخ و زرد پرچم ہوا کے دوش پر رقص کر رہے تھے، بچّوں کی قہقہوں بھری آوازیں اور نوجوانوں کی خوشیاں فلڈ لائٹس سے لپٹ کرفضا میں بکھررہی تھیں۔

دوسری طرف پرتگالیوں کے چہروں پر شکست کی ہلکی سی اداسی ضرور تھی، مگر اس اداسی میں بھی وقار کی چمک باقی تھی۔ اُس نے میدان سے رخصت ہونے سے پہلے ایک بار پھر تماشائیوں کی جانب رُخ کیا، دونوں ہاتھ بلند کیے اور مسلسل بجتی تالیوں کا جواب مسکراہٹ سے دیا۔ اُس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ عظمت ہمیشہ جیت کے تمغوں سے نہیں ناپی جاتی، بعض اوقات ایک باوقار رخصتی بھی انسان کو تاریخ کا روشن باب بنا دیتی ہے۔

مَیں بھی بےآواز قدموں سے باہر نکلنے لگا۔ دل میں شکست کا بوجھ نہیں، ایک عجیب ساسکون تھا۔ شاید اسی لیے کہ آج مَیں نے صرف ایک میچ نہیں دیکھا تھا، حوصلے کو اپنی آنکھوں کے سامنے زندہ چلتے دیکھا تھا۔ گیٹ کے قریب اچانک وہی شخص دوبارہ نظر آیا، جس سے میچ کے دوران فٹ بال، میری دل چسپی اور خوابوں پر مختصر سی بات چیت ہوئی تھی۔ شاید میری گفتگو، میرے جذبے اور کھیل کی باریکیوں سے واقفیت نے اُسے میرے بارے میں کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔

وہ مُسکرایا اور جیب سے ایک کارڈ نکال کر میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔ ’’کل آ جانا، اگرخواب ابھی بھی زندہ ہے تو…‘‘ مَیں نے کانپتے ہاتھوں سے وہ کارڈ تھام لیا۔ برسوں کی ٹھوکریں، انکار، بےبسی اور خاموش دُعائیں ایک لمحے میں آنکھوں کے سامنے سے گزر گئیں۔ مَیں نے پلٹ کراس روشن اسٹیڈیم کوآخری بار دیکھا، جہاں اسپین نے کام یابی کا جشن منایا، رونالڈو نے وقار کی نئی مثال قائم کی، اور مَیں نے اپنی زندگی کا پہلا دروازہ کُھلتے دیکھا۔

اس رات مجھے منزل نہیں ملی تھی، مگر منزل تک پہنچنے کا پہلا نشان ضرور مل گیا تھا۔ مَیں مسکرایا، کارڈ کو سینے سے لگایا اور دل ہی دل میں ’’الحمدُللہ‘‘ کہا۔ میرا نام ارسلان مجتبیٰ ہے... باقی سفرکی حکایت پھرکبھی سہی۔ آج کے لیے بس اتنا ہی کہ راستہ ہی تو ہے، جو ہرخواب کو اس کی منزل کا پتا دیتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید