• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی، بحری راستوں کی بندش اور درآمدی اخراجات میں ہوش رُبا اضافے کے باعث مُلک میں پیٹرولیم مصنوعات کا سنگین بحران پیدا ہوچکا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتیں ایک ہزار روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سرکاری حکّام اور آئل انڈسٹری کے ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ عالمی حالات کے پیشِ نظر آئندہ ماہ کے لیے تیل کے بحری جہاز (آئل ٹینکرز) حاصل کرنا انتہائی مشکل اور منہگا ہوجائے گا۔

واضح رہے، حالیہ بحران اس وقت مزید سنگین ہوا، جب تجارتی گزرگاہ، آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد متبادل کے طور پر پاکستان کو سعودی عرب کی ایسٹ، ویسٹ پائپ لائن سے تیل کی فراہمی متوقع تھی، تاہم رواں ماہ یہ پائپ لائن بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بننے کے باعث بند ہوگئی ہے۔ تادمِ تحریر مقامی مارکیٹ میں گزشتہ دوماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 68روپے اور ڈیزل میں 57روپے فی لیٹر کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔

توانائی کے اس سنگین بحران اور قیمتوں میں مسلسل اضافے پر عوامی حلقوں میں یہ سوال شدّت اختیار کر گیا ہے کہ رُوس کے ساتھ بہتر ہوتے سفارتی تعلقات اور ایران کے پڑوس میں واقع ہونے کے باوجود، پاکستان ان ممالک سے سستا تیل درآمد کرنے کے اختیارات کا استعمال کیوں نہیں کر پا رہا؟

جغرافیائی لحاظ سے دیکھا جائے، تو ایران پاکستان کا ہم سایہ مُلک ہے، جہاں سے تیل کی درآمد دُور دراز واقع سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مقابلے میں پاکستان کو کافی سستی پڑ سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصّہ خلیجی مُمالک سے پورا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کا یہ فیصلہ تیل کے معیار یا قیمت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے پیچھے پیچیدہ بین الاقوامی، معاشی اور تیکنیکی عوامل کارفرما ہیں۔

پاکستان کی جانب سے ایرانی اور روسی تیل کے بجائے، خلیجی ممالک کو ترجیح دینے کی کچھ وجوہ ہیں، جن میں بین الاقوامی پابندیاں اور سفارتی دبائو شامل ہے، اگرچہ روس سے سستا تیل ملنے کی بازگشت رہی ہے، لیکن روس سے پاکستان تک کا سمندری فاصلہ بہت طویل ہے، جس کی وجہ سے مال برداری (Fright Cost) اور انشورنس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔

دوسری طرف، ایران کے ساتھ پائپ لائن یا باقاعدہ تجارتی راستوں کے بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث بڑے پیمانے پر تیل کی ترسیل ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر جغرافیائی فوائد کے باوجود، پاکستان اپنی توانائی کی سیکیوریٹی برقرار رکھنے اور عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کی خریداری کو ترجیح دینے پر مجبور ہے۔

ماضی میں پاکستان نے ایرانی اور روسی تیل کم مقدار میں خریدا ہے اور آج بھی پاکستان میں ایرانی تیل اسمگل ہوکر آتا ہے۔ تاہم، پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تیل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہی سے خریدتا ہے، جب کہ ایرانی اور روسی تیل کی خریداری میں کئی تیکنیکی، معاشی اور بین الاقوامی وجوہ اور بہت سے مسائل ہیں۔

امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد ہیں، جن کے سبب ایران سے باقاعدہ تجارت پر پاکستانی بینکس پر عالمی پابندیاں لگ سکتی ہیں یا بین الاقوامی ڈالر ٹرانزیکشنز معطّل ہو سکتی ہیں۔ دوسری طرف روس سے تیل کی خریداری پر G7ممالک کی طرف سے قیمت کی حد (Price Cap) مقرر ہے، اور یہاں بھی عالمی مالیاتی نظام کی پابندیوں کا سامنا ہے۔

پاکستان کی موجودہ ریفائنریز مشرقِ وسطیٰ کے (سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وغیرہ) خام تیل کے حساب سے ڈیزائن کی گئی ہیں، جب کہ روسی یا ایرانی خام تیل کی خصوصیات مختلف ہیں، جنھیں استعمال کرنے کے لیے ریفائنریز کی ساخت اور سیٹنگز کی تبدیلی پر بھاری لاگت آئے گی۔ نیز، خلیج سے پاکستان آنے والے آئل ٹینکرز کویہاں پہنچنے میں تقریباً پانچ دن لگتے ہیں، جب کہ روس سے آنے والے آئل ٹینکرز کم سے کم 22دن میں پہنچ جاتے ہیں۔ فاصلہ اور وقت بڑھ جانے سے جہاز کا کرایہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

یوں اگر روسی تیل سستا بھی ملے، تب بھی شپنگ کمپنی زیادہ کرایہ وصول کرتی ہے اور زیادہ کرائے کے سبب پاکستان کوسستے تیل کی بھی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ ایک تیکنیکی مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی ریفائنریز کے لیے روسی تیل کو ریفائن کرنا ایک مشکل کام ہے۔ پاکستان میں کُل پانچ ریفائنریز ہیں اور جتنی پیداوار پاکستانی ریفائنریز سعودی یا یو اے ای کے تیل سے حاصل کرتی ہیں، اتنی روسی تیل سے حاصل نہیں ہوپاتی۔

تاہم، خوش آئند امر یہ ہے کہ اب پاکستان نے اپنی ریفائنریز کو جدید بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے، تو امید ہے کہ ایک دن پاکستان، روسی تیل کو بھی اچھی طرح پراسس کرلے گا۔ اسی طرح پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ نجی شعبے کی معروف آئل ریفائنری، 'سائینرجیکو (Cnergyco) نے امریکی خام تیل کی خریداری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

اس اقدام کو ملکی معاشی منظرنامے اور توانائی کی پالیسی میں ایک بڑی اسٹریٹجک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ واضح رہے، امریکی خام تیل پاکستانی ریفائنریز کے موجودہ ڈھانچے کے مطابق کس حد تک موزوں ہے۔ سو، اگر یہ تجارتی تجربہ کام یاب رہتا ہے، تو مستقبل میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کے روایتی سپلائرز پر انحصار نمایاں حد تک کم ہو جائے گا، جس سے ملک کو سستے تیل کے متبادل ذرائع حاصل ہوں گے۔

سنڈے میگزین سے مزید